Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

ہماری دھرتی بیمار ہے، علاج نہ ہوا تو سب ختم ہو جائے گا۔۔

By Akhtar Rasool
ستمبر 29, 2023 5 Min Read
0

زمین کی موجودہ حالت بظاہر ٹھیک نظر آنے والے ایک ایسے انسان جیسی ہے، جسے اندر ہی اندر کئی مہلک بیماریاں دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر زمین کو لاحق امراض پر فوری قابو نہ پایا گیا تو یہ سیارہ انسان کے رہنے کے قابل نہیں رہے گا

ماہرین زمین کی صحت کا تعین، نو کلیدی شعبوں کی جانچ پرکھ سے کرتے ہیں، جن میں آب و ہوا، کرہ ارض پر موجود حیات کی اقسام، میٹھے پانی کی دستیابی، خوراک کی آلودگی، انسان کے تیار کردہ کیمیکلز کی مقدار، سمندرمیں تیزابیت کی سطح، ہوا میں کاربن کی مقدار ، کرہ فضائی میں اوزون کی تہہ اور زمین کی حالت شامل ہیں

ارضیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ چھ شعبوں میں صورتحال تشویش ناک ہے، جب کہ دو میں حالت بگاڑ کی طرف جا رہی ہے۔ صرف ایک شعبہ ایسا ہے جہاں بتدریج بہتری آ رہی ہے اور وہ ہے کرہ فضائی میں اوزون کی تہہ

جنوبی قطب کے علاقے میں اوزون کی سطح کی پیمائش کے لیے قائم کی گئی ایک لیبارٹری۔ پس منظر میں قطبی روشنیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ کرہ ہوائی میں اوزون کی تہہ میں ایک بڑے شگاف کےانکشاف کے بعد 1987ع میں اوزون کی تہہ کے لیے نقصان دہ تمام کیمیکلز کی پیداوار پر پابندی لگا دی گئی تھی

کرہ ہوائی میں اوزون کی تہہ میں ایک بڑے شگاف کے انکشاف کے بعد 1987 میں اوزون کی تہہ کے لیے نقصان دہ تمام کیمیکلز کی پیداوار پر پابندی لگا دی گئی تھی

زمین کی فضا میں لگ بھگ پندرہ سے تیس کلومیٹر بلندی پر اوزون گیس کی ایک موٹی تہہ موجود ہے، جو خلا سے آنے والی نقصان دہ الٹرا وائلٹ تابکاری کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہیں۔ اگر اوزون نہ ہو تو زمین پر انسان کی بقا مشکل بن سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زمین کے فضائی حصار میں اوزون کی تہہ سن 2066 تک مکمل طور پر بحال ہونے کی توقع ہے

جن دو شعبوں میں صورت حال بتدریج خراب ہو رہی ہے، وہ سمندر میں تیزابیت کی سطح اور ہوا میں کاربن گیس کی مقدار ہے

جرمنی میں قائم آب و ہوا کے مطالعے سے متعلق ایک بین الاقوامی گروپ ’پوٹس ڈیم انسٹیٹیوٹ فار کلائمیٹ امپکٹ ریسرچ‘ کےڈائریکٹر جان راکسٹروم نے حال ہی میں جاری ہونے والی اپنی تحقیق میں کہا ہے ”صورت حال بہت خراب ہے۔ ہماری تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ زمین کا مرض بڑھ رہا ہے۔“

سن 2009ع میں سائنسدانوں نے زمین کی صحت کی جانچ کے لیے نو اہم شعبوں کا تعین کر کے سائنسی بنیادوں پر ان کے اعداد و شمار اکھٹے کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ 2015 کی تحقیق میں 9 میں 5 شعبوں کی صورت حال کو زمین کی صحت کے لیے تشویش ناک قرار دیا گیاتھا۔ جب کہ اب 13 ستمبر کی رپورٹ میں تشویش ناک شعبوں کی فہرست میں ایک اور شعبے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جو پانی ہے۔ راکسٹروم کہتے ہیں کہ پانی اب محفوظ شعبوں کی فہرست سے باہر نکل گیا ہے ۔

ہر آنے والے دن کے ساتھ زمین کو لاحق بیماریوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی علامتیں مختلف اشکال میں ہمارے سامنے آ رہی ہیں۔ مثال کے طور پر پہاڑوں کی چوٹیاں برف سے خالی ہو رہی ہیں۔ موسموں کی شدت بڑھ رہی ہے۔ کہیں طوفانی بارشیں اور سیلاب تباہیاں پھیلاتے ہوئے انسانی جانیں نگل رہے ہیں تو کہیں خشک سالی زندگی سے اس کی روح چھین رہی ہے۔

اسی طرح دریاؤں میں آلودگی بڑھ رہی ہے۔ جنگلات کی آگ معمول بنتی جا رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے زمین دہک کر تانبا ہونے کے دہانے تک پہنچ چکی ہے۔ ہوا میں مضر صحت گیسوں اور ذرات اور سمندروں میں زہر آلود کیمیکلز کی سطح اونچی ہوتی جا رہی ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ کرہ ارض کو لاحق مرض کی وہ علامتیں ہیں جو حیات اور نباتات کی تمام اقسام کا پنپنا ناممکن بنا دیں گی۔ اور جب یہاں زندگی ہی نہیں رہے گی تو یہ ایک مردہ سیارہ بن جائے گا

سائنسدان کہتے ہیں کہ ہمارے پاس دستیاب وقت تیزی سے گھٹ رہا ہے۔ اگر ہمیں زندہ رہنا ہے تو زمین کی صحت کے لیے تیزی سے کام کرنا ہو گا اور ہمیں ہر صورت زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو روکنا اور اسے بیسویں صدی کی سطح پر واپس لانا ہوگا۔

زمین کی بیماری اور بیسویں صدی میں صنعتی ترقی کی شروعات ایک ساتھ ہوئی ہیں۔ صنعتی ترقی ہی زمین کی صحت کے بگاڑ کا اصل سبب ہے۔ انسان نے صنعت کا پہیہ چلانے کے لیے معدنی ایندھن جلانا شروع کیا اور اس سے نکلنے والی کاربن گیسیں زمین کی فضا کے قدرتی نظام میں خلل ڈالنے لگیں

اربوں برسوں سے یہ نظام کچھ اس طرح چل رہا تھا کہ سورج سے آنے والی حرارت کی لہریں زمین کو گرم کرتی تھیں اور رات کو زمین حرارت کو واپس خلا میں پلٹ دیتی تھی جس سے زمین کا درجہ حرارت قدرتی معمول پر رہتا تھا۔ لیکن کاربن گیسوں کی خاصیت یہ ہے کہ وہ حرارت کو واپس جانے سے روک دیتی ہیں۔ چنانچہ جیسے جیسے فضا میں کاربن گیسوں کی مقدار بڑھتی گئی، زمین کے درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ اسے گلوبل وارمنگ کہتے ہیں جس کے اثرات کا ہم سب کچھ برسوں سے سامنا کر رہے ہیں

زمین کے اس بنیادی مرض کا علاج یہ ہے کہ کاربن گیسوں کا اخراج بند کیا جائے تاکہ بڑھے ہوئے درجہ حرارت کو رفتہ رفتہ اپنی قدرتی سطح پر واپس آنے کا موقع مل سکے

دنیا بھر کے سائنسدان اسی حل پر زور دے رہے ہیں۔ اسی موضوع پر عالمی کانفرنسیں ہو رہی ہیں۔ معدنی ایندھن کے متبادل ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ لیکن انسان نے دو صدیوں میں ترقی کا جو ڈھانچہ کھڑا کیا ہے، اسے شفاف اور ماحول دوست توانائی پر منتقل کرنے میں کثیر سرمایہ اور طویل وقت لگے گا

مسئلہ یہ ہے کہ انسان کے پاس لا محدود وسائل اور زمین کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ اس لیے کوئی درمیانی راستہ نکالنا ہوگا

ماہرین کہتے ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ دنیا کاربن گیسوں کا اخراج گھٹانے کی کوشش کر رہی ہے، ہمیں زمین کی بیماری کی دوسری علامتوں کے ازالے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، جن میں ہوا اور پانی کی آلودگی پر قابو پانا، پلاسٹک اور پیٹرو کیمیکلز کا استعمال گھٹانا، اور جنگلات اور جنگلی حیات کا تحفظ شامل ہیں۔ اور ان شعبوں میں پیدا ہونے والی خرابیاں دور کرنے کی کوششوں کو ایک ساتھ آگے بڑھانا وقت کا اہم تقاضا بن چکا ہے۔

Tags:

Air Pollutionair pollution 101air pollution and controlair pollution causes effects and solutionsair pollution controlair pollution documentaryair pollution for kidsair pollution songair pollution videoangry earthbaby earthcan we stop global warmingcauses of air pollutioncauses of global warmingcauses of water pollutioncontrol of soil pollutioncube earthdelhi air pollutiondelhi pollutiondying earthEarthearth commissionearth dayearth gets sickearth informationearth is dyingearth is sickearth sickearth songearths resourceseffects of global warmingeffects of soil pollutioneffects of water pollutionEnvironmental PollutionFarmingGlobalGlobal warmingglobal warming 2019global warming and its effectsglobal warming animationglobal warming causesglobal warming definitionglobal warming documentaryglobal warming effectsglobal warming for kidsglobal warming newsglobal warming solutionglobal warming videoglobal warming videoshow to reduce air pollutionland pollutionlearn about water pollutionlearn water pollutionplanet earthplanet is falling sick.Pollutionpollution (quotation subject)pollution for kidssave earthsave the earthsave the earth songsaver our motherland earth is sick environment safetysoil pollutionsoil pollution causes effects and solutionssoil pollution drawingsoil pollution effectssoil pollution in hindisoil pollution projectsoil pollution videosources of soil pollutionstop soil pollutionthe earth has gotten sickthe earth is dyingthe music scientist earthtypes of pollutiontypes of soil pollutionuk air pollutionWarmingWaterWater Pollutionwater pollution animationwater pollution causeswater pollution documentarywater pollution effectswater pollution essaywater pollution factswater pollution for kidswater pollution projectwater pollution reasonwater pollution solutionswater pollution videowhat causes air pollutionwhat causes water pollutionwhat is air pollutionwhat is global warmingwhat is pollutionwhat is soil pollutionwhat is water pollutionwhen the earth is dyingwhen the earth is in hospital
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

بیماریوں کی تشخیص کے لیے مہنگے ٹیسٹوں کے نتائج پر کتنا بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟

Next

پیاری پیاری نفاست پہ لاکھوں سلام

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme