Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

گھر آیا میرا پردیسی

By Akhtar Rasool
اکتوبر 22, 2023 3 Min Read
0

عرصہ ہوا، ایک داستان گو دوست سے ایک کہانی نما لطیفہ سنا تھا۔۔ جو بھلائے نہیں بھولتا۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ اس کا اطلاق ہمارے معاشرے کے اکثر معاملات پر ہوتا ہے۔

اکثر لطائف کی طرح اس میں بھی ایک مضحکہ خیز پہلو ہے۔۔ کہ یہ نہ ہو تو پھر وہ لطیفہ ہی کیا۔۔ لیکن کچھ یوں بھی ہے، کہ سوچو تو بہت کچھ ہے اس میں سمجھنے کے لیے

داستان گو نے کیا ہی دلپذیر انداز میں سنایا تھا، مجھے تو بس اِس کا سنانا مقصود ہے، سو دلپذیری تو رہنے ہی دیتے ہیں

کہا تھا:
کہیں ایک بڑا شیخی خور شخص رہتا تھا۔۔ اپنی طاقت، اپنی کامیابیوں، اپنی بہادری کی شیخیاں یوں چاٹ مصالحے لگا کر بیاں کرتا کہ سننے والے عش عش کر اٹھتے

کہتے ہیں کہ بیوی تو شوہر کی ہر کمی کمزوری سے واقف ہوتی ہے، لیکن وہ شخص کچھ ایسا ڈھیٹ واقع ہوا تھا کہ بیوی کے سامنے بھی ان قصوں کو سنانے سے باز نہ آتا

ایک دن ہوا کچھ یوں، کہ وہ حسبِ معمول بیوی کو اپنی بہادری کے قصے سنا رہا تھا۔۔ وہ فرطِ جذبات سے مغلوب جوش و ولولہ کی رو میں بہتا اور حاملہ بیوی کو بھی اپنے ساتھ بہائے چلا جا رہا تھا کہ اسی اثناء میں بدقسمتی سے صبح کے ڈٹ کر کھائے ہوئے پائے کے ناشتے نے کام خراب کر دیا اور شکم شریف میں بھری ریح، گوز بن کر گونجی۔۔

جذبات میں اٹھا اس کا ہاتھ وہیں ہوا میں معلق ہو کر رہ گیا۔۔ اور مُنھ کھلے کا کھلا۔۔۔ گوز کی گونج تھمی تو ایک وقفے کی گہری خاموشی کے بعد بیوی کی وہ ہنسی چھوٹی کہ الامان۔۔۔ قہقہوں کا ایک طوفان تھا کہ تھمے نہ تھمتا تھا

وہ کپڑے جھاڑ کر غصّے میں اٹھا اور اپنی گونج دار ریح کی طرح یہ جا وہ جا۔۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ پردیس چلا گیا۔۔ اور وہاں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی۔۔ بہت عرصہ گزر گیا۔۔ جب بھی لَوٹنے کا ارادہ کرتا تو اسے بیوی کا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جانا یاد آ جاتا۔۔ تو لَوٹنے کا ارادہ ترک کر دیتا۔۔

لیکن آخر کب تک وہ اس خود ساختہ جلا وطنی کو جھیل پاتا۔۔ اسے اپنے لوگوں کے سامنے وہ اپنی بہادری کے قصے سنانا شدت سے یاد آتا۔۔ یہ نشہ وہاں کیسے پورا ہوتا۔۔ ایک امید بھی تھی کہ اتنا عرصہ ہوا، اب تو بیوی اس بات کو بھول بھی چکی ہوگی۔۔ سو ایک دن ہمت باندھی اور ساتھ میں رخت سفر بھی، اور خود ساختہ جلا وطنی تج کر وطن کو سدھارا

جس وقت وہ اپنے گاؤں میں گلی کی نکڑ پر پہنچا تو دن ڈھل چکا تھا، ایک بار پھر دل دھک دھک کرنے لگا، لیکن ایک امید تھی کہ اب تو بیوی سب بھول بھال چکی ہوگی

چھپتا چھپاتا گھر کے دروازے تک آ پہنچا، اور ایک طرف دبک کر کھڑا ہو گیا۔۔ کیا دیکھتا ہے کہ وہ جس بیوی کو حاملہ چھوڑ گیا ہے، ایک ننھی سی بچی اس کے سامنے بیٹھی ہے اور وہ اسے کھانا کھلا رہی ہے

بچی کھانا نہیں کھا رہی اور ضد پر اڑی ہوئی ہے کہ ماں تم ہمیشہ کہتی ہو ابا جلدی آ جائے گا۔۔ آخر وہ اب تک کیوں نہیں آیا۔۔ ماں دوپٹہ منھ میں دبائے چپ۔۔۔ خاموش۔۔ معلوم نہیں کہ وہ رونا روک رہی ہے یا اپنا ہاسا۔۔۔

بچی کی ضد بڑھتی رہتی ہے۔۔ ماں کو غصہ چڑھنے لگتا ہے۔۔
بچی ضد کرتے کرتے پوچھتی ہے۔۔ لیکن امی، ابا چلے کیوں گئے تھے۔۔ ماں کے منہ سے بے اختیار غصے کے عالم میں نکل جاتا ہے کہ لے سن! تمہارے ابا ’یہ کارنامہ‘ سر انجام دے کر گھر سے بھاگ گئے تھے۔۔! اور پھر اس کا غصہ ہوا جاتا ہے۔۔ اور اس کا وہی بے قابو ہاسا چھوٹ جاتا ہے۔۔ وہ ہنستے ہنستے زمین پر دوہری ہو جاتی ہے، ماں کو یوں ہنستا دیکھ کر بچی بھی کھلکھلا کر ہنس پڑتی ہے

ادہر دبک کر کھڑا وہ شخص، جو اس امید پر لوٹا تھا کہ اب تو بیوی سب کچھ بھول بھال چکی ہوگی۔۔۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹا دیکھا۔۔ یہاں تو بیوی کی ہنسی پر اب بچی کی ہنسی کا تڑکا بھی لگ چکا ہے

کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ شخص وہیں سے الٹے پاؤں لوٹ گیا۔۔۔

لیجیے، قصے والا لطیفہ تو ختم ہوا۔۔۔ لیکن ہمارے ملک میں لگے تماشے کا لطیفہ ہنوز جاری ہے۔۔ خود ساختہ جلا وطنی تمام ہوئی۔۔ زوجہ محترمہ، عالیہ ہو کہ عظمٰی، سب کچھ بھول بھال چکی۔۔ سو شیخیوں پر مبنی بہادری اور کامیابیوں کے قصے سننے کے لیے تیار رہیں۔۔

Tags:

10 pakistani politicians funny momentsaward winning pakistani moviebe a pakistanibest pakistani movieCircuscircus of lifecomedy circuscomedy circus clipscomedy circus ka naya daurcomedy circus old episodesfunny pakistanifunny pakistani peoplefunny pakistani politiciansfunny pakistani politicians videosfunny political moments pakistanfunny politiciansfunny politicians in pakistanfunny politicians pakistanLucky Irani Circuslucky irani circus pakistannew pakistani film zindagi tamashanew pakistani moviePakistanpakistan newsPakistanipakistani circuspakistani circus show held in karachipakistani funny politicianspakistani politician fightsPakistani Politicianspakistani politicians funnypakistani politicians funny momentspakistani politicians funny videosPolitical Circusthe great odisha political circusthe great pakistan circusupcoming pakistani movie in 2020
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

جھوٹ کے پاؤں بالکل ہوتے ہیں!

Next

کمپیوٹر اور سمارٹ فون کی اسکرین سے آنکھوں کو کیسے محفوظ رکھیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme