Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

جرمن شہری کی کہانی، جس نے اپنی کالاشی بیوی کے لیے ’کالاشہ زبان‘ میں گانا لکھ دیا

By Akhtar Rasool
نومبر 16, 2023 3 Min Read
0

الیگزینڈر ایک جرمن شہری ہیں، لیکن وادیِ کالاش سے محبت ان کے جسم و جاں میں دوڑ رہی ہے کیوں کہ ان کی اہلیہ کا تعلق بھی اسی خوبصورت اور تاریخی وادی سے ہے، جس میں ہزاروں سال سے کالاش قبیلہ آباد ہے، جو اپنی منفرد تاریخی پسِ منظر اور رسومات کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہے

الیگزینڈر نے اس محبت کا اظہار کالاشی زبان یعنی کالاشہ میں شاعری کرکے کیا تو ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور ایک مقامی بینڈ نے ان کے لکھے گیت کو جب موسیقی کے سروں میں ڈھالا تو اس کی گونج وادی کے بلند و بالا پہاڑوں کے پار بھی سنی گئی

اس گیت کو صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کے معروف کالاش بینڈ کے دو مقامی گلوکاروں حسن شاہ اور زرمینہ کالاش نے گایا ہے

بینڈ کے گلوکار حسن شاہ کے مطابق الیگزینڈر کی خواہش تھی کہ ان کے تخیلات کالاشہ زبان میں بیان کیے جائیں، اسی لیے ہمارے بینڈ نے ان کے اس گیت کو انہیں ٹریبیوٹ پیش کرنے کے لیے گایا ہے

حسن کہتے ہیں ”اس شاعری میں محبوب سے ملاقات اور ہجر کے لمحات کا ذکر کیا گیا ہے۔ گیت میں مقامی موسیقی کے آلات جیسے چترالی ستار، پیانو اور ڈھول کا ساز بھی استعمال کیا گیا ہے“

ان کے مطابق ”یہ گیت الیگزینڈر کو بہت پسند آیا ہے اور انہوں نے ہمارے بینڈ کے لیے تعریفی پیغام بھی ارسال کیا ہے“

گلوکار حسن کے مطابق کالاش بینڈ ایک سال قبل بنایا گیا تھا، جس میں دو خواتین اور پانچ میل سنگر موجود ہیں

جرمنی شہری، جنہوں نے یہ گیت لکھا ہے، کے بارے میں کالاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے محکمۂ آثار قدیمہ کے افسر سید گل کالاش کے مطابق، الیگزینڈر کا تعلق اگرچہ بلغاریہ سے ہے مگر وہ پچھلے کئی برسوں سے خاندان سمیت جرمنی میں مقیم ہیں

سید گل نے بتایا ”الیگزینڈر نے سنہ 2014 میں کراکھال گاؤں میں کالاشی خاتون شمیم بی بی سے شادی کی۔ الیگزینڈر کو وادی کیلاش کے لوگوں سے دلی لگاؤ ہے۔ وہ شادی کے بعد وقتاً فوقتاً اپنے سسرال یعنی کالاش آتے رہتے ہیں اور اکثر اوقات ہماری مذہبی رسومات میں بھی شرکت کرتے ہیں“

وادیِ کالاش کے سماجی ورکر عجب کالاش کا کہنا ہے ”الیگزینڈر نے کالاشی تہذیب اور رسم و رواج پر کافی تحقیق کی ہے۔ انہوں نے کالاشی زبان کی متعدد کتابیں پڑھی ہیں، تاہم ان کی اہلیہ شمیم کالاش بھی اپنے شوہر کو کالاشہ زبان سیکھنے میں مدد کرتی رہتی ہیں“

انہوں نے جرمن شہری الیگزینڈر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”ہماری زبان کو فروغ دینے کے لیے ایسی مزید شاعری کی جانی چاہیے“

عجب کا کہنا ہے ”نئے گانے کو کالاش قبیلے کے تمام ارکان نے بہت سراہا ہے اور آج کل اس کے بول ہر کسی کی زبان پر ہیں“

سید گل کو بھی یہ گانا سن کر اچھا لگا ”کیونکہ پہلی بار کسی غیر ملکی نے کالاشہ زبان میں گیت لکھا ہے“

واضح رہے کہ کالاش قبیلے سے تعلق رکھنے والی دو گلوکارائیں اریانا اور امرینہ سال 2018 میں کوک اسٹوڈیو کے لیے مشہور گانا ’پاریک‘ گا چکی ہیں

ضلع چترال کی وادیِ کالاش میں ہزاروں سال سے کالاش قوم بستی ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سکندر اعظم (الیگزینڈر دی گریٹ) کی نسل سے ہے۔ کالاش قبیلہ اپنے منفرد رسم و رواج کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔

Tags:

afghans refugees have no permanent citizenship in indiaever smiling kalash people of chitralKalashkalash songkalash tribes in chitralkalash valley history in urdukalasha populationkalasha speaking population in chitralmy little pony theme songrespect kalash people in chitralrise of the planet of the apessimplicity of kalash people in chitralwhat american girls think of indianwhat is the kalash culturewho are the kalash people
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

خزاں کے آنسو

Next

کیا نئی ٹیکنالوجی، موبائل فونز کی بھی چُھٹی کرا دے گی؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme