Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

لانگ مارچ شرکاء پر بدترین تشدد اور گرفتاری، سندھ بھر میں شدید احتجاج

By Akhtar Rasool
دسمبر 31, 2020 3 Min Read
0

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے گذشتہ ماہ کی دس تاریخ سے کراچی سے روانہ ہونے والے پیدل لانگ مارچ کے شرکاء کو مارچ کے 51ویں روز گزشتہ شب سندھ پنجاب سرحد کے قریب اوباوڑو کے مقام پر زبردستی روک دیا گیا

یہ مارچ پچاس دن تک کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا منگل کو جب پنجاب کی سرحد پر واقع سندھ کے ضلع گھوٹکی کے شہر اوباوڑو پہنچا تو پولیس نے انھیں آگے بڑھنے سے روک دیا، شرکاء پر بدترین تشدد کیا اور خواتین کے ساتھ بھی انتہائی بدسلوکی کی گئی، جب کہ کئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا.

گرفتار ہونے والوں میں مارچ کی قیادت کرنے والے سندھ سبھا کے رہنما سندھی انعام کے علاوہ کئی خواتین و مرد کارکنان اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ شامل ہیں. اس موقع پر مارچ کے شرکاء کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور خواتین کے ساتھ بدترین سلوک روا رکھا گیا

مارچ میں شریک شازیہ چانڈیو نے بتایا کہ اوباوڑو پولیس نے پہلے تو ہمیں کہا کہ انہیں پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ مارچ کے شرکا کو کورونا ٹیسٹ کے بغیر پنجاب میں داخل نہ ہونے دیں، اس پر ہم نے پولیس سے کہا کہ ہم نے ٹیسٹ کروا لیے ہیں جن کے نتائج شام تک آئیں گے۔

واضح رہے کہ شازیہ کے نوجوان طالب علم بھائی عاقب چانڈیو دو سال قبل لاپتہ ہو گئے تھے، وہ تب سے اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے کراچی اور حیدرآباد میں ہونے والے اس احتجاج میں شریک ہیں۔ ان کی طرح کئی لاپتہ افراد کے اہل خانہ مارچ میں شریک تھے.

شازیہ کے مطابق بعد میں پولیس نے کہا سندھ سبھا کے سربراہ سندھی انعام پر بھٹ شاہ تھانے میں ایک کیس درج ہوا ہے، لہٰذا وہ انہیں گرفتار کریں گے، اس پر مظاہرین نے مزاحمت کی مگر رات کو پولیس نے بجلی بند کر کے ان کے احتجاجی کیمپ پر اچانک دھاوا بول دیا

انہوں نے کہا کہ پولیس کے ساتھ رینجرز اور سادہ کپڑوں میں نقاب پوشوں نے سندھی انعام  سمیت کئی افراد اور خواتین کو گرفتار کر کے تھانے میں بند کر دیا، بعد میں شہریوں کی بڑی تعداد کے آنے پر خواتین کو تو چھوڑ دیا گیا مگر سندھی انعام سمیت کئی کارکن تاحال حراست میں ہیں

ایس ایچ او اوباوڑو غلام عباس سُندرانی نے رابطہ کرنے پر اس واقعے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں منع کیا گیا ہے کہ وہ بات نہ کریں

بعدازاں سندھی انعام سمیت چھ کارکنان کو بھٹ شاہ پولیس نے آج دوپہر کے بعد ہتھکڑیاں لگا کرعدالت میں پیش کیا، جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہو گئی. سندھی انعام کا کہنا تھا کہ ہم اپنے لاپتہ ہونے والے لوگوں کی بازیابی کے لیے پرامن مارچ کر رہے ہیں ، جو ہمارا بنیادی انسانی اور آئینی حق ہے، ہمیں جواب چاہیے. انہوں نے ہتھکڑیاں لہراتے ہوئے کہا  "لیکن ہمیں ہمارے جائز سوال کا یہ جواب دیا جا رہا ہے”

سندھی انعام نے کہا کہ سندھ جبر تو برداشت کر سکتا ہے، لیکن تذلیل کسی صورت میں بھی نہیں. ہم کسی بھی حالت میں اپنی منزل تک پہنچیں گے اور راولپنڈی میں دھرنا دیں گے

اس موقع پر گرفتار شدگان کے وکیل کا کہنا تھا کہ کم از کم پندرہ سے سولہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں خواتین بھی شامل ہیں. ان میں سے ابھی صرف چھ کارکنوں کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے، جب کہ باقی ساتھیوں کا کوئی اتہ پتہ نہیں

دوسری جانب قافلے پر تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف آج سندھ کی تمام سیاسی، سماجی اور قوم پرست جماعتوں کی جانب سے کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ ،نوابشاہ ،سکھر، ٹھری میرواہ، اباوڑو سمیت پورے سندھ میں سخت احتجاج کیا گیا

اس موقع پر مقررین نے قافلے کے تمام گرفتار ہونے والے شرکاء کی آزادی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا

مقررین نے شرکاء پر تشدد اور خواتین کے ساتھ بدترین سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پرامن احتجاج کو تشدد کے ذریعے روکنا ریاستی اداروں کے ظلم، تشدد و جارحیت کی آخری حد ہے،  جس کے خلاف سندھی قوم کو اپنا بھرپور ردعمل دینے کی ضرورت ہے۔

احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس مسئلے پر شدید احتجاجوں کا سلسلہ تب تک جاری رہے گا ،جب تک گرفتار کیے گئے پیدل قافلے کے سارے شرکاء اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو آزاد کیا نہیں جاتا۔

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ﻟﯿﻮﻧﻞ ﻣﯿﺴﯽ نے بئی خواہش کا اظہار کر دیا

Next

سردی میں ﺳﯿﺎﺳﯽ گرمی،  پی پی ﻭﻓﺪ ﮐﯽ ﺍﯾﻢ ﮐﯿﻮ ﺍﯾﻢ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ، ﻓﻨﮑﺸﻨﻞ ﻟﯿﮓ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺑﻄﮧ، پی ٹی آئی نے بھی اتحادی جماعت سے رابطہ کر لیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme