Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

American-backdoor-to-Israeli-military-aid-
کالماہم ترینتازہ ترین

اسرائیلی فوجی امداد کا امریکی چور دروازہ

By Akhtar Rasool
مارچ 10, 2024 5 Min Read
0

سات مارچ کو غزہ کو خونی غسل دیے جانے کے چھ ماہ مکمل ہو گئے۔

گزشتہ برس اسرائیل کی نسل پرست حکومت نے مقبوضہ غربِ اردن میں غاصب یہودی آبادکاروں کے لیے مزید اٹھارہ ہزار گھر بنانے کا اعلان کیا۔ ان میں سے ساڑھے تین ہزار گھروں کی فوری تعمیر کی پچھلے ہفتے منظوری دے دی گئی۔

اس مقصد کے لیے فلسطینیوں کی مزید سیکڑوں ایکڑ زمین سرکار نے اپنے قبضے میں لے کے وہاں سے مقامی باشندوں کو بزور نکالنے کی مسلح آبادکار مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس نئے اعلان کی مذمت کرنے والوں میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن تو خیر ہیں ہی، اسرائیل کے جگری اتحادی جرمنی نے بھی پرائی زمین میں نئے گھروں کی تعمیر بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس منصوبے کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جب کہ اسرائیل کے سرپرستِ اعلیٰ امریکا کے وزیرِ خارجہ انٹنی بلنکن نے بھی حیرت انگیز طور پر نئی آبادکار پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے اسرائیل مزید غیر محفوظ ہوگا۔

مگر اسرائیل ہمیشہ سے عالمی برادری کی تشویش و مطالبات جوتے کی نوک پر رکھتا آیا ہے۔ اسے اچھے سے معلوم ہے کہ یہ تشویش کس قدر عارضی اور کھوکھلی ہے۔

اگر اسرائیل کے مرید ممالک کو یہودی آبادکاری کا تازہ منصوبہ واقعی بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتا نظر آ رہا ہے تو اسے روکنے کے لیے اسرائیل کے خلاف تادیبی اقتصادی و عسکری پابندیوں کا اعلان کرتے یا کم از کم اس بابت دھمکی ضرور دیتے۔

بظاہر تشویش اور درحقیقت اسرائیل کی پہلے سے زیادہ بھرپور سفارتی ، اقتصادی اور فوجی حمایت کے مغربی رجحان میں رتی برابر کمی تو خیر کیا آتی نوازنے کا سلسلہ اور دراز ہو گیا ہے۔ مثلاً غزہ کے ادھ موئے فلسطینیوں پر فضا سے خوراک کے پیکٹ گرا کے ان کے زخموں پر ایک جانب امریکی نمک چھڑکا جا رہا ہے اور دوسری جانب جنگ بندی کی ہر قرار داد کو ویٹو بھی کیا جا رہا ہے۔

حتیٰ کہ زمینی راستے سے غزہ کو انسانی امداد پہنچانے کے لیے اسرائیل پر ضروری دباؤ بھی دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ ایک پیکٹ خوراک کے بدلے اسرائیل کو دس اسمارٹ بم سپلائی کیے جا رہے ہیں۔ حالانکہ غزہ کو اب یہ خونی اعزاز بھی مل چکا ہے کہ اتنے مختصر علاقے پر اتنی مسلسل بمباری انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوئی۔

موقر برطانوی اخبار گارڈین کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کانگریس کی ریارکارانہ اسکروٹنی سے بچنے کے لیے اب اسرائیل کو چور دروازے سے مسلسل سامانِ حرب بھجوا رہی ہے۔ گزشتہ ماہ امریکی کانگریس نے ساٹھ ارب ڈالر کی فوجی و اقتصادی امداد کا جو بل منظور کیا، اس میں اسرائیل کے لیے مزید ساڑھے چودہ ارب ڈالر مختص کیے جا چکے ہیں۔۔ مگر کہانی یہاں پر بھی نہیں رکی۔

اب معلوم ہوا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کے تحت اسرائیل کو لگاتار اسلحہ پہنچا رہی ہے۔ اس قانون کے تحت دوست ممالک کو پچیس ملین ڈالر تک کے انتہائی جدید آلات اور ایک سو ملین ڈالر تک کا روایتی اسلحہ فروِخت کرنے کے لیے امریکی انتظامیہ کو کانگریس کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوتی۔

گزشتہ ماہ ایک ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس نے اس چور دروازے کو بند کرنے کے لیے جو ترمیمی بل پیش کیا، وہ بھاری اکثریت سے مسترد ہو گیا۔ چنانچہ پچھلے چار ماہ کے دوران امریکا نے اسرائیل کو پانچ سو تہتر ملین ڈالر کا اسلحہ اس رقم کے سو ٹکڑے کر کے بجھوایا ہے، تاکہ معاملہ کانگریس کے سامنے جائے بغیر ’’قانونی حدود‘‘ میں رہتے ہوئے نپٹتا رہے۔

چونکہ اتنی محدود مالیت کے دفاعی آلات کی فراہمی کی کانگریشنل اسکروٹنی بھی نہیں ہوتی، لہٰذا بائیڈن انتظامیہ یہ بتانے کی بھی کسی کو پابند نہیں کہ امداد میں کیا کیا بھیجا جا رہا ہے۔

مگر میڈیائی کھوجیوں کا کہنا ہے کہ اس ’’قانونی چور دروازے‘‘ سے اسرائیل کو وہ تمام اشیا بھجوائی جا رہی ہیں، جو وہ غزہ کو بالکل ہموار کرنے اور بھوکے پیاسے مکینوں کو زندگی کے عذاب سے نجات دلانے کے لیے بے دریغ استعمال کر رہا ہے۔ مثلاً اسمارٹ بم، چھوٹے دائرے میں زیادہ تباہی پھیلانے والے بم، بنکر تباہ کرنے والے بم، چھوٹے ہتھیار اور بموں اور گولوں کی درست نشانے تک رہنمائی کرنے والا سسٹم۔۔

البتہ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے محدود قانونی حدود میں اسرائیل کو قسط وار عسکری سپلائی کے معاملے پر کانگریس کی متعلقہ کمیٹی کو بند کمرے میں بریفنگ دی ہے۔

آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ میں پوشیدہ چور دروازوں کا استعمال کوئی نئی بات نہیں۔دو ہزار سترہ تا انیس ٹرمپ انتظامیہ نے اسی ترکیب سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو چار ہزار دو سو اکیس مالیاتی ٹکڑیوں میں گیارہ اعشاریہ دو ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔

اسرائیل کو اسلحے کی جو پوشیدہ سپلائی مسلسل ہو رہی ہے، وہ تین اعلان کردہ سپلائیز کے علاوہ ہے۔ مثلاً بائیڈن انتظامیہ نے کانگریس کی منظوری سے نومبر میں تین سو بیس ملین ڈالر مالیت کے ’’پرسیٹرن بم‘‘ کی بھاری کھیپ بھجوائی۔ جب کہ دسمبر میں ایک سو چھ ملین ڈالر مالیت کے ٹینکوں کے گولے اور ایک سو اڑتالیس ملین ڈالر کے ایک سو پچپن ملی میٹر کی توپوں میں استعمال ہونے والے گولے فروخت کیے۔

حالانکہ خود بائیڈن کی جماعت کے تیس ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس نے صدر کے نام ایک مشترکہ خط میں اسرائیل کی غزہ مہم کی غیر مشروط حمایت کی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے مگر محکمہ خارجہ کی ڈھٹائی اپنی جگہ قابلِ داد ہے۔

ترجمان میتھیو ملر کے بقول ’’اسرائیل کو اسلحے کی بلاتعطل ترسیل اسرائیل کے ترجیحی دفاع کی بنیادی امریکی پالیسی کا تسلسل ہے۔ اس کا مقصد اسرائیل کی ان کوششوں کا ساتھ دینا ہے، جن کا مقصد آیندہ سات اکتوبر جیسے حملوں کی روک تھام یقینی بنانا ہے۔ ہم بین الاقوامی انسانی قوانین کے دائرے میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی کی حمایت کرتے رہیں گے۔‘‘

محکمہ خارجہ کے ترجمان کے اس بیان کے بعد بھی اگر کوئی سادہ لوح توقع باندھے بیٹھا ہے کہ امریکا محض زبانی نہیں، بلکہ عملاً بھی ایک خودمختار و آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششیں کر رہا ہے تو ایسے شخص کو فوراً کسی اچھے معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

azadi e sahafatbaat se baat wusatullah khanlatest column of wusatullah khanmillat ka pasbanMuhammad Ali Jinnahrana sana ullahtalu e sahr hay sham e qalanderwasatullah khanwasatullah khan |talk |ayaz melo 2018wusatullahwusatullah bbcwusatullah dawnwusatullah dawn newswusatullah interviewwusatullah khanwusatullah khan baat se baatwusatullah khan baat se baat latestwusatullah khan fanswusatullah pervaizzara hat kayzara hat kay dawn
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
How-to-keep-the-brain-young-despite-aging
Previous

عمر بڑھنے کے باوجود دماغ کو کیسے جوان رکھا جائے؟

A-travelogue-of-words.-Languages-Third-and-Final-Part
Next

الفاظ کا سفرنامہ۔ زبانیں (تیسرا اور آخری حصہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme