Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

How-did-common-people-live-in-Roman-society-Dr-Mubarak-Ali
کالماہم ترینتازہ ترین

رومی معاشرے میں عام لوگ کیسے زندگی گزارتے تھے؟

By Akhtar Rasool
اپریل 14, 2024 5 Min Read
0

قدیم روم میں عام لوگ کس طرح کی زندگی گزارتے تھے، ان کے روزمرہ کے معمولات کیا تھے۔ مورخوں کے لیے ان معمولات کو اکٹھا کر کے روزمرہ کی زندگی کو تشکیل کرنا مشکل کام ہے۔

اس قسم کی معلومات کے ذرائع یا تو آثارِ قدیمہ ہیں یا سرکاری عہدیداروں کی رپورٹیں جو باقی رہ گئیں، یا پھر اس زمانے کی کتابوں میں ادھر ادھر بکھرے ہوئے عام لوگوں کی زندگی کے واقعات کا سرسری ذکر۔

برائن کے ہاروے نے اپنی کتاب ’قدیم روم میں روزمرہ زندگی Daily life in Ancient Rome میں عام لوگوں کی زندگی کے بارے میں تفصیل دی ہے۔

اس دور کے ایک عام آدمی کے کام کے اوقات سورج نکلنے سے سورج غروب ہونے تک ہوتے تھے۔ رات کے اندھیرے میں کوئی کام نہیں ہوتا تھا، کیوں کہ عام گھروں میں روشنی کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔

دستور یہ تھا کہ صبح کے وقت سب سے پہلے عام لوگ اپنے سرپرست امیر کی حویلی میں سلام کے لیے جاتے تھے۔ یہ اس لیے ضروری تھا کیونکہ امیر ان کی ملازمت اور کھانے پینے میں مدد کرتا تھا۔ اس کے بدلے میں اس کے حامی انتخاب میں اسے ووٹ دیتے تھے۔ لیکن کبھی کبھی امیر سے ملنا مشکل ہوتا تھا۔

اس کی حویلی کا چوکیدار لوگوں کو یہ کہہ کر واپس کر دیتا تھا کہ صاحب یا تو سو رہے ہیں یا انہیں فرصت نہیں ہے۔ امرا اور عالم لوگوں کے درمیان سلام کی رسم کی وجہ سے ان میں باہمی ربط رہتا تھا۔ دونوں باہمی تعلقات کو قائم رکھنا چاہتے تھے۔

عام لوگوں کی سرگرمیوں کا مرکز بازار ہوا کرتا تھا۔ خصوصیت سے روم شہر کے بازار کی چہل پہل اور رونق اس کی آبادی کی وجہ سے ہوتی تھی۔ سڑکوں پر اس قدر ہجوم ہوتا تھا کہ کھوا سے کھوا ٹکراتا تھا۔ گاڑیوں کا شور گھڑ سواروں کا آنا جانا، پیدل چلنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہ چھوڑتا تھا۔ امرا اپنی پالتیوں میں سفر کرتے تھے۔ شور و غل کی وجہ سے جن کے مکانات بازار کے قریب تھے، وہ سو نہیں سکتے تھے۔

پومپے کا شہر آتش فشاں لاوے میں دَب گیا تھا، اس لیے جب لاوا ہٹایا گیا، تو پورا شہر اپنی اصلی حالت میں واپس آ گیا۔ اس شہر کے آثار سے وہاں کی عام زندگی کے متعدد نمونے ملتے ہیں۔

مثال کے طور پر شہر کی دیواروں پر لوگوں نے بطور اشتہار لوگوں سے اپیل کی تھی۔ مثلاً شہر کے میئر کے لیے مختلف لوگوں نے اپنے اپنے امیدواروں کے نام دیے کہ انہیں ووٹ دے کر منتخب کریں۔ دکانداروں نے اپنی اشیا کی فروخت کے لیے لوگوں سے اپیل کی تھی۔ نوجوانوں نے اپنی محبوبہ سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے، اسے اپنی وفاداری کا یقین دِلایا ہوا تھا۔ ان تحریروں میں لوگوں نے اپنے دشمنوں کو بددعائیں بھی دیں ہوئی تھیں، اور دیوی دیوتاؤں سے کہا تھا کہ ان کو سزا دے کر ان کی زندگی کو خراب کر دے۔ دیوار پر لکھی ہوئی ان تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے جذبات اور خیالات میں اور آج کل کے ماحول میں کوئی فرق نہ تھا۔

عام لوگ اپنی روزی کمانے کے لیے مختلف پیشے اختیار کرتے تھے۔ مثلاً مچھلی فروش، قصائی، بڑھئی، موچی اور حجام۔ رومی لوگ کلین شیو ہوتے تھے۔ داڑھی رکھنے کا رواج نہ تھا۔ بیکری والے روٹی سپلائی کرتے تھے۔ سکول کے طالبعلم سکول جاتے ہوئے بیکری سے پیسٹری خرید کر ناشتہ کرتے تھے۔

صبح کے وقت پھلوں اور سبزی کی منڈیاں لگا کرتی تھیں۔ یہ کھلے میدان میں ہوتی تھیں یا سٹیڈیم میں اس وقت لگائیں جاتی تھیں۔ عام شہری ان منڈیوں سے روزمرہ کے کھانے پینے کی اشیا خریدتے تھے۔

جہاں تک لباس کا تعلق تھا، رومی امرا سفید رنگ کا ٹوگا نامی لباس پہنتے تھے جب کہ عام لوگ کالے رنگ کا ایپرن استعمال کرتے تھے۔ رومی شہنشاہ آگسٹس نے عام شہریوں کے لیے بھی ٹوگا پہننا لازمی قرار دیا تھا۔ امرا چمڑے کے جوتے پہنتے تھے جبکہ عام شہری معمولی سلیپر استعمال کرتے تھے۔

امرا اور غریبوں کے مکانات علیحدہ علیحدہ علاقوں میں ہوا کرتے تھے۔ غربا کرائے کے فلیٹوں میں رہتے تھے جو کم از کم تین منزلہ ہوتے تھے۔ اس لیے لوگ جھٹیار خانوں میں کھانا کھاتے تھے۔ ٹوائلٹ سب کا مشترکہ ہوتا تھا۔ کوڑا کرکٹ گلیوں میں ہی پھینک دیا جاتا تھا۔

چونکہ گلیاں تنگ، مکان غیر ہوادار اور بند ہوا کرتے تھے، اس لیے آگ لگنے سے بڑی تباہی پھیلی تھی اور بہت سے لوگ جل مرتے تھے۔

بارش کی صورت میں گلیوں میں گندگی اور غلاظت پھیل جاتی تھی۔ بیماریوں اور وباؤں سے لوگ مر جاتے تھے، جنہیں یا تو اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا جاتا تھا یا ان کی لاشیں دریائے ٹائبر میں پھینک دیں جاتی تھیں۔

اس غربت اور مفلسی کے باوجود رومی عوام کو تفریحات کے مواقع بھی میسر تھے۔ ان کی سب سے بڑی تفریح حمام میں جا کر وقت گزارنا ہوا کرتی تھی۔ رومی شہنشاہوں اور امرا نے شہروں میں حمام تعمیر کرائے تھے، جن میں عوام کا داخلہ مفت ہوا کرتا تھا۔

ان حماموں میں نہانے کے لیے پانی کے تین حوض ہوتے تھے۔ پہلا گرم پانی کا، دوسرا نیم گرم پانی کا اور تیسرا ٹھنڈے پانی کا۔ نہانے سے فارغ ہونے کے بعد لوگ ایک علیحدہ کمرے میں کھاتے پیتے تھے اور آپس میں گپ شپ کرتے تھے۔ حماموں کے اردگرد دکانیں ہوتیں تھیں جہاں مختلف اشیا فروخت ہوتیں تھیں۔ عورتوں کے حمام علیحدہ ہوتے تھے۔

عام لوگوں کی تفریح کا دوسرا ذریعہ رتھ دوڑ ہوتی تھی۔ یہ کالوسیم (روم کا بڑا سٹیڈیم) میں ہوتی تھی جسے دیکھنے کے لیے رومی شہنشاہ بھی آتا تھا۔

عوام کی تفریح کا تیسرا ذریعہ شہر کا چوک ہوتا تھا، جسے فورم بھی کہتے تھے۔ یہاں کھیل تماشے ہوتے تھے، سیاست دان تقریریں کرتے تھے، اور دکاندار اپنی دوکانوں پر مختلف اشیائے فروخت رکھتے تھے۔ الیکشن کے وقت یہی پر بیلٹ باکس رکھا جاتا تھا اور شہری اپنا ووٹ اس میں ڈالتے تھے۔

رومی معاشرے میں ہمیں جہاں امرا کی دولت اور شان و شوکت کا پتہ چلتا ہے، جس کا اظہار وہ اپنی دعوتوں میں بھی کیا کرتے تھے۔ جس میں انواع و اقسام کے کھانوں سے مہمانوں کی تواضع کرتے تھے۔ لیکن دوسری طرف عام لوگ تھے۔ جن کی زندگی غربت اور مفلسی میں گزرتی تھی۔ روم ایک بڑی سلطنت ہونے کے باوجود عام لوگوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ لا سکا۔

بشکریہ انڈیپینڈنٹ اردو۔
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

ancient romanancient roman societyancient romansbiography of famous peoplecheese in roman dietcommandeastern roman history societyeveryday life in roman empirelife as a roman slavelife in roman mpirelife in the roman empirePeopleRomanroman documentaryroman economyRoman Empireroman historyroman slave liferoman slavesroman societySocietythe people profileswhat it was like to be a roman slavewomen in ancient rome
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
The-Story-of-Collecting-Rs-34-Crores-for-Abdul-Rahim-Imprisoned-in-Saudi-From-The-Kerala-Story-to-The-Real-Kerala-Story
Previous

سعودی میں قید عبدالرحیم کے لیے 34 کروڑ روپے جمع کرنے کی کہانی: دی کیرالہ اسٹوری سے ریئل کیرالہ اسٹوری تک!

Malir-Agricultural-Lands-and-Indigenous-people-and-farmer
Next

’جو بوئے، سو کھائے‘ تحریک: سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے زیرِ اہتمام ملیر کے کاشت کاروں کا اجلاس

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme