Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Mysterious-pits-in-the-ground-in-Turkiye-which-have-become-a-symbol-of-fear-for-farmers
خبریںاہم ترینتازہ ترین

ترکیہ میں زمین میں پڑنے والے پراسرار گڑھے، جو کسانوں کے لیے خوف کی علامت بن چکے ہیں

By Akhtar Rasool
جولائی 10, 2024 5 Min Read
0

یہ گزشتہ برس کی بات ہے، جب آدم ایکمیی اپنی زمین کا معائنہ کر رہے تھے کہ اس دوران انہوں نے اپنے خوبانی اور بیری کے کئی درختوں کو زمین کے اندر دھنستے ہوئے دیکھا۔

ستاون سالہ کاشتکار کا کہنا ہے ”میرا پاؤں اچانک پھسلا اور میں نے زمین پر دیکھا تو وہاں کئی دراڑیں موجود تھیں۔ جب میں گھر واپس آیا تو متعدد درختوں سمیت زمین دھنس چکی تھی اور یہ منظر بہت ہی خوفناک تھا۔“

آدم کی چوبیس ایکڑ زمین ہے، جس میں دو بڑے گڑھے پڑ چکے ہیں اور ہر گڑھا لگ بھگ پچاس میٹر گہرا ہے۔ ایک گڑھا تو ان کے گھر سے دس میٹر فاصلے پر ہے۔

آدم بتاتے ہیں ”میری زمین پر پہلی مرتبہ 2018 میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں تو میں بلدیاتی ادارے کے پاس گیا، جس کے ورکروں نے زمین کے اطراف پتھر لگا کر اسے بند کر دیا اور دو سال بعد زمین بالکل دھنس گئی۔“

اگرچہ زمین میں پڑنے والے گڑھوں کی وجہ سے علاقے میں اب تک کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے لیکن کسان نہ صرف اپنی زمین کے دھنسنے کے خطرے سے آگاہ ہیں بلکہ خوفزدہ بھی ہیں

ایک کسان فتح سک کو ہر وقت یہی خدشہ لاحق رہتا ہے کہ زرعی زمین پر ٹریکٹر چلاتے ہوئے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی گہرے گڑھے میں جا گریں، جن سے ان کی موت واقع ہو جائے۔

فتح سک کا تعلق ترکیہ کے زرعی صوبے قونیہ کے ضلع کراپینار سے ہے، جہاں ان کی زمین میں پہلے ہی دو بڑے گڑھے پڑ چکے ہیں۔

فتح کا کہنا ہے ”زمین کا کوئی بھی حصہ کسی بھی وقت گڑھا بن سکتا ہے، لیکن کیا کروں، مجھے کام کرنا ہی پڑے گا، ورنہ میری فیملی کو فاقہ کشی کی صورتِ حال سے دوچار ہونا پڑے گا۔“

اسی طرح کی صورتحال کاشت کار یگت اکسل کو بھی پیش آئی۔ انہوں نے بتایا ”زمین پر چلتے ہوئے اچانک میرا پاؤں پھسلا اور میں نے دیکھا کہ زمین پر کئی دراڑیں موجود تھیں“

ایک ستائیس سالہ افغان چرواہے عمر نے اپنی بھیڑیں چراتے ہوئے کہا کہ اسے ڈر ہے کہ گڑھا اس کے ریوڑ کو نگل لے گا۔ ”خدا نہ کرے، اگر کوئی ایک جانور گرا ہے تو پیچھے آنے والے جانوروں کے ساتھ ساتھ بھی یہی ہوگا۔“

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکیہ کے وسطی اناطولیہ میں صدیوں سے گڑھے پڑ رہے ہیں لیکن حالیہ عرصے کے دوران ان گڑھوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق گڑھے پڑنے کی وجہ خشک سالی کی وجہ سے زراعت کے لیے زیرِ زمین پانی کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔

قونیہ کے ہموار علاقے میں جگہ جگہ کئی گہرے گڑھے موجود ہیں، ان میں سے کئی 165 فٹ گہرے بھی ہیں جو دور سے دکھائی نہیں دیتے۔ اگر آپ اس علاقے میں مکئی، گندم اور دیگر فصلوں کے کھیتوں میں جائیں تو یہ گڑھے نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔

زمین میں پڑنے والے ان گڑھوں کی وجہ کے بارے میں قونیہ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر عارف دیلیکان کہتے ہیں ”زمین میں گڑھے پڑنے کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ صرف گزشتہ برس کراپینار میں بیس گڑھے سامنے آئے ہیں۔“

عارف دیلیکان قونیہ کے علاقے میں اب تک چھ سو چالیس گڑھے تلاش کر چکے ہیں، جن میں سے چھ سو سے زیادہ ڈسٹرکٹ کراپینار میں ہیں۔

پروفیسر عارف سرکاری ادارے ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ پریزیڈنسی آف ترکیہ [اے ایف اے ڈی] کے ساتھ مل کر دو ہزار سات سو سے زیادہ ایسے مقامات کی نشاندہی کر چکے ہیں، جہاں زمین پر ایسے آثار موجود ہیں، جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں زمین کے دھنسنے کا خدشہ ہے۔

سنکھول اس جگہ پیدا ہوتے ہیں جہاں پانی سطح کے نیچے بیڈراک کو تحلیل کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ غار میں داخل ہو جاتا ہے۔ زیرِ زمین پانی میں مٹی کی آمیزش کی وجہ سے اکثر زمین میں سوراخ ہو جاتے ہیں اور ایسا بعض اوقات قدرتی طور پر ہوتا ہے اور کبھی یہ کسی انسانی سرگرمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

زمین دھنسنے کا عمل بہت سست یا کبھی اچانک بھی ہو سکتا ہے۔ ترکیہ کے فلم ڈائریکٹر ایمن الپر نے 2022 میں اپنی فلم ’برننگ ڈیز‘ اس کی عکاسی کی تھی اسے ترکیہ کے معاشرے سے جوڑا تھا۔

قونیہ میں موسمِ سرما کے دوران اوسط سے 40 فی صد کم بارشیں ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے کاشت کاروں پر پیداوار کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس لیے وہ غیر قانونی طور پر کنویں کھود رہے ہیں جس کی وجہ سے زمین کی ساخت متاثر ہو رہی ہے۔

ترکیہ کے اس خطے میں گندم کی ملکی پیداوار کا 36 فی صد اور چقندر کی 35 فی صد کاشت ہوتی ہے۔

کاشت کار یگت اکسل تسلیم کرتے ہیں کہ آئندہ آنے والے دن بہت ہی مشکل ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ زمین کی کھدائی اور آب پاشی کو کسی طرح حالات کا ذمے دار قرار دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا ”گزشتہ بیس برس کے دوران خشک سالی کی صورتِ حال ہے، جس کی وجہ سے کاشت کاروں نے زراعت کے لیے زیرِ زمین پانی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ خطے میں زیرِ زمین پانی کم ہو رہا ہے۔“

ان کے بقول، کراپینا میں زیرِ زمین پانی کی سطح ہر سال دس سے بیس میٹر کم ہو رہی ہے۔

کرانیپار کی لیک میکی کا پانی ایک دہائی کے دوران سوکھ چکا ہے اور وہاں اب زمین نمک کی تہہ موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خشکی کی شکار زمینوں کے لیے بارش خطرناک ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ترکیہ کے بعض انٹرپریونر نے زمین میں پڑنے والے گڑھوں کو سیاحت کے مقصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے کم کینی نامی شخص نے ملک کے قدیم گڑھے کے قریب تیرہ کمروں کے لگژری ہوٹل کا افتتاح کیا ہے، جو گڑھے کے قریب ایک جھیل کی طرح نظر آتا ہے۔

کینی کہتے ہیں ”ہمیں گڑھوں کی موجودگی کے خوف کو مثبت لینے کی ضرورت ہے۔“

ان کے ہوٹل میں قیام کرنے والے ایک کورین سیاح سینگمو کِم گڑھے کے قریب ہوٹل دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے ہیں، ان کا کہنا ہے ”میں نے یہ منظر پہلی دفعہ دیکھا ہے، یہ واقعی بہت حیران کن ہے۔“

Tags:

albert einstein real brain in museumarchaeological excavations in egyptbiggest sinkhole in the worlddeepest hole in the worlddeepest sinkhole in the worlddrone makes chilling discovery in canyonfoundfound in the sahara desertfound in turkeyhistorical photos you didn't see in schoolhole in the earthholes in the groundin the worldlost superpower of the biblemost dangerous places in the worldmost dangerous places in the world 2023most mysterious discoveries found undergroundMysteriousmysterious discoveriesmysterious events in historymysterious findsmystery of the ancient egyptianspolio survivor lives in machineshortest person in the worldsinkhole in watersinkholes in waterstrange holes in the earthsword in the stonesymbol of determinationthe mysterious band of holes in the peruvian mountainsthe oldest temple in the world
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
How-are-non-custom-paid-vehicles-identified-in-Karachi
Previous

کراچی میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی شناخت کیسے کی جاتی ہے؟

What-is-the-truth-behind-the-viral-photo-of-Lionel-Messi-bathing-Lamine-Yamal-in-2007
Next

لیونل میسی کی 2007 میں لامین یامل کو نہلاتے ہوئے وائرل تصویر کی حقیقت کیا ہے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme