Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Urdu-Story-omer-darwesh
ادباہم ترینتازہ ترین

پاگل کتا (افسانہ)

By Akhtar Rasool
جولائی 21, 2024 3 Min Read
0

روشن پور کے خوبصورت محلے میں زندگی پرسکون اور معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔ گھروں کے ارد گرد سفید باڑیں تھیں، جہاں خوشیاں تھیں، مسکراہٹیں تھیں ۔ لیکن یہ سب کچھ چوہان خاندان کے خطرناک ’لکی‘ کی آمد سے پہلے تھا۔

لکی عام کتوں جیسا نہیں تھا۔ اس کی موجودگی میں ایک عجیب سا خطرہ تھا جو بچوں اور بڑوں دونوں کی ریڑھ کی ہڈی میں سردی کی لہر دوڑا دیتا تھا۔ اس کی آنکھیں عجیب درشتی سے چمکتی تھیں اور اس کی غرغرہ آواز ایسی تھی، جیسے یہ جہنم کے گہرائیوں سے آ رہی ہو۔ تاہم چوہان صاحب اسے پسند کرتے تھے اور ہمسایوں کی تشویش کو نظر انداز کر دیتے تھے۔

یہ ایک روشن دوپہر تھی جب پہلا واقعہ پیش آیا۔ صدیقی صاحب کے بچے، جو اپنے شرارتوں کے لیے مشہور تھے، اپنے صحن میں کھیل رہے تھے۔ لکی کو چھیڑتے ہوئے انہوں نے کچھ لکڑی کے ٹکڑے چوہان صاحب کے صحن میں پھینکے، اس خطرے سے بے خبر کہ کیا ہونے والا ہے۔ مضبوط باڑ زیادہ دیر تک غصے میں بپھرے ہوئے کتے کو نہیں روک سکی۔ ایک طاقتور چھلانگ کے ساتھ، لکی، صدیقی صاحب کے صحن میں گھس آیا، اس کی غرغرہ آواز وحشیانہ بھونک میں بدل گئی۔

بچوں کی چیخیں محلے میں گونج اٹھیں، لکی نے بچوں پر حملہ کر دیا ہے۔۔ اس حملے میں کئی بچے زخمی ہو گئے۔ صدیقی خاندان خوف اور غصے کی حالت میں اپنے بچوں کو ہسپتال لے گیا اور فوراً شکایت درج کروائی۔ تاہم،چوہان خاندان نے اپنے پالتو جانور کا سختی سے دفاع کیا، ”آپ کے بچوں نے اسے مشتعل کیا تھا، میرا لکی پاگل نہیں ہے۔ اس نے صرف ان کی شرارت کا رد عمل ظاہر کیا۔“

دن گزر گئے، لیکن روشن پور میں تناؤ واضح تھا۔ لکی نے اپنے دہشت کے راج کو جاری رکھا، اس بار ہدف بناتے ہوئے علی سعیدی کے صحن میں گھس گیا، اور راستے میں آنے والے کسی بھی شخص کو کاٹنے اور نوچنے لگا۔ بیگم سعیدی آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی تھیں، انہوں نے ایک بار پھر حکام کو فون کیا اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔

”یہ کتا خطرناک ہے! پاگل ہے۔۔۔ اسے مار دینا چاہیے!“ انہوں نے روتے ہوئے کہا۔

لیکن چوہان خاندان اٹل رہا، ”اگر آپ محتاط ہوں تو لکی کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔“

آخری دھچکہ اس وقت لگا جب لکی، سیٹھ قاسم کے گھر میں داخل ہوا۔ اس وقت وہ زیادہ وحشی پن کا مظاہرہ کر رہا تھا، اس نے تین بچوں کو بری طرح زخمی کر دیا۔ اب محلے والوں کی برداشت جواب دے گئی اور صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ انہوں نے احتجاج کیا، مطالبہ کیا کہ لکی کو مار دیا جائے، اس سے پہلے کہ وہ مزید کسی کو نقصان پہنچا سکے۔

”ہمیں کچھ کرنا چاہیے اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔۔“ سیٹھ قاسم نے گزارش کی۔

پھر بھی، چوہان خاندان بے لچک رہا۔ ”یہ لکی کی غلطی نہیں ہے“ انہوں نے اصرار کیا، ”آپ سب ہی ذمہ دار ہیں کہ محتاط نہیں ہیں۔“

ایک ٹھنڈی شام، جب چوہان صاحب اپنی چائے کا لطف اٹھا رہے تھے، انہوں نے اپنے گھر سے ایک خوفناک شور سنا۔ شور کے منبع کی طرف دوڑتے ہوئے، انہوں نے لکی کو خون میں لت پت اور درندہ پایا، جو چوہان کے بچوں پر حملہ آور ہوا تھا۔

چوہان خاندان کی مدد کے لیے پکار محلے میں گونج اٹھی، لیکن کوئی ان کی مدد کو نہیں آیا۔ وہ بہت عرصے سے اس جانور کا دفاع کرتے آئے تھے، اور اب وہ اس کی قیمت ادا کر رہے تھے۔۔

Tags:

best hindi urdu storiesdaily storiesdigest storieskids storieskoo koo tv urdu storiesmoral storiesmoral stories for kidsmoral stories in urdupakeezah storiespanchatantra storiesShort Storiesshort stories in urduStoriesstories for childrenstories for kidsstories for kids in urdustories in urdustories in urdu newurdu fairy tales new stories 2020urdu fairy tales storiesUrdu Short StoriesUrdu Storiesurdu stories for kids
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Are-you-also-against-prose-poetry
Previous

کیا آپ بھی نثری شاعری کے خلاف ہیں؟

Internet-Disruption-If-Technology-Ever-Totally-Failed
Next

انٹرنیٹ میں خلل: اگر کبھی ٹیکنالوجی مکمل ناکام ہو گئی تو۔۔۔؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme