Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Urdu-literature-and-short-storeis
ادباہم ترینتازہ ترین

حسنِ کامل

By Akhtar Rasool
ستمبر 15, 2024 4 Min Read
0

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی تھا، جس نے محبت کی شادی کی مگر فرصت کے اوقات میں وہ پچھتاتا رہتا تھا۔ وہ پیشےکے لحاظ سے ایک کھلونا ساز تھا، اور بے عیب کام کے لیے اس کا جنون پوری دنیا میں مشہور تھا۔ کہا جاتا تھا کہ اس نے ایک میکانکی پرندہ بنایا تھا جو لارک کی طرح سریلا گاتا تھا، اور ایسی مہارت اور باریک بینی سے سپاہیوں کے دستے بنائے جو ہاتھوں میں تلواریں لیے تیار کھڑے تھے۔ اس کی گُڑیاں یوں لگ رہی تھیں، جیسے وہ سانس لے رہی ہوں۔ اس کے انجن اپنی چمنیوں سے اصلی دھواں نکالتے تھے، اور مشینی ایندھن جھونکنے والے ننھے مشینی بیلچوں کے ساتھ ان میں چھوٹے چھوٹے کوئلے جھونکتے تھے۔ اس کی گڑیا کے گھر، فنِ صغیر (miniature) کا کمال نمونہ تھے۔ سونے کے کمرے کی دیواروں پر چھوٹے چھوٹے ملمع شدہ آئینے لگے تھے، جن میں چھوٹے چار چوبہ پلنگ منعکس ہوتے تھے اور ننھے بچے بیبی گڑیاؤں کے ساتھ کھیل رہے تھے جو چاول کے دانے سے بڑی نہیں تھیں۔ کھلونا ساز کی دنیا میں چھوٹی سے چھوٹی جزئیات تک سب کچھ کامل تھا – مگر بہر حال –
سب کچھ کامل تھا سوائے ایک چیز کے۔۔ اور وہ تھی اس کی بیوی۔

بلاشبہ، وہ کبھی محبت میں مبتلا تھے، لیکن اب کچھ سالوں بعد، کاریگر کو یہ نظر آنے لگا کہ اس کی بیوی اس کے قابل نہیں ہے۔ وہ خوبصورت نہیں تھی۔ اس کی قوتِ فیصلہ کمزور تھی۔ وہ گرہستی میں بد سلیقہ تھی۔۔ مگر وہ یقینی طور پر اپنے شوہر سے محبت کرتی تھی، اور وہ بھی اس سے محبت کرتا تھا – مگر اپنے انداز سے – لیکن کیا یہ کافی ہے، اس نے خود سے پوچھا؟ کیا وہ اس سے کہیں زیادہ کا مستحق نہیں تھا؟

ایک دن کھلونا ساز نے دیکھا کہ اس کی بیوی کے بال سفید ہو رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر اسے ناگوار گزرا۔ چناچہ اس نے اس کے بالوں کا ایک نیا سر بنایا، چمکتی ہوئی سونے کی تاروں سے کاتا ہوا، اور اسے اس کی کھوپڑی پر ٹانکا، جیسا کہ وہ گڑیا بناتے وقت اکثر کرتا تھا۔ بیوی نے کچھ نہیں کہا، لیکن اس نے اپنے ڈریسنگ روم میں جا کر آئینے میں خود کو دیکھا، اپنے بالوں کی چمکیلی، سخت تاروں کو چھوا اور اس وقت کو یاد کیا جب وہ سوچا کرتی تھی کہ وہ ہر لحاظ سے مکمل ہے۔

کچھ عرصے کے لیے کھلونا ساز خوش ہو گیا، لیکن پھر اس نے محسوس کرنا شروع کیا کہ اس کی بیوی اکثر بعجلت یا بے تکا بولتی ہے، یا ایسی باتیں کرتی ہے جو اسے غیر ضروری لگتی ہیں، حتیّٰ کہ احمقانہ بھی۔۔ اور اس طرح جب وہ سو رہی تھی، اس نے اس کی زبان کاٹ دی اور اس کی جگہ ایک مشینی زبان لگا دی، جو سلور فش کی طرح چکنی، گھڑی کی طرح رواں تھی۔ اس کے بعد، کھلونا ساز کی بیوی اپنی تقریر میں ہمیشہ اس کے مزاج کے عین مطابق رہتی تھی، اس نے کبھی بھی کوئی احمقانہ، گھٹیا بات کی نہ ہی اپنی گفتگو سے اسے بیزار کیا۔

اس کے بعد کچھ دیر تک سب کچھ ٹھیک رہا، یہاں تک کہ کھلونا ساز نے دیکھا کہ اس کی بیوی اکثر اسے ملامتی نظروں سے دیکھتی ہے، اور بعض اوقات بغیر کسی وجہ کے رو پڑتی ہے۔ اس بات نے اسے اس پر غور کرنے کے لئے بے چین کر دیا، اور یوں اس نے اپنی بیوی کے لیے بلوریں آنکھوں کا ایک نیا جوڑا بنا دیا، جو چمکدار اور منظورِ نظر تھیں اور کبھی بھی آنسو نہیں بہاتی تھیں اور ان میں سوائے اطمینان کے اظہار کے، اور کوئی تاثر نہیں تھا۔ اسے اپنے ہنر پر بہت فخر تھا، سو اب کچھ عرصے کے لیے وہ مطمئن تھا۔

لیکن جلد ہی وہ اپنی بیوی کے ہاتھوں کی طرف متوجہ ہوا۔ ہاتھ جو اکثر بھدے اور سست رفتار ہو جاتے، اِس لیے اس نے اپنی بیوی کے لیے میکانکی ہاتھ بنائے، اور انہیں ان کی جگہ پر لگا دیا۔ اس کی بیوی کے نئے ہاتھ دودھ کی طرح سفید اور کسی بھی خودکار مشین کی طرح پھرتیلے تھے، اور اسی طرح اس نے پاؤں کا ایک جوڑا بنایا، اور پھر کامل پستانوں کا جوڑا۔۔ اس طرح آہستہ آہستہ، وقت گزرنے کے ساتھ، اس نے چینی مٹی اور اپنی مہارت سے اپنی بیوی کی ہر کمی اور خرابی کو بدل دیا۔

”آخر کار، یہ کامل ہے“ اس نے اپنی خوبصورت بیوی کو دیکھتے ہوئے خود سے کہا۔ لیکن پھر بھی، کچھ کمی تھی۔ ابھی بھی، وہ بالکل ویسی نہیں تھی جیسا کہ اس کو امید تھی۔۔ اور اس طرح کھلونا ساز نے یہ دیکھنے کے لیے اسے کھولا کہ اس کے اندرونی افعال کا کون سا حصہ اس نے ٹیون یا درست کرنے میں نظرانداز کیا ہے۔ اس نے سب کچھ اپنی جگہ پر پایا – سوائے ایک چیز کے، جسے اس نے نظر انداز کیا تھا۔ ایک چھوٹی سی، معمولی چیز، اپنی مہارت اور کاری گری کی پیچیدگیوں میں وہ اتنی گہرائی تک مگن ہو گیا تھا کہ اُس نے اِس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا ۔ یہ اُس کا دل تھا – یہ ٹوٹ گیا تھا۔

”میں حیران ہوں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“ اس نے اپنے مہارت سازی کے اوزاروں تک پہنچتے ہوئے، اپنی بیوی کے ٹوٹے ہوئے دل کی جگہ نیا دل بنانے کا مکمل طور پر ارادہ کرتے ہوئے کہا۔

لیکن پھر اس نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا، وہ کام کرنے کے بینچ پر اتنی ساکت، حسین اور پیلی ہوئی پڑی تھی، ہر طرح سے پر سکون اور پیاری؛ ہر انگ جگمگاتا اور جھلملاتا ہوا.

’’کیوں بھلا ، تمہیں دل کی بالکل ضرورت نہیں ہے؟ کیا تمہیں ضرورت ہے میری جان؟‘‘ وہ اس سے مخاطب ہوا.

اور یوں اس نے ٹوٹے ہوئے دل کو اٹھا کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا۔۔ اور پھر وہ اپنی بیوی کی طرف پلٹا اور اس کے خوبصورت سلور فش دہن کو چوما، اس کی چمکتی ہوئی بلوریں آنکھوں میں دیکھا اور کہا:
”بالآخر۔ تم کامل ہو۔“

Tags:

fairy tales stories in urdukoo koo tv urdu storiesmoral storiesmoral stories in urdunew stories in urdushort moral stories in urdushort stories in urduStoriesstories for kids in urdustories in urdustories in urdu newurdu fairy tales new stories 2017urdu fairy tales new stories 2018urdu fairy tales new stories 2020urdu fairy tales storiesurdu moral storiesurdu short moral storiesUrdu Short StoriesUrdu Storiesurdu stories for kids
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Aspects-of-consciousness-will-remain-unknown
Previous

شعور کے پہلو اے آئی کے لیے نامعلوم ہی رہیں گے!

Gorillas-amazing-self-healing-tips-can-be-used-to-make-human-medicine-too
Next

اپنا علاج کرنے کے لیے گوریلاؤں کے حیرت انگیز ٹوٹکے انسانوں کی ادویات بنانے میں بھی کام آ سکتے ہیں!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme