Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Colonization-of-Malir-illegal-housing-schemes-and-agricultural-lands
کالماہم ترینتازہ ترین

ملیر کی کالونائزیشن

By Akhtar Rasool
مارچ 8, 2025 3 Min Read
0

ملیر میں آج جس قسم کی صورتحال ہے، جس طرح مقامی لوگوں سے ان کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں، ان کی تہذیب ،ثقافت، زبان اور وقار کو جس انداز میں ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے، اسے اگر ’ڈاکٹرائن آف ڈسکوری‘ اور ’ڈاکٹرائن آف ٹیرا نالیس‘ کے تناظر میں ملیر کی کالونائزیشن کہا جائے تو بے جان نہ ہوگا۔

ڈاکٹرائن آف ڈسکوری قبضہ گیری، لوٹ مار، معاشی استحصال اور دیگر اقوام کی زمینوں پر ملکیت کا ایک یورپی نوآبادیاتی اصول تھا جو پندرہویں صدی میں اپنایا گیا۔ جس کے تحت یورپی نوآبادیاتی ممالک کو غیر یورپی سرزمینوں پر اپنا دعویٰ کرنے کا حق حاصل تھا۔ اس اصول کے مطابق اگر کسی زمین پر یورپیوں/ مسیحیوں کی موجودگی نہیں ہے تو وہ زمین یورپی کالونائزرز کی جانب سے قبضہ کرنے کے بعد ”دریافت شدہ“ (Discovered) سمجھی جاتی تھی اور یورپی کالونائزرز کو وہاں کی خودمختاری اور ملکیت کا حق ملتا تھا۔

ڈاکٹرائن آف ٹیرا نالیس کی اصطلاح ”خالی زمین“ یا ”غیر آباد زمین“ کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ جس کے تحت یورپی نوآبادیاتی طاقتوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کسی زمین پر مقامی لوگوں کا مالکانہ حق نہ ہو (یعنی یورپی تعریف کے مطابق وہ زمین ”آباد“ نہ ہو) ، تو وہ زمین قانونی طور پر کسی بھی یورپی نوآبادیاتی ملک کے لیے ”دریافت شدہ“ اور دعویٰ کرنے کے لیے دستیاب ہے۔

ان دونوں اصولوں کے تحت صدیوں سے آباد امریکی ایراواک (جنہیں کولمبس نے ’ریڈ انڈینز‘ کا نوآبادیاتی نام دیا۔ یعنی ایک پوری نسل کو کولونائزڈ کر کے ان کی شناخت کو ہی مسخ کر دیا گیا)، افریقی قبائل، کینیڈا کے انوئیٹ اور میٹس، نیوزی لینڈ کے مقامی ماوری اور آسٹریلیا کے ایبورجینلز کی زمینوں، کھیتوں، چراگاہوں، دریاؤں اور پہاڑوں پر بلاجواز قبضہ کر لیا گیا۔ مقامی لوگوں کا قتل عام کیا گیا، انہیں غلام بنایا گیا۔ اس اصول کے تحت نہ صرف ان کی زمینوں کو چھیننے کا جواز پیدا کیا گیا بلکہ ان کی زبان، شناخت، ثقافت، رسوم و رواج اور تاریخ کو بھی پامال کیا گیا۔ ان مقامی اقوام کو بے وقعت سمجھ کر ان کے ساتھ ظلم و ستم کا ایک نیا باب شروع کیا گیا، جس میں ان کی موجودگی اور حقوق کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔۔ اور آج اپنی دھرتی کے وارث اور مالک یہ تمام اقوام اجنبیوں کی طرح رہ رہے ہیں۔

بحریہ ٹاؤن اور ملیر ایکسپریس وے کے قیام کی شکل میں ملیر کے زرخیز، آباد اور تاریخی علاقوں پر قبضہ ایک بدترین استحصال ہے جو مقامی عوام کی سرزمین، ثقافت اور ماحولیاتی توازن کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی کوشش ہے۔ یہ منصوبہ ملیر کے قدرتی وسائل، زرعی اراضی اور صدیوں سے آباد گوٹھوں کو تباہ کرنے کی سازش ہے، جہاں مقامی لوگ اپنے آباؤ اجداد کی زمینوں سے جڑے ہیں اور ان کی شناخت اسی زمین سے وابستہ ہے۔

ان منصوبوں نے اہلِ ملیر کے لیے ایک نیا استحصالی نظام قائم کیا ہے، جہاں مقامی عوام کو ان کی اپنی زمینوں سے زبردستی بے دخل کیا جا رہا ہے اور ان کی جگہ بے رحم ہاؤسنگ سوسائٹیز، ایکسپریس وے اور تجارتی منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ اس قبضے نے علاقے کے ماحولیاتی توازن کو بری طرح پامال کرتے ہوئے مقامی لوگوں کی زندگیوں کو بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ یہ صرف ایک قبضہ نہیں، بلکہ مقامی لوگوں کی زمینوں، پانیوں، کھیتوں، ثقافت اور ان کے تہذیب و وقار کا قتل ہے۔ اس کا نتیجہ ملیر کے مقامی عوام کے لیے نہ صرف تباہی، بلکہ نسلوں کی بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ صورتحال اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ملیر کے قدرتی وسائل اور اراضی کو بے رحمی سے لوٹنے کا عمل جاری ہے اور مقامی عوام کی آواز کو دبانے کے لیے انہیں سماجی اور سیاسی طور پر کمزور کر دیا گیا ہے۔ یہ قبضہ ایک نوآبادیاتی دشمنی کی مانند ہے، جو ہماری ثقافت اور ہمارے وجود کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے، اور اگر اس کا سدباب نہ کیا گیا تو ہم اپنی سرزمین پر ہی اجنبی بن کر رہ جائیں گے۔

Tags:

Agricultural land lossBahria Town controversyBahria Town ExpansionBahria Town land grabcolonial land theftcolonial occupationcommercial land exploitationcorporate greedcorporate land acquisitioncorporate overreachcultural exterminationcultural suppressiondestruction of Malir villagesdiscovery doctrine critiquedoctrine of discoveryDoctrine of Terra Nulliusecological degradationEcological imbalanceEconomic Exploitationenvironmental displacementenvironmental imbalanceEnvironmental Justiceeuropean colonialismEuropean expansionismexploitation of Malirforced evictionsforced migrationforced relocationforced urbanizationgreen land to concreteheritage destructionhistorical injusticehistorical land theftHuman Rights ViolationIndigenous displacementindigenous genocideindigenous land defendersindigenous land rightsindigenous marginalizationindigenous oppressionindigenous resistanceindigenous sovereigntyKarachi climate injusticeKarachi cultural genocideKarachi development injusticeKarachi environmental destructionKarachi housing crisisKarachi indigenous struggleKarachi infrastructure projectsKarachi land corruptionKarachi land crisisKarachi land mafiaKarachi political land dealsKarachi urban expansionKarachi urban injusticekarachi water crisisKarachi’s environmental lossKarachi’s green cover lossland dispossessionland expropriationland ownership crisislocal economy collapselocal land protestsloss of identityloss of indigenous autonomyMalir ancestral landsMalir colonizationMalir community resistanceMalir community struggleMalir cultural erosionMalir deforestationMalir ecological crisisMalir environmental destructionMalir Expressway controversyMalir farmers’ struggleMalir farming crisisMalir heritage destructionMalir indigenous identity crisisMalir infrastructure projectsMalir land grabbingMalir land theftMalir natural resource exploitationMalir sustainable developmentMalir traditional villagespolitical complicityreal estate colonizationreal estate expansion in Malirreal estate mafiarural displacementrural to urban transformationsettler colonialismSindh environmental activismSindh indigenous struggleSindh land crisissocial injusticestate-backed displacementtraditional farming destructiontraditional land rightstraditional livelihoods under threatunethical land policiesurban encroachmenturban expansion issueswater rights violation
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
The-medicine-we-were-looking-for-was-already-within-us
Previous

ہم جس دوا کی تلاش میں تھے، وہ پہلے سے ہی ہمارے اندر موجود تھی!

A-fiction-from-British-Literature
Next

مشاہدہ (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme