Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

People-slaves-to-machines-began-to-stray-from-the-path-of-life
کالماہم ترینتازہ ترین

مشینوں کے غلام لوگ زندگی کے راستے سے بھٹکنے لگے

By Akhtar Rasool
مارچ 27, 2025 4 Min Read
0

کبھی وہ بھی دن تھے جب گاڑی کی کھڑکیاں کھول کر تازہ ہوا کو گلے لگاتے، راستوں کے حسین مناظر دیکھتے، اور سفر کو زندگی کا ایک خوبصورت حصہ سمجھتے تھے۔ گاڑی میں گیت گانے اور قہقہے لگانے کا ایک الگ ہی مزا تھا۔ اگر راستہ بھول بھی جاتے تو کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی، بس رفتار کم کرتے اور سامنے نظر آنے والے کسی راہگیر سے راستہ پوچھ لیتے۔ یہ سیدھا سادہ عمل صرف منزل تک پہنچانے کا ذریعہ نہ ہوتا بلکہ دلوں کو بھی قریب کر دیتا۔

راستہ بھول جانا بھی ایک ایڈونچر ہوتا تھا، جس میں اگلے راہگیر سے بات کرنے کا بہانہ ملتا تھا۔ وہ راہگیر نہ صرف دائیں یا بائیں مڑنے کا مشورہ دیتا بلکہ قریب کے درخت، مسجد یا چائے کے ہوٹل کا حوالہ بھی دے دیتا تاکہ آپ دوبارہ نہ بھٹکیں۔

اگر آپ کسی گاؤں میں کسی کا گھر ڈھونڈ رہے ہوتے، تو نکڑ پر کھڑا کوئی نوجوان لڑکا خوشی خوشی آپ کو وہاں تک چھوڑنے کے لیے آپ کی گاڑی میں سوار ہو جاتا۔۔ اور اگر خوشی کا کوئی موقع ہوتا، تو وہ چائے اور ناشتے کے بغیر رخصت بھی نہ ہوتا۔

ایسے ہی راستے پوچھنے کے واقعات نے کئی بار انوکھے رشتے بھی بنائے۔ کہنے کو تو ایک اجنبی نے راستہ بتایا، لیکن یہ سلسلہ آگے بڑھا اور وہ اجنبی زندگی کا ساتھی بن گیا۔ گاؤں دیہاتوں میں یہ کہانیاں عام تھیں جہاں کسی کی مدد کرنے والا ہی بعد میں شادی کے بندھن میں بندھ جاتا تھا۔ شاید یہی انسانی رابطے کی خوبصورتی تھی کہ راستہ پوچھنے کی بہانے دل بھی مل جایا کرتے تھے۔

مگر اب وہ دن قصۂ پارینہ بن چکے ہیں

آج، ان لمحوں کی جگہ ٹیکنالوجی نے لے لی ہے۔ ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں، مفت انٹرنیٹ ڈیٹا، اور گوگل میپ کے ساتھ، اب کسی سے بات کرنا یا اپنی عقل کا استعمال کرنا پرانے زمانے کی بات لگتی ہے۔ ہمیں اب ایک ایسی مشین پر بھروسہ ہے جو ہمیں ایسے راستوں پر بھی لے جا سکتی ہے جہاں سڑک کا وجود ہی نہ ہو۔

انسانوں سے بات کرنا توہین سمجھا جاتا ہے، اور اب ہم ایک ایسی مشینی آواز پر اعتماد کرتے ہیں جو ہمیں ایسے راستوں پر لے جا سکتی ہے جہاں سڑک کا نام و نشان بھی نہ ہو۔

ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں آسام پولیس کے ساتھ پیش آیا۔ وہ ایک مجرم کو پکڑنے کے لیے گوگل میپ کے سہارے روانہ ہوئی، لیکن یہ ”ذہین“ نقشہ انہیں پڑوسی ریاست ناگالینڈ کے چائے کے باغات میں لے گیا۔ وہاں پولیس والوں نے مزدوروں سے تفتیش شروع کی۔ ان آٹھ نو پولیس اہلکاروں میں صرف دو وردی میں تھے، باقی سب سادہ کپڑوں میں تھے۔ مزدوروں نے انہیں ٹھگ سمجھ کر گھیرا اور یرغمال بنا لیا۔

رات بھر ان پولیس اہلکاروں کی ”خاطر تواضع“ کی گئی، اور انہیں صرف چاول اور دال کھانے کو ملی۔ اگلی صبح ناگالینڈ پولیس نے انہیں بازیاب کیا۔ اگر وہ مقامی لوگوں سے راستہ پوچھ لیتے تو شاید یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

یہ واقعہ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی ایک مثال ہے۔ ہم انسانوں سے زیادہ مشینوں پر بھروسہ کر بیٹھے ہیں، چاہے اس کا انجام کتنا ہی خوفناک کیوں نہ ہو۔

ٹیکنالوجی کی یہ دیوانگی صرف پولیس تک محدود نہیں۔ اتر پردیش کے بدایوں ضلع میں جی پی ایس پر اعتماد کرتے ہوئے ایک کار نامکمل پل پر جا پہنچی۔ پل تو دریا کے رخ بدلنے کی وجہ سے سالوں پہلے بند ہو چکا تھا، مگر گوگل میپ کو یہ خبر نہ تھی۔ نتیجہ؟ گاڑی پل سے 50 فٹ نیچے دریا میں جا گری اور تین قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔

یہ ٹیکنالوجی کے غلام بننے کی وہ کہانیاں ہیں جو ہمیں روز سنائی دیتی ہیں۔ انسان اب اپنی عقل اور جذبات سے زیادہ مشینوں پر بھروسہ کرتا ہے۔ شاید اسی لیے آج کے سماج میں حقیقی دوستوں کی جگہ فیس بک کے ہزاروں ”فرینڈز“ نے لے لی ہے، لیکن وہ دل سوزی اور ہمدردی کہیں کھو گئی ہے۔

علامہ اقبال نے کئی دہائیاں پہلے ہی اس خطرے کو بھانپ لیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا:
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت،
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

سوچئے، کیا واقعی یہ ترقی ہے؟ ہم نے ٹیکنالوجی کو اپنی مددگار بنایا تھا، لیکن اب یہ ہماری زندگیوں پر حکومت کر رہی ہے۔ راستے کھونے کے خوف سے ہم نے وہ خوشبو، وہ راستوں کے قصے، اور وہ زندگی کی معصوم خوشیاں کھو دی ہیں۔

وقت آگیا ہے کہ ہم مشینوں پر اندھا بھروسہ کرنا چھوڑ دیں۔ اگلی بار جب آپ سفر پر نکلیں، تو ایک لمحے کے لیے رکیں، کسی راہگیر سے راستہ پوچھیں۔ شاید وہ نہ صرف آپ کو منزل تک پہنچائے بلکہ ایک نیا دوست بھی بن جائے۔ یا شاید، آپ کی زندگی کا ساتھی۔

یاد رکھیں، گوگل میپ آپ کو منزل کا راستہ دکھا سکتا ہے، لیکن زندگی کا اصل راستہ صرف انسانوں سے رابطے اور شعور کے ذریعے ہی مل سکتا ہے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

Tags:

and living beyond screensartificial intelligence dependencyartificial intelligence risksasking for directionsautomated misinformationblind following of digital mapsbreaking digital reliancecelebrating real-life encounterscommunication breakdownconsequences of blind trustdangers of AI navigationdangers of automationdangers of digitalizationdangers of virtual lifedecline of real-world friendshipsdeclining human curiositydehumanization through technologydependence on machinesdigital detachmentdigital lonelinessdisappearing road trip experiencesemotional detachmentemotional intelligence lossemotional numbnesserosion of human empathyfading rural traditionsfalse comfort in technologyfalse sense of securityforgetting human instinctsforgetting road adventuresforgetting traditional knowledgeGoogle Maps failureGPS errorsGPS failuresheart over machineshuman bonds fadinghuman guidancehuman interaction declineimpact of AI errorsimpact of digital mapsimportance of human wisdomimportance of organic connectionsinformation reliabilitylack of human trustloss of common senseloss of life due to technologyloss of meaningful conversationsloss of real friendshipsloss of spontaneitylost communal spiritlost cultural habitslost human connectionlost sense of adventurelost social bondsmachine dominancemechanical lifestylemechanical mindsetmindless dependencemindless tech usersmisguidance by AImisplaced police operationsmisplaced trust in technologymodern life challengesnostalgia for human interactionsnostalgia for the pastnostalgia for village lifeold versus new ways of travelover-dependence on gadgetsover-reliance on AIprioritizing human relationshipsprioritizing humans over machinesquestioning tech dominancereal-world engagementrebuilding trust in peoplereckless technology dependencerejecting blind tech obediencereliance on digital toolsremembering real conversationsrestoring human interactionrisks of tech-driven livesroadside conversationssimple joys of travelsocial disconnectionsocial fabric erosiontechnological drawbackstechnology addictiontechnology versus humanitytechnology versus wisdomtraditional travel experiencestraditional valuestravel misadventurestravel without human touchtrusting technology blindlyuncritical acceptance of technologyunverified digital datavaluing human experiencesvirtual connections versus real relationshipswarmth of human interaction
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
The-Mystery-of-Lost-Memory-Why-We-Forget-Childhood-Memories
Previous

گمشدہ یادداشت کا معمہ: ہم بچپن کی یادیں کیوں بھول جاتے ہیں؟

Indus-Delta-A-heritage-sinking-into-the-sea-and-new-canals-on-the-Indus
Next

انڈس ڈیلٹا: سمندر میں غرق ہوتا ایک ورثہ اور سندھو پر نئے کینال

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme