Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

A-forgotten-topic-of-history-human-emotions
کالماہم ترینتازہ ترین

تاریخ کا ایک فراموش کردہ موضوع: انسانی جذبات

By Akhtar Rasool
مارچ 29, 2025 6 Min Read
0

جذبات کا اثر نہ صرف افراد پر ہوتا ہے بلکہ یہ پوری سوسائٹی کے لیے تبدیلی کا باعث ہوتے ہیں، لیکن تاریخ کی کتابوں میں عام طور پر بڑے بڑے واقعات اور جنگوں کا احوال تو تفصیل سے درج ہوتا ہے، انسانی جذبات کی نمائندگی پر توجہ نہیں دی جاتی۔

لیکن اب صورتِ حال بدل رہی ہے اور جدید مورخ تاریخ کے اہم واقعات کے پیچھے کارفرما خوف، حسد، غم اور غصے جیسے انسانی جذبات کی عکاسی بھی کر رہے ہیں۔

انسان فطرتاً جذباتی ہوتا ہے، لیکن اس کے جذبات کا اظہار اس کا سماجی رتبہ کرتا ہے۔ جو اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے اور جو نچلے طبقے سے نسبت رکھتے ہیں، ان کے جذباتی بیانیے میں فرق ہوتا ہے۔ یعنی امیر اور غریب دونوں ایک ہی جذبے سے متاثر کیوں نہ ہوں، ان کے رویوں میں ہمیں صاف فرق نظر آتا ہے۔

لیکن کچھ جذبات ایسے ہیں جو دونوں میں مشترک ہوتے ہیں، مثلاً ڈر یا خوف کا جذبہ۔ اس کی کئی قِسمیں ہوتی ہیں۔ یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں سبھی کو موت کا خوف ہوتا ہے۔ روزِ حشر اور جہنم کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ پیگن مذہب کے ماننے والوں میں یہ ڈر نہیں ہوتا، مثلاً مصریوں میں یہ عقیدہ تھا کہ دوسری زندگی میں بھی ایسی ہی دنیا ہوگی، جیسی کہ موجودہ ہے۔

ڈر اور خوف ایسی سوسائٹی میں بھی ہوتا ہے جو اعلیٰ اور ادنیٰ میں تقسیم ہو۔ کمزور طاقتور سے ڈرتا ہے، اور اگر سیاسی نظام آمرانہ ہو تو عوام اس کے ظلم و ستم سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ میکاولی نے اپنی کتاب ’دا پرنس‘ میں لکھا ہے کہ حکمران کو سخت ظالم ہونا چاہیے، خلاف ورزی کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دینی چاہیے، تاکہ لوگ ڈر اور خوف سے اس کے وفادار رہیں۔

میکاولی کا ہیرو سیزارے بورژوا تھا۔ اس کی پالیسی یہ تھی کہ خود ظلم کرنے کی بجائے اپنے کسی وزیر سے لوگوں کو قتل بھی کراتا تھا، اور اذیت بھی دلواتا تھا۔ جب وہ بدنام ہو جاتا تھا تو اسے قتل کروا کر اس کی لاش کو بازار کے ایک چوک میں رکھوا دیتا تھا تا کہ لوگ اس کے انصاف سے ڈر جائیں۔

حکمران بھی ڈر اور خوف کی حالت میں رہتے تھے کہ کہیں ان کے خلاف سازش نہ ہو جائے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے محافظوں سے بھی ڈرتے تھے۔

ایران کا ایک بادشاہ سازش کے ڈر سے اپنی خواب گاہ مسلسل بدلتا رہتا تھا، یہاں تک کہ کسی رات کو وہ اپنے خادم کے کمرے میں جا کر خاموشی سے سو جاتا تھا۔

سازش کا یہ خوف تقریباً ہر حکمران کو رہا ہے۔ عباسی خاندان کو اقتدار میں لانے والا ابومسلم خراسانی تھا، لیکن جب عباسی خلیفہ ابوعباس السفاح اقتدار میں آ گیا تو اس نے دھوکے سے ابومسلم کو بلا کر قتل کروا دیا۔ اس کی وجہ حسد اور خوف تھا۔ سفاح کو ڈر تھا کہ ابومسلم کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ اس کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

ہارون الرشید نے بھی جعفر برمکی کو قتل کروایا اور اس کے باپ یحییٰ کو قید کر کے پورے خاندان کو برباد کر دیا۔ اس کی وجہ بھی حسد بتائی جاتی ہے۔ برمکی خاندان دولت اور شان و شوکت اور علم پروری میں بادشاہ سے بھی آگے بڑھ گیا تھا جو بادشاہ کو منظور نہیں تھا۔

جب کسی سوسائٹی میں مذہبی، سیاسی اور سماجی طور پر ڈر اور خوف پھیل جائے تو لوگوں میں بےحسی اور مایوسی چھا جاتی ہے۔ ان کی صلاحیتیں ضائع ہو جاتی ہیں اور انھیں ہر وقت خطرات کا سامنا رہتا ہے، جس کی وجہ سے خوشی اور مسرت کے لمحات ختم ہو جاتے ہیں۔

دوسرا اہم جذبہ افراد میں غصے کا ہوتا ہے۔ جب غصہ آتا ہے تو انسان اپنے ہوش و حواس کھو دیتا ہے۔ غصے کی حالت میں جو بھی فیصلے کیے جاتے ہیں وہ تباہ کن ہوتے ہیں۔

مثلاً جب سکندر نے ایران فتح کیا تو اس نے بہت سی ایرانی دربار کی رسومات کو اختیار کر لیا۔ اس پر اس کے ایک بچپن کے ساتھی نے اعتراض کیا کہ وہ ان رسومات پر عمل نہیں کرے گا۔ یہ بات اس نے شراب کی ایک محفل میں کہی۔ اسکندر کو اس پر سخت غصہ آیا۔ اس نے ایک محافظ کی تلوار لے کر اپنے دوست کے پیٹ میں گھونپ دی جس سے وہ فوری طور پر ہلاک ہو گیا۔

جب سکندر کو ذرا ہوش آیا اور اسے احساس ہوا کہ اس نے کیا کر دیا ہے۔ تو وہ اپنے دوست کی موت پر خوب رویا۔

تاریخ میں ایسے واقعات سے اٹی ہوئی ہے، جو غصے کے عالم میں لوگوں سے جلد بازی میں ہوئے، اور بعد میں وہ اس پر پشیمان بھی ہوئے۔ لیکن ایسے واقعات بھی ہیں کہ جب حکمرانوں نے غصے پر قابو پایا اور فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

مثلاً مغل بادشاہ اکبر کی ایک مثال ہے۔ ابوالفضل جب دکن سے واپس آ رہا تھا تو اسد بیگ نامی شخص اس کے ہمراہ تھا۔ ابوالفضل نے اس کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا اور خود آگے روانہ ہوا۔ ابوالفضل کو بندیلا کے راجہ نے قتل کیا تو اکبر کو اسد بیگ پر سخت غصہ آیا کہ وہ کیوں پیچھے رہ گیا۔ اس نے غصے میں کہا کہ وہ اسد بیگ کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرے گا۔ لیکن جب اسے احساس ہوا کہ اسد بیگ ابوالفضل کی مرضی سے پیچھے رہا تھا تو اسے اس نے معاف کر دیا۔

ہمیں حکمرانوں اور امرا کی زندگیوں میں یہ تاریخی جذباتی واقعات اس لیے مِلتے ہیں کہ یہ تاریخ میں محفوظ ہیں جب کہ عام لوگوں کے غم و غصے کا اظہار ہمیں اس وقت ملتا ہے جب وہ کوئی مظاہرہ کرتے ہیں یا جلوس نکال کر نعرے لگاتے ہیں۔ یہ ان کے غم وغصے کی علامت ہے، جس کا اظہار موجودہ زمانے میں میڈیا میں بھی ہو جاتا ہے۔

جذبات کی ایک اور قِسم اچانک کسی حادثے یا واقعے کی صورت میں افراد پر ہوتی ہے۔ یہاں ہم پھر حکمرانوں سے متعلق واقعات کو بیان کریں گے۔

جب سلطان غیاث الدین بلبن کے بیٹے شہزادہ محمد سلطان (خان شہید) کو منگولوں نے قتل کیا اور اس کی اطلاع بلبن کو پہنچی تو اس نے اس صدمے کو دربار میں خاموشی سے برداشت کیا اور اپنے غم کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔ لیکن جب وہ اپنے محل میں اکیلا ہوا تو بیٹے کے غم میں خوب رویا۔

یہ بھی اشرافیہ اور عام لوگوں میں ایک فرق ہے کہ اشرافیہ پبلک کے سامنے اپنی کمزوری کا اظہار نہیں کرتی، جب کہ عام لوگ صدمے کی حالت میں سب کے سامنے روتے بھی ہیں اور اپنے دل کا حال بھی بیان کرتے ہیں۔

دوسرا بڑا واقعہ اکبر بادشاہ کا ہے۔ ابوالفضل کے قتل کی خبر مغل روایت کے مطابق اس کے وکیل نے اپنے دونوں ہاتھ سفید رومال میں لپیٹ کر اکبر کے سامنے کھڑے ہو کر سنائی۔ اکبر ابوالفضل کے قتل کی خبر سن کر سخت افسردہ ہوا اور دردناک انداز میں کہا، ’شیخو تم نے یہ کیا کیا!‘ کہا جاتا ہے کہ اس نے تین دن تک کھانا بھی نہیں کھایا۔

ایک اور اہم جذبہ عزت کا ہوتا ہے، جس کی خاطر لوگ اپنی جان بھی دے دیتے ہیں۔ جب ٹرائے کی جنگ میں ہیکٹر کی بیوی نے اس سے کہا کہ تمہیں ایکلیز سے لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہم یہاں قلعے میں محفوظ ہیں اور اگر تم اس سے مقابلے میں مارے گئے تو یونانی قلعے پر قبضہ کر کے مجھے کینز بنا لیں گے، اور تمہارے بیٹے کو قتل کر دیں گے۔ اس پر ہیکٹر نے کہا کہ یہ عزت کا سوال ہے۔ وہ ایکلیز سے لڑا اور مارا گیا۔

یورپ میں ایک عرصے تک ڈوئل کا رواج تھا جو عزت کے نام پر لڑی جاتی تھی۔ روس کا مشہور شاعر الیگزینڈر پوشکِن ایک ایسے ہی ڈوئل میں مارا گیا تھا۔

جذبات کی ایک اور قِسم شرم و حیا تھی۔

قدیم اٹلی کے بادشاہ نے بروٹس کی غیرموجودگی میں اس کی بیوی سے ریپ کیا۔ جب اس کا شوہر واپس آیا تو اس کی بیوی نے سارا واقعہ سنایا اور پھر خنجر مار کر خودکشی کر لی۔ بروٹس نے اپنی بیوی کی لاش کو اپنے ہاتھوں پر اٹھایا اور عہد کیا کہ روم پر اب کوئی بادشاہ حکومت نہیں کرے گا۔

رومیوں نے مِل کر بادشاہ کو شِکست دی اور روم کو رپبلک بنانے کا اعلان کر دیا۔ بروٹس جو سیزر کو قتل کرنے والوں میں سے تھا۔ اس کا تعلق اسی خاندان سے تھا۔

جذبات کی فہرست تو بہت لمبی ہے جس میں جلن، حسد، رقابت، محبت، دشمنی، نفرت اور تعصب وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب انسانی فطرت کا حصہ ہیں، اور زندگی کے ہر عمل میں کسی نہ کسی شکل میں ظاہر ہو کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

Abbasid dynastyAbu Muslim KhurasaniAbu’l-Fazlafterlife beliefsAlexander PushkinAlexander the Greatancient Egyptian beliefsancient romeand historical tragediesanger in decision-makinganger in historyauthoritarian fearauthority and obedienceBarmakid familybetrayal and deceptionCesare Borgiacommon people's emotionscompetition and jealousydeception in historydiscrimination and biaselite emotionselite vs. commonersemotional conflictsemotional consequencesemotional decisionsemotional restraintemotional suppressionemotions and poweremotions in historyemotions in leadershipemotions in societyemperor akbarEuropean duelsfear and controlfear as a toolfear in governancefear in historyfear of deathfear tacticsfear-based loyaltyforced loyaltygrief in historyHarun al-RashidHector of TroyHistorical betrayalsHistorical conspiracieshistorical demonstrationshistorical dramahistorical emotionshistorical impulsive actionshistorical regretshistorical revengehistorical sorrowhistorical vendettashonor in historyhonor-based duelsHuman Emotionsimpact of emotionsimpulsive angerjealousy in historyJulius Caesar assassinationlove and hatredLucius Junius BrutusMachiavelli's philosophymanipulation in politicsmanipulation of fearmedia and emotionsmedieval diplomacymedieval politicsmonarchy abolitionmonarchy fearsMongol invasionsmughal historyparental griefpersonal rivalriespolitical conspiraciespolitical oppressionpolitical psychologyPower DynamicsPower Strugglesprejudice in historyprivate griefpsychological impact of fearPsychological TraumaPsychological Warfarepublic expression of emotionsreligious fearrivalry in historyroman republicroyal emotionsroyal executionsroyal paranoiarulers and assassinationsrulers and fearrulers' paranoiarulers’ insecuritiesshame in historysocial divisionssocial fearsudden lossSultan Ghiyas-ud-din Balbansymbolic protestsThe Princetrojan warunexpected tragedies
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Indus-Delta-A-heritage-sinking-into-the-sea-and-new-canals-on-the-Indus
Previous

انڈس ڈیلٹا: سمندر میں غرق ہوتا ایک ورثہ اور سندھو پر نئے کینال

There-is-a-lot-of-Ghibli-art-on-the-internet-What-is-Ghibli-art-and-what-is-its-background
Next

انٹرنیٹ پر گبلی آرٹ کی بھرمار۔۔ گبلی آرٹ کیا ہے اور اس کا پسِ منظر کیا ہے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme