
ملیر کی زرعی تہذیب کی ”رگِ جاں“ اور ”شہہ رگ“ وہ مخزنِ عظیم ہے، جس کا نام ”ریتی بجری“ ہے۔ اس عظیم الشان زرعی تہذیب کے زوال کی اصل وجہ ملیر کی ندیوں سے وسیع پیمانے پر ریتی بجری کے اخراج اور چوری کا بھیانک عمل ہے، جو اربوں روپے کا کالا کاروبار ہے۔
فطری ماحول سے کھلواڑ اور خطے میں سنگین ماحولیاتی خطرات پیدا کرنے والا یہ گھناؤنا کاروبار، برس ہا برس سے، قانونی پابندیوں اور واضح عدالتی احکامات کے باوجود خود حکومتی سرپرستی اور تحفظ میں پورے زور و شور اور آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔
ایشیائی بنک کی جانب سے مسترد شدہ اور سند یافتہ ماحول دشمن منصوبے، شاہراہِ بھٹو کی تعمیر میں بھی وسیع پیمانے پر ملیر ندی کی ریتی بجری بروئے کار لائی جارہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ریتی بجری کے اخراج اور شاہراہِ بھٹو کی تعمیر کے بھیانک امتزاجی عمل نے لائف سائیکل، ایکو سسٹم اور ملیر ندی کے ساختیاتی توازن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ لائف سائیکل یا ایکو سسٹم( جس کا ہم بھی ایک حصہ ہیں) کو نقصان پہنچانے یا تباہ کرنے کا مطلب زندگی کو نقصان پہنچانا یا تباہ کرنا ہے۔ یہ تسبیح کے باہم دگر منسلک دانوں پر مشتمل ایک شیرازہ ہے، جس کا ایک دانہ بھی اگر ٹوٹ کر بکھر جائے تو سارا شیرازہ بکھر جائے گا۔ حیوانات، پرندوں اور حشرات الارض کا معدوم ہو جانا اسی امر کا غماز ہے۔ لائف سائیکل یا ایکو سسٹم ایک حفاظتی حصار ہے جو ہماری زندگیوں کے تحفظ کی ناگزیر ضرورت ہے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ نت نئی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں اور انسان ان میں مبتلا ہوکر موت کی آغوش میں چلا جا رہا ہے، اس کی اصل وجہ ایکو سسٹم کے مذکورہ حفاظتی حصار کی تباہی ہے۔ تباہی کا یہ عمل، شاہراہِ بھٹو، بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ سٹی، ایجوکیشن سٹی، صنعتوں اور بھانت بھانت کے ہاؤسنگ پروجیکٹس کی صورت میں ترقی کا نام پر کیا جا رہا ہے۔ نام نہاد ترقی کا یہ تصور بھی خوب ہے اور شاید جدید دنیا کے ”تصورِ ترقی“ سے بھی بڑھ کر اعلٰی و ارفع کہ جدید دنیا (جو ترقی و کمال کے اوج ثریا تک پہنچ چکی ہے) میں آج بھی تمام تر ترقی کے باوجود، دیہی علاقے، مضافات اور باغات اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم و دائم ہیں، مجال ہے کہ کوئی درخت وہاں کٹے، کوئی باغ وہاں پامال ہوجائے۔
یہ شہری منصوبہ بندی کا کون سا اصول ہے کہ زرعی تہذیب کو پیوند خاک کرتے ہوئے پورے پاکستان کو ملیر میں بسایا جائے اور کراچی کو اس قدر وسعت دی جائے کہ اس کی حدود ایک طرف جامشورو تو دوسری طرف ٹھٹہ سے مل جائیں۔ جب لاڑکانہ، خیر پور، نواب شاہ، سکھر دادو وغیرہ میں پورے سندھ یا پاکستان کو بسایا نہیں جا سکتا ہے یا لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں پورے پاکستان کو بسانے کا اس طرح تصور نہیں کیا جاسکتا، تو کراچی کے زرخیز اور شاداب خطے ملیت نے آخر کیا جرم کیا ہے کہ اسے سنگ دلانہ سرمایہ دارانہ حرص کا نشانہ بنا کر پاکستان بھر سے غیر فطری آبادکاری کی بھینٹ جارہا ہے۔
مسئلہ عصبیت کا نہیں ہے، (خدارا اس کو عصبیت کے چشمے سے نہ دیکھا جائے) بلکہ قدرتی ماحول کے تحفظ، شہری منصوبہ بندی اور انڈیجینئس رائٹس کے مسلمہ عالمی اصولوں کا ہے، جن کو زرخیز ملیر کی تباہی اور آبادی کی غیر فطری پیوندکاری کے ساتھ بڑی بے دردی، سفاکی، بے حسی اور بے رحمی کے ساتھ پامال کیا جا رہا ہے کہ جیسے ملیر کے صدیوں سے آباد باشندے ان کے نزدیک انسان نہیں بلکہ حشرات الارض اور کیڑے مکوڑے ہیں۔
ظلم کی تعریف کیا ہے؟ ایک چیز کو اس کے اصل فطری مقام سے ہٹا کر غیر فطری یا غیر اصل مقام پر رکھ دینا۔یعنی جوتوں کو پگڑی اور پگڑی کو جوتوں کے مقام پر رکھ دینا۔ گلدان سے اگالدان اور اگالدان سے گلدان کا کام لینا۔۔ اور یہی ظلم ملیر کے ساتھ ہو رہا ہے، ملیر کے خوبصورت گلدان کو صنعتوں اور ہاؤسنگ پروجیکٹس کی یلغار صورت میں اگالدان میں تبدیل کیا جارہا ہے۔
ہاؤسنگ پروجیکٹس کی یلغار اور آبادی کی غیر فطری پیوند کاری کی وجہ سے نہ صرف صدیوں سے آباد مقامی لوگوں کے وسائل اور حقوق بری طرح متاثر ہو رہے ہیں بلکہ اس سنگین صورتحال نے ملیر کی زرعی، تہذیبی، ماحولیاتی اور جغرافیائی شناخت کو بھی سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
آبادی کی پیوندکاری کے نتیجے میں جہاں مقامی باشندوں پر سنگین معاشی، معاشرتی اور نفسیاتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، وہیں علاقے میں منشیات سمیت بھانت بھانت کے جرائم کو بھی فروغ مل رہا ہے۔
قدرت نے اس خوبصورت خطے کو سنگ و خشت یا کنکریٹ کا جنگل بنانے کے لیے نہیں، بلکہ بہاروں کی آبیاری اور جمالِ فطرت کی نشونما کے لیے تخلیق فرمایا تھا، حکمراں مگر ہمارے حصے میں ایسے ”بدصورت“ آئے کہ جو اعلیٰ وژن سے عاری اور جمالیاتی شعور و احساس سے محروم ہیں۔ ان کی نہ ختم ہونے والی حرص نے، ان کو اس طرح بے حس، سنگ دل اور بد ذوق بنادیا ہے کہ انہیں نہ خوبصورت باغات اور حسین مناظر سے دلچسپی ہے اور نہ لائف سائیکل اور ایکو سسٹم سے کوئی سروکار ہے۔ بس مال آ جائے کہیں سے بھی، کسی بھی صورت میں، یہی ان کا زندگی کا اصل مطمحِ نظر ہے۔
کس قدر حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ جن ایم پی ایز اور ایم این ایز کا کام قانون سازی کے ذریعے ملیر کے اصل جوہر یعنی زراعت کو قانونی تحفظ فراہم کرنا، کاشتکاروں کو مالکانہ حقوق دلوانا اور صدیوں سے آباد قدیم گوٹھوں کو قانون حیثیت دلانا تھا، انہوں نے اپنے دائرے کو فیور بلاک، پانی اور گٹر جیسے خالصتاً بلدیاتی امور تک محدود کر دیا ہے، انہی بلدیاتی نوعیت کے کاموں کی تکمیل کو وہ اپنے کمالِ فن کی معراج سمجھ کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ملیر کے مسائل کے تناظر میں حال ہی میں ملیر کے منتخب نمائندوں اور ”والیانِ اقتدار“ کے مابین ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کو بہت اہم قرار دیا جارہا ہے۔ لیز، مالکانہ حقوق، سروے نمبر زمینوں، گوٹھوں اور قبرستان کی زمینوں کے تحفظ سے متعلق بڑے خوش نما اعلانات سامنے آ رہے ہیں۔ کوئی بات مگر واضح اور دوٹوک نہیں ہے۔
یاد رہے کہ نوے دن میں عمل درآمد کے وعدوں پر مشتمل ایسے ہی اعلانات بلاول بھٹو نے عبدالحکیم بلوچ کی انتخابی کامیابی کے موقع پر بھی فرمائے تھے۔۔ اور خود عبدالحکیم بلوچ بھی اس ضمن میں وزیر اعلیٰ سندھ کو متعدد بار خطوط بھی ارسال کر چکے ہیں، مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد۔۔۔
خدا کرے کہ یہ بات غلط ہو مگر سامنے کا سچ بظاہر یہی ہے کہ ملیر کا عَلَم مفلوج ہاتھوں میں ہے۔ اگر ہمارے رہنما واقعتاً زورِ بازو رکھتے ہیں تو ”مفلوج ہاتھوں“ کے تاثر کی نفی کرتے ہوئے ملیر کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی زحمت کے بجائے، ضلعی انتظامیہ کے ذریعے موجود قوانین اور عدالتی فیصلوں پر ہی عمل درآمد کرواتے ہوئے ریتی بجری کی چوری تو رکوائیں۔
اگر آپ اتنے ہی بے بس اور لاچار ہیں کہ موجود قوانین کے نفاذ کے باب میں ضلعی انتظامیہ کا قبلہ درست نہیں کرسکتے تو پھر قیادت کے منصب پر آپ کو بیٹھنے کا سرے سے حق ہی نہیں ہے۔ تلخ نوائی کی معذرت۔




