ماں بولی (حصہ ہفتم)

حفیظ بلوچ

جب بات ریاستوں میں بولی جانے والی ماں بولیوں کی آتی ہے تو اس مرحلے پر ہندوستان اور پاکستان کے لسانی تجربات کو آمنے سامنے رکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ کون سی زبان بڑی ہے اور کون سی چھوٹی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست نے زبان کو طاقت کے ساتھ کس طرح جوڑا، اور اس جوڑ نے مقامی اور اقلیتی زبانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

یہ موازنہ دو واضح محوروں پر کیا جا سکتا ہے، ہندوستان میں ہندی اور انگریزی بمقابلہ مقامی زبانیں، اور پاکستان میں اردو اور انگریزی بمقابلہ دیگر مادری زبانیں۔ دونوں ریاستیں کثیر القومی ہیں، دونوں ایک ہی نوآبادیاتی نظام سے نکلیں، اور دونوں ایک ہی دن برطانیہ سامراج سے آزاد ہوئیں، مگر زبان کے سوال پر دونوں کے راستے یکساں نہ رہے۔

ہندوستان میں آزادی کے بعد ہندی کو قومی و سرکاری زبان بنانے کی کوشش کی گئی، مگر جلد یہ حقیقت سامنے آ گئی کہ ایک زبان پورے ملک کی نمائندگی نہیں کر سکتی۔ جنوبی ہندوستان، مشرقی خطوں، شمال مشرق اور قبائلی علاقوں میں ہندی کے خلاف شدید مزاحمت ابھری۔ یہ محض لسانی اختلاف نہیں تھا بلکہ شناخت اور اختیار کا سوال تھا۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں انگریزی کو رابطے کی زبان کے طور پر برقرار رکھا گیا اور سب سے اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ ریاستوں کی تشکیل انہی کے زبان کی بنیاد پر کی جائے۔

یہ اقدام اس بات کا اعتراف تھا کہ زبان صرف ثقافتی علامت نہیں بلکہ سیاسی شناخت بھی ہے۔ تمل، بنگالی، مراٹھی، تیلگو، کنڑ، ملیالم، گجراتی اور دیگر زبانوں کو اسکول سے یونیورسٹی تک ذریعۂ تعلیم بنایا گیا، ریاستی عدلیہ اور انتظامیہ میں جگہ دی گئی، سرکاری امتحانات، میڈیا اور معیشت میں ان زبانوں کو شامل کیا گیا۔ یوں مقامی زبانیں ریاستی ڈھانچے کا حصہ بنیں اور ہندوستانی وفاق کو ایک حد تک استحکام ملا۔

تاہم یہاں بھی مکمل برابری وجود میں نہ آ سکی۔ ہندی اور انگریزی کو قومی سطح پر فوقیت حاصل رہی، جبکہ چھوٹی زبانیں، قبائلی زبانیں اور اردو مسلسل دباؤ میں رہیں۔ اردو، جو تقسیم سے پہلے شمالی ہندوستان کی شہری اور تہذیبی زبان تھی، آزادی کے بعد مسلم شناخت کے ساتھ جوڑ دی گئی اور رفتہ رفتہ ایک اقلیتی زبان بن گئی۔ اس کے باوجود ہندوستانی ریاست کم از کم اس اصول کو تسلیم کرنے پر مجبور رہی کہ زبان کو مکمل طور پر کچلا نہیں جا سکتا، اسے کسی نہ کسی درجے میں آئینی اور ادارہ جاتی جگہ دینا پڑتی ہے۔

لیکن جہاں یہ اصول پوری طرح تسلیم نہ کیا گیا، وہاں تصادم نے جنم لیا۔ ناگالینڈ، منی پور، آسام اور دیگر شمال مشرقی علاقوں میں ریاستی جبر، عسکریت اور طویل تنازعات نے مقامی زبانوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہاں زبان صرف ثقافتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ مزاحمت اور ریاستی طاقت کے ٹکراؤ کی علامت بن گئی۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب زبان کو شناخت کے بجائے خطرہ سمجھا جائے تو نتیجہ ہمیشہ عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔

کشمیر اس تضاد کی سب سے تلخ مثال ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان طاقت کی اس چکی میں کشمیری عوام کے ساتھ ان کی زبانیں بھی پس رہی ہیں۔ ہندوستانی کشمیر میں کشمیری، ڈوگری، شینا اور دیگر زبانیں ہندی اور انگریزی کے دباؤ میں ہیں، جبکہ پاکستانی کشمیر میں اردو نے مقامی زبانوں کو حاشیے پر دھکیل رکھا ہے۔ دونوں طرف زبانوں کا مسئلہ ثقافتی نہیں بلکہ سیاسی کنٹرول کا سوال بن چکا ہے۔ ریاستیں زمین پر دعویٰ تو کرتی ہیں، مگر زبانوں کے ذریعے وہاں کے انسان کو تسلیم کرنے سے گریزاں رہتی ہیں۔

اب اگر پاکستان کی طرف دیکھیں تو یہاں اردو اور انگریزی بمقابلہ دیگر زبانوں کی کہانی کہیں زیادہ سخت اور مرکزی نوعیت کی ہے۔ پاکستان میں اردو کو محض رابطے کی زبان نہیں بلکہ واحد قومی شناخت بنا دیا گیا۔ یہ فیصلہ لسانی حقیقت کے بجائے نظریاتی خوف پر مبنی تھا۔ اسی سوچ کے تحت بنگالی زبان کو ریاستی سطح پر تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا، جس کا انجام سقوطِ ڈھاکہ کی صورت میں سامنے آیا۔

اس کے بعد بھی ریاستی سوچ میں بنیادی تبدیلی نہ آ سکی۔ سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی، براہوی اور دیگر زبانوں کو صوبائی حد تک محدود رکھا گیا۔ انگریزی اشرافیہ اور طاقتور طبقے کی زبان بنی، جبکہ اردو ریاستی اقتدار کی علامت بن گئی، 1973 کا آئین اردو کو قومی زبان قرار دیتا ہے، مگر مادری زبانوں کو ذریعہِ تعلیم، عدلیہ، سول و عسکری بیوروکریسی اور قومی معیشت میں حقیقی جگہ نہیں دیتا۔

پاکستان کی اقلیتی زبانیں بلوچی، براہوی، شینا، بلتی، کھوار، سرائیکی، ہندکو، گجراتی، مارواڑی اور دیگر زبانیں ریاستی نظام میں تقریباً غیر موجود ہیں۔ یہاں مادری زبان کا مطالبہ اکثر ثقافتی حق نہیں بلکہ سیاسی خطرہ سمجھا جاتا ہے، اور یہی سوچ زبانوں کو کمزور سے کمزور تر کرتی چلی گئی۔

سرحد کے دونوں طرف تقسیم ہونے والی قومیں اس تضاد کو اور نمایاں کر دیتی ہیں۔ پنجابی زبان ہندوستان میں ریاستی زبان ہے، تعلیمی نظام اور معیشت کا حصہ ہے، جبکہ پاکستان میں اکثریتی زبان ہونے کے باوجود ذریعہِ تعلیم اور ریاستی سرپرستی سے محروم ہے۔ سندھ میں سندھی کو صوبائی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، مگر عدلیہ اور اعلیٰ تعلیم میں اس کی موجودگی محدود ہے۔ ہندوستان میں سندھی ایک اقلیتی زبان ہونے کے باوجود کمیونٹی کی اپنی کوششوں سے زندہ ہے، جبکہ بلوچ زبانیں بلوچی اور براہوی پاکستان، ایران اور افغانستان میں پھیلی ہونے کے باوجود کسی بھی ریاست کی سرکاری سرپرستی سے محروم ہیں۔

یہ تمام مثالیں واضح کرتی ہیں کہ مسئلہ زبان کا نہیں، ریاستی رویئے کا ہے۔ ہندوستان نے زبانوں کو کسی حد تک منظم کر کے ریاست کو جوڑے رکھنے کی کوشش کی، جبکہ پاکستان نے ایک مرکز کی خاطر زبانوں کو دبایا، جس سے اقلیتی قوموں اور ماں بولیوں کا استحصال ہوا اور ریاستی بحران گہرا ہوتا گیا۔

جب تک زبان کو شناخت، علم، معیشت اور انصاف کے ساتھ نہیں جوڑا جائے گا، ریاست اور عوام کے درمیان خلیج برقرار رہے گی۔ یہی نکتہ ہمیں اگلے حصوں میں افغانستان، ایران، گلگت بلتستان، سندھ اور بالآخر بلوچستان کی زبانوں پر بات کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ کیونکہ ماں بولی کا سوال دراصل یہ ہے کہ ریاست انسان کو اس کی زبان کے ساتھ قبول کرتی ہے یا اس کے بغیر۔
(جاری ہے)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button