
نام نہاد ”ترقی“ اپنا خراج بہت جلد درختوں اور جنگلی حیات کی سینکڑوں اقسام کو نگل کر وصول کرے گی۔ ان میں سے بعض نایاب اور مقامی اقسام ایسی ہیں جو صرف ملیر کے علاقے میں پائی جاتی ہیں اور جنہیں بالغ ہونے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ مزید برآں، مون سون کے موسم میں وہ ندیاں جو کبھی میٹھا پانی لایا کرتی تھیں، اب پھیلتی ہوئی ہاؤسنگ اسکیموں اور ادارہ جاتی کمپلیکسوں کی آلودگی سے گھٹتی جا رہی ہیں۔ بالآخر یہ زندگی بخش دھارے گندے نالوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ آج بھی مقامی لوگ ندیوں کے کناروں پر بیٹھ کر اپنے مویشی چراتے ہیں اور فطرت کی آوازوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، لیکن مستقبل قریب میں سکھن اور ملیر کی بارانی ندیاں بہتی ہوئی قبروں میں تبدیل ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ صبح کے وقت پرندوں کی چہچہاہٹ خاموش ہو جائے گی اور رات کی پُرسکون تنہائی ہوا میں بکھرتی خوشبو کی طرح غائب ہو جائے گی۔
اس منصوبے نے مقامی اور قدیم آبادکار برادریوں میں گہری ناراضی کو جنم دیا ہے، جن کی آبائی زرعی زمینیں صاف کر دی گئی ہیں۔ دیہہ چوہڑ کے باشندے وہ وقت یاد کرتے ہیں جب یہ علاقہ آم، سیتاپھل، فالسہ، امرود، چیکو، بینگن اور لوکی جیسی فصلوں کے لیے ایک سرسبز اور زرخیز جنت تھا۔ آج بھی مقامی مرد اور عورتیں انہی کھیتوں میں محنت کرتے نظر آتے ہیں، جو اس مٹی کی زندہ قوت کا ثبوت ہے، لیکن ترقی کے نام پر اس سرسبز پٹی کو کنکریٹ کے ڈھانچوں کی نذر کیا جا رہا ہے۔
ایجوکیشن سٹی کا آغاز
صوبائی حکومت کی جانب سے ”ایجوکیشن سٹی“ کے قیام کی کوششوں کو 2001 میں صوبائی کابینہ کے فیصلے کے ذریعے باضابطہ رفتار ملی، اگرچہ اس کا تصور 2000 میں پیش کیا گیا تھا۔ مختلف اداروں کو زمینیں تو مسلسل الاٹ ہوتی رہیں، لیکن ایک جامع ماسٹر پلان برسوں تک مکمل نہ ہو سکا۔ 2006 میں سندھ کابینہ نے باضابطہ طور پر دیہہ چوہڑ کو اس منصوبے کے لیے مختص کر دیا۔ جب شہری جائیدادوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں تو قومی اور بین الاقوامی شہرت رکھنے والے اداروں نے اس مجوزہ شہر میں زمین حاصل کرنے میں دلچسپی دکھائی۔ 2021 تک یہاں تعمیراتی سرگرمیاں پوری شدت سے جاری تھیں۔
آج دیہہ چوہڑ میں پچاس سے زائد تعلیمی اور صحت کے ادارے قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔ اگرچہ ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ (EIA) اس منصوبے کی تکمیل کا ہدف 2050 بتاتی ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں کئی سنگین سماجی اور ماحولیاتی نتائج کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
”ترقی“ پر تنقید
مقامی ماحولیاتی کارکن حفیظ بلوچ کہتے ہیں: ”ایجوکیشن سٹی کی ترقی صرف اشرافیہ کے لیے ہے؛ عام لوگ ان اداروں کی فیسیں ادا ہی نہیں کر سکتے۔ سرمایہ دار یہ ادارے کمیونٹی کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ تجارتی منافع کے لیے بنا رہے ہیں۔“
حفیظ بلوچ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جس زمین پر قبضہ کیا گیا ہے وہ انتہائی زرخیز زرعی مٹی ہے، ”سونے سے بھی زیادہ قیمتی۔“ ان کے مطابق صوبائی حکومت نے سرمایہ کاروں کو اس ورثے کو تباہ کرنے کی ترغیب دی ہے، جس کے نتیجے میں ایک کنکریٹ کا جنگل کھڑا کیا جا رہا ہے، جبکہ مقامی خاندانوں کو بغیر کسی مناسب آبادکاری یا معاوضے کے بے دخل کیا جا رہا ہے۔
شاعر اور مترجم امر گل بھی اسی کرب کی بازگشت سناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ”میں نے کبھی ملیر کی سرسبزی پر خوش دلی سے گیت لکھے تھے؛ اب بھاری دل کے ساتھ اس کی تباہی پر لکھ رہا ہوں۔“
مقامی آبادی کے لیے معیشت زمین سے جڑی ہوئی ہے۔ بہت سے لوگ نہ ذہنی طور پر اور نہ ہی جسمانی طور پر اس بات کے لیے تیار ہیں کہ وہ کھیتی باڑی چھوڑ کر شہری مزدوری اختیار کریں۔ مزید یہ کہ نقل مکانی مقامی خواتین کی اس روایتی خودمختاری کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے جو زمین کے ساتھ ان کے عملی تعلق سے پیدا ہوتی ہے—ایک ایسا نظام جو اس وقت کراچی کی غذائی سلامتی کو سہارا دیتا ہے۔
اکرم جوکھیو کی مزاحمت
ملیر کی ٹھنڈی نومبر کی ہواؤں میں پرانی اور نئی دنیا کے درمیان فرق واضح دکھائی دیتا ہے۔ ڈملوٹی کے کنوؤں کے قریب، جو برطانوی دور کے تاریخی ڈھانچے ہیں اور شہر کے پانی کی فراہمی میں مدد کے لیے بنائے گئے تھے، منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔
اکرم جوکھیو وہ شخص ہیں جنہوں نے اپنے آبائی ورثے کو خاموشی سے مٹنے نہیں دیا۔ جب مقامی انتظامیہ بلڈوزر لے کر ان کے جھونپڑوں اور کھیتوں کو گرانے پہنچی اور یہ دعویٰ کیا کہ ان کی 1992 کی لیز 2023 میں ختم ہو چکی ہے، تو اکرم ڈٹ کر کھڑے ہو گئے۔ برطانوی دور کی دستاویزات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کی طاقت کے باعث وہ اپنی ایک تہائی زمین بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم دس ایکڑ زمین پھر بھی ایجوکیشن سٹی کے دفتر کے لیے ضبط کر لی گئی۔
جب ان سے اس نقصان کے بارے میں پوچھا گیا تو اکرم تلخ ہنسی کے ساتھ کہتے ہیں: ”اگر کسی کا گدھا مر جائے تو وہ بھی افسردہ ہو جاتا ہے، تو سوچیں مجھے کیسا لگتا ہوگا جب میرے دس ایکڑ چھین لیے گئے؟ انہوں نے مجھے ایک پیسہ بھی نہیں دیا۔ وہ اونچی عمارتیں بنا رہے ہیں اور ہم اپنے چھوٹے گھروں سے بھی نکالے جا رہے ہیں۔“
ماحولیاتی اور تاریخی زوال
اس علاقے کی حیاتیاتی تنوع حیرت انگیز ہے۔ فوٹوگرافر سلمان بلوچ کے مطابق یہاں تتلیوں کی 70، پرندوں کی 193، سانپوں کی 12 اور ممالیہ جانوروں کی 15 اقسام پائی جاتی ہیں۔ مقامی باشندے محمد مراد بلوچ بتاتے ہیں کہ رات کے وقت آغا خان یونیورسٹی کے نئے حاصل کردہ مقامات کے قریب جنگلی جانور گھومتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ جیسے جیسے ان کے مسکن باڑوں میں قید ہوتے جا رہے ہیں، ان انواع کو نقل مکانی یا معدومی کا خطرہ لاحق ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں
کراچی میں ماحولیاتی توازن بمقابلہ تعمیرات: فوٹوگرافر سلمان بلوچ سے مکالمہ
کراچی کا سب سے بڑا ضلع ملیر صدیوں سے مقامی سندھی اور بلوچ قبائل کا مسکن رہا ہے، جو ایک مشترکہ زرعی معاشرے کے طور پر ماحول پر انحصار کرتے تھے۔ تاہم، تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور ترقیاتی منصوبے زمین، پانی اور جنگلی حیات کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
حیاتیات سے آگے بڑھ کر یہ منصوبہ تاریخ کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اس علاقے میں پانچ آثارِ قدیمہ کے مقامات موجود ہیں اور یہ اس تاریخی راستے پر واقع ہے جہاں سے داستانوی کردار سسی گزری تھی۔ مورخ گل حسن کلمتی اور جامعہ کراچی کے محقق پروفیسر ڈاکٹر رخمان گل پالاری نے سسئی کے اس سفر کا سراغ سکھن دریا کے پار تک لگایا ہے، جو قرونِ وسطیٰ میں سندھ اور بلوچستان کے درمیان ایک اہم تجارتی رابطہ تھا۔ تعمیراتی سرگرمیاں دو تاریخی تراشیدہ قبرستانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہیں، جس سے ماضی کے مادی آثار مٹنے کا خدشہ ہے۔
ایک چھینی ہوئی نسل
دیہہ چوہڑ اور درسانو چھنو کے نوجوانوں کے سامنے مستقبل ایک ”چھینی ہوئی نسل“ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ چند دہائیوں میں ان کی ثقافتی روایات میگا ٹیکنالوجی زونز اور ہاؤسنگ اسکیموں کے سیلاب میں بہ جائیں گی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مقامی طلبہ، جو اکثر صرف میٹرک یا انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کر پاتے ہیں، ان بین الاقوامی اداروں کی فراہم کردہ اعلیٰ ملازمتوں کے لیے اہل بھی نہیں ہوں گے۔
ان کی زبان، قدیم قبرستان اور روایتی تہوار ایک اجنبیت کے احساس میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ انتیس دیہات تباہی کے خطرے سے دوچار ہیں کیونکہ زمینوں پر قبضہ کرنے والے اور تعمیراتی کمپنیاں مزید آگے بڑھ رہی ہیں۔ اگرچہ ان صوبائی فیصلوں میں مقامی سیاسی شخصیات بھی شامل رہی ہیں، لیکن بہت سے رہائشی اب بھی اس مدھم امید سے وابستہ ہیں کہ ان کے نمائندے مداخلت کریں گے۔
کراچی کی سبز پٹی کو بچانے اور مستقبل کی غذائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اجتماعی کوشش ضروری ہے۔ سول سوسائٹی، ماحولیاتی کارکنوں اور ترقی پسند سیاسی جماعتوں کو مقامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر منظم ہونا ہوگا۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ ایجوکیشن سٹی کی سرگرمیوں کا فوری جائزہ لے، زرخیز زمینوں کی تباہی روکے اور ان مقامی لوگوں کی لیزیں بحال کرے جو صدیوں سے اس زمین کی حفاظت کرتے آئے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر انگریزی سے ترجمہ کی گئی ہے اور سندھ کوریئر کے شکریہ کے ساتھ شائع کی جا رہی ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں
ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین ہتھیانے کا نیا سرمایہ دارانہ کھیل
سندھ حکومت کے متنازع منصوبے پر سوالات: ماحولیاتی کارکنوں کا شاہراہِ بھٹو ختم کرنے کا مطالبہ
دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 1




