
امریکہ میں ایران سے ممکنہ جنگی صورتحال کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں بڑے اضافے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے وائٹ ہاؤس سے 200 ارب ڈالر سے زائد فنڈز کی منظوری طلب کی ہے۔
رپورٹ میں ایک سینئر حکومتی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ خطیر رقم ایران کے خلاف ممکنہ جنگی اخراجات اور استعمال ہونے والے اہم ہتھیاروں کی فوری پیداوار بڑھانے کے لیے درکار ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ مجوزہ بجٹڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی اب تک کی عسکری مہمات کے اخراجات سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پینٹاگون کی جانب سے فنڈنگ سے متعلق کئی تجاویز زیر غور آئیں، تاہم حالیہ تجویز سب سے بڑی ہے اور اس پر امریکی امریکی کانگریس میں شدید سیاسی بحث متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی رقم کی منظوری نہ صرف دفاعی پالیسی بلکہ امریکی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
خبر کے مطابق اس معاملے پر United States Department of Defense اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث صورتحال مزید غیر یقینی کا شکار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس فنڈنگ کی منظوری دی جاتی ہے تو یہ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات محسوس کیے جائیں گے




