Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

پانچ لاکھ کلومیٹر کا سفر طے کرنے والے باپ نے چوبیس سال بعد گمشدہ بیٹا ڈھونڈ نکالا

By Akhtar Rasool
جولائی 15, 2021 2 Min Read
0

بیجنگ : چین میں چوبیس سال قبل اغوا ہونے والے بیٹے کی تلاش میں موٹرسائیکل پر پانچ لاکھ کلومیٹر سفر کرنے والے گوو گنگ تینگ کی محنت بالآخر رنگ لے آئی اور  بے قرار باپ کو اس کا لخت جگر مل ہی گیا

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے صوبے شینڈوگ میں بچپن میں اغوا ہونے والے بیٹے اور باہمت و مستقل مزاج باپ کی چوبیس سال بعد ملاقات پر جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔ اس موقع پر ہر آنکھ پُرنم تھی لیکن یہ آنسو خوشی کے تھے

گوآ ژین اس وقت دو سال کے تھے جب گھر کے باہر اکیلے کھیلتے ہوئے لاپتہ ہوگئے تھے۔ اغوا کاروں نے انھیں اغوا کرنے کے بعد ایک دور دراز علاقے میں ایک بے اولاد جوڑے کو فروخت کردیا تھا

گوو گنگ تینگ سے بیٹے کی جدائی برداشت نہیں ہوئی اور انھوں نے ملازمت چھوڑ کر موٹر سائیکل پر ایک بڑا پرچم باندھا جس میں بیٹے کی تصویر چھپی ہوئی تھی اور چوبیس برسوں میں پانچ لاکھ کلو میٹر کا سفر کیا

اس عرصے میں وہ نگر نگر مارے مارے پھرتے رہے اور انہوں نے گلی گلی کی خاک چھانی. وہ ہر اُس گلی گئے جہاں معمولی سی بھی معلومات ملنے کی امید تھی لیکن ہر جگہ مایوسی کا سامنا تھا. تاہم مستقل مزاج باپ نے ہمت نہیں ہاری اور بیٹے کو ہر اسپتال ہر تھانے اور ہر چوراہے پر ڈھونڈتا رہا

بیٹے کی تلاش میں سرگرداں باپ کی دیوانگی دیکھ کر سرکاری ادارے بھی متحرک ہوئے، یہاں تک کہ ایک دور دراز گاؤں میں ڈی این اے کی مدد سے بیٹے کا سراغ مل گیا۔

دو سال کی عمر میں اغوا ہونے والا بچہ اب اسکول ٹیچر تھا

خیال رہے کہ چین میں 80 اور 90 کی دہائی میں بچوں کے اغوا ہونے کا سلسلہ عام تھا، جس کی بنیادی وجہ ایک سے زائد اولاد پر پابندی عائد ہونا تھی کیوں کہ تمام والدین ہی بیٹے کی خواہش رکھتے تھے اس لیے زیادہ تر اغوا ہونے والے بچوں میں بھی لڑکے شامل ہوتے تھے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

لیونل میسی نے بارسلونا سے پانچ برس کا نیا معاہدہ کر لیا

Next

مائیکروسافٹ نے جدید ترین ’’ونڈوز 365‘‘ آپریٹنگ سسٹم کا اعلان کردیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme