برانڈ کلچر: انسانی وقار کی نیلامی اور استحصالی نظام

ریحانہ فتح خان

جدیدیت کی اس بے لگام دوڑ اور عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کے حصار میں ”برانڈ کلچر“ نے ایک ایسی سحر انگیز لیکن ظالم نفسیاتی اور معاشی لوٹ مار کی صورت اختیار کر لی ہے، جس میں آج کا انسان اپنی مرضی سے اپنی جیب اور خودداری کا سودا کرنے کو فخر سمجھتا ہے۔ یہ ایک ایسی سماجی کیفیت ہے جہاں انسان کے جوہرِ فطرت، علم اور قابلیت کو پہنے ہوئے کپڑوں کے بے جان ”لیبلز“ میں قید کر دیا گیا ہے۔ آج ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں انسان کی قیمت اس کے کردار سے نہیں، بلکہ اس کے پہنے ہوئے جوتوں یا ہاتھ میں تھامے موبائل کے برانڈ سے لگائی جاتی ہے۔ یہ روش صرف فیشن تک محدود نہیں، بلکہ ان عالمی کمپنیوں کے اس گہرے جال کا حصہ ہے جو ہمیں اشیاء نہیں بلکہ ”خوشنما خواہشات“ بیچتی ہیں۔

اگر تحقیقی نگاہ سے دیکھا جائے تو ایک برانڈڈ چیز کی قیمت کا بڑا حصہ اس کے معیار پر نہیں، بلکہ اس کے نام کی نمائش پر خرچ ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی بڑے برانڈ کی پیداواری لاگت اس کی فروخت کی قیمت کا صرف 15 سے 20 فیصد ہوتی ہے، جبکہ باقی تمام رقم مارکیٹنگ، مہنگے ماڈلز کی فیس اور بڑے مالز کی چمکتی دمکتی روشنیوں کا خرچ ہوتا ہے، جو ایک عام صارف اپنی جیب سے بھرتا ہے۔ یہ ایک ایسی خوشنما لوٹ مار ہے جس پر گاہک احتجاج کرنے کے بجائے خود کو اعلیٰ طبقہ ثابت کرنے کے لیے فخر محسوس کرتا ہے۔ بڑی کمپنیاں مارکیٹنگ کے جادو سے اپنی معمولی پیداواری لاگت پر لاکھوں روپے کا منافع کما کر صارف کی جیب پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈالتی ہیں۔

اس تمام استحصال کی سب سے تکلیف دہ حقیقت سوشل میڈیا کے رنگین اشتہارات کے پیچھے چھپے ان ہاتھوں کی توہین ہے، جو دن رات ایک کر کے تخلیق کے شاہکار تیار کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنے آس پاس اور ڈیجیٹل اسکرینز پر ہونے والی نمائش کا گہرا جائزہ لیں گے تو یہ تلخ حقیقت دیکھیں گے کہ کس طرح بڑے بڑے برانڈز غریب مزدور کا خون اپنے منافع کے رنگ میں بدلتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سوشل میڈیا پر ”کشمیری چوڑیوں“ یا ہماری مقامی خواتین کے ہاتھوں کی سحر انگیز کڑھائی کے بڑے چرچے تو کیے جاتے ہیں، لیکن یہ نام نہاد برانڈز ان محنت کش خواتین سے نہایت معمولی معاوضے میں وہ فن پارے خرید کر، ان پر اپنا لوگو لگا کر قیمت دس گنا کر دیتے ہیں۔ اس بے دردی کے عمل میں اس غریب کاریگر کی آنکھوں کی روشنی تو مدھم ہو جاتی ہے، لیکن اسے محنت کی آدھی اجرت بھی نہیں ملتی۔ ہم جسے ہنر کی قدردانی سمجھتے ہیں، وہ اصل میں اس مزدور کے پسینے کی لوٹ مار ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، ”فاسٹ فیشن“ (Fast Fashion) کے نام پر ہر ماہ نئے ڈیزائن متعارف کرا کر پرانی چیزوں کو بیکار قرار دینا نہ صرف ایک معاشی قتل ہے، بلکہ ماحولیاتی تباہی کا بھی بڑا سبب ہے۔ یہ چمکتے دمکتے برانڈز دنیا کے غریب محنت کشوں کا بدترین استحصال کرتے ہیں؛ جہاں مزدور کو چند سو روپے ملتے ہیں، وہیں وہی برانڈ اس کے ہاتھوں کا تیار کردہ جوڑا لاکھوں روپے میں فروخت کرتا ہے۔ اس تسلسل کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مصنوعی وقار کی زنجیروں کو توڑ کر کاریگروں کو براہِ راست مارکیٹ تک رسائی دلانے کے لیے مالی اور تخلیقی تعاون کریں۔ ہمیں یہ شعور اجاگر کرنا ہوگا کہ انسان کا وقار کسی کمپنی کے بنائے ہوئے ”لوگو“ میں قید نہیں، بلکہ اس کے اپنے کردار اور مٹی سے جڑے ہونے میں ہے۔

نئی نسل کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ حقیقی ”برانڈ“ انسان خود ہوتا ہے۔ آپ کی پہچان اس ”ٹیگ“ میں نہیں جو آپ کی شرٹ پر لگا ہے، بلکہ اس ”اخلاق اور علم“ میں ہے جو آپ کی شخصیت سے ظاہر ہوتا ہے۔ کسی بھی چیز کو خریدتے وقت خود سے پوچھیں کہ کیا یہ آپ کی ”ضرورت“ ہے یا صرف ”نمائش“؟ اگر ہمارا پیسہ صرف دوسروں کی آنکھوں کو خوش کرنے کے لیے خرچ ہوتا ہے، تو ہم برانڈز کے غلام ہیں۔ اپنی مٹی کے ہنر کو، اجرک کے رنگوں کو اور مقامی کاریگر کی محنت کو اپنا اعزاز بنائیں۔ یاد رکھیں، لاکھوں روپے کا موبائل ہاتھ میں لے کر گھومنے والا کبھی باوقار نہیں ہو سکتا، بلکہ سادہ لباس میں بااخلاق انسان ہر محفل کی زینت ہوتا ہے۔

یاد رکھیں کہ انسان کی حقیقی پہچان اس کے پہنے ہوئے لباس کی قیمت میں نہیں، بلکہ اس کے کردار کی سچائی اور جوہرِ فطرت میں ہوتی ہے۔ جس دن ہم اپنے وجود کو عالمی کمپنیوں کا ”چلتا پھرتا اشتہاری بورڈ“ بننے سے بچا کر اپنی مٹی کے ہنر، سادگی اور سچائی سے جوڑیں گے، اس دن برانڈز کا یہ نفسیاتی سحر کسی کاغذی محل کی طرح ڈھیر ہو جائے گا۔

ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ شعور دینا ہوگا کہ دنیا کا کوئی بھی چمکتا ہوا لوگو محنت کش کے اس پسینے کے قطرے کا متبادل نہیں ہو سکتا، جو کسی شاہکار کو تخلیق کرنے کے لیے محنتی ہاتھوں سے ٹپکتا ہے۔ حقیقی چمک کسی فیکٹری کی مشین سے نکلنے والے پلاسٹک میں نہیں، بلکہ محنت کے اس دمکتے پسینے میں ہوتی ہے جو انسان کو سچا انسانی وقار اور زندگی عطا کرتا ہے۔ جس دن ہم نے چیزوں کو ضرورت کی آنکھ سے دیکھنا شروع کر دیا، اس دن یہ مصنوعی زنجیریں خود بخود ٹوٹ جائیں گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button