
گزشتہ دنوں ایک دوست نے ہم چند دوستوں کے ایک واٹس ایپ گروپ میں
فلم Happy Patel Khatarnak Jasoos شیئر کی اور اسی دن انہوں نے وائس میسج کر کے اس فلم کو کچرا قرار دے کر دوستوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس کچرے پر وقت ضائع نہ کریں۔ یہ تنبیہہ ایسے ہی تھی، جیسے کسی پاگل کو کہا گیا کہ خبردار فلاں شخص کو پتھر نہیں مارنا تو پاگل کہنے لگا، اچھا ہوا تم نے یاد دلا دیا۔۔ اب دیکھ مزہ۔۔ تو ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، ہم نے دے مارا فلم دیکھنے کا پتھر۔۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر اس فلم کو محض ایک مزاحیہ فلم سمجھ کر دیکھا جائے تو شاید اس کے کئی پہلو نظر سے اوجھل رہ جائیں۔ دراصل یہ فلم بظاہر ہلکے پھلکے انداز میں اُس پورے سنیما پر طنز کرتی محسوس ہوتی ہے جس میں جاسوس کو ایک غیر معمولی، تقریباً مافوق الفطرت کردار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاسوسی فلموں میں ایک ایسا ہیرو دکھایا جاتا ہے جو نہ صرف ذہانت اور طاقت میں سب سے آگے ہوتا ہے بلکہ خطرے کے ہر مرحلے سے معجزاتی انداز میں بچ نکلتا ہے۔ فلم ہیپی پٹیل خطرناک جاسوس اس روایتی فلم سازی پر ایک چبھتا ہوا طنز ہے۔
میہڑ کی مہندی: خوشبو کے لمس اور رنگوں کی سرگوشی کی کہانی
’سندھو جی گونج‘: سندھی سینیما کی نئی بازگشت
اور میں ایسا کیوں سوچتا ہوں؟ چلیں اب اس پر بات کرتے ہیں۔
اس فلم کے بارے میں عامر خان نے جو پروموشن وڈیو یوٹیوب پر ڈالی تھی، جس میں پروڈیوسر عامر خان کو اس فلم کے مرکزی اداکار اور ہدایت کار ویر داس کو پیٹتے ہوئے دکھایا گیا تھا، کیونکہ اس نے بطور ہدایت کار اپنی پہلی فلم کے طور پر ایک ایسی ”فلاپ“ جاسوسی فلم بنا دی ہے، جس میں نہ کوئی ٹھیک ایکشن ہے اور نہ ہی روایتی رومانوی کہانی۔ وہ کہتے ہیں کہ فلم میں ایکشن کا حال یہ ہے کہ ہیرو ساری فلم میں پٹتا رہتا ہے اور رومانس کا حال یہ ہے کہ ہیروئن صرف اسے تھپڑ مارتی رہتی ہے۔ پھر عامر خان اس سے پوچھتے ہیں کہ اس نے کسی مناسب آئٹم سانگ کے بجائے خود ہی ”آئٹم گرل“ بننے کا فیصلہ کیوں کیا۔ اس پر ویر داس کہتا ہے کہ اس نے ایک منفرد (آف بیٹ) فلم بنائی ہے، آپ بھی تو یہی کہتے ہیں۔ لیکن عامر خان جواب دیتے ہیں کہ وہ یہ بات صرف انٹرویوز میں کہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آپ یہ فلم دیکھتے ہوئے ذرا جاسوسی کے موضوع پر بنائی گئی ہولی وڈ اور بولی وڈ فلموں کو ذہن میں رکھیں، یقین کریں آپ کو یہ فلم ایک الگ ہی چس دے گی۔ (صرف اس زاویے سے! اور ہاں، خبردار۔۔ کسی کو پتھر نہیں مارنے آپ نے۔)
ہیپی پٹیل کو انڈیا بھیجنے سے پہلے وہاں کی روایات، رویوں اور زبان کے بارے میں ٹریننگ دی جاتی ہے۔۔ اور کیسا اس کے لہجے کو ”شدھ ہندی“ میں ڈھالا جاتا ہے۔ اس تناظر میں اگر آپ پاکستان آئے ہندی فلمی دنیا کے جاسوسوں کی آپ جناب، برخوردار، سرمے سے بھری آنکھوں، سر پر پہنی ٹوپی اور کندھوں پر دھرے تکونی رومال کو دیکھیں تو یہ ہیپی پٹیل ان سب کا منہ چڑاتا ہوا نظر آئے گا۔ یوں ”ہیپی پٹیل“ کا کردار دراصل روایتی جاسوسی فلموں کے خلاف ایک طنزیہ بغاوت معلوم ہوتی ہے۔
شاید یہی وہ پہلو ہے جس نے عامر خان جیسے اداکار اور پروڈیوسر کو اس منصوبے کی طرف متوجہ کیا ہوگا۔ عامر خان اکثر ایسے موضوعات کو پسند کرتے ہیں جو روایتی بیانیے سے ہٹ کر ہوں یا سنیما کے کسی قائم شدہ تصور کو نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کریں۔ اگر اس فلم کو اسی تناظر میں دیکھا جائے تو ”ہیپی پٹیل: خطرناک جاسوس“ صرف ایک مزاحیہ جاسوسی کہانی نہیں بلکہ جاسوسی فلموں کے مبالغہ آمیز ہیرو ازم پر ایک لطیف اور دلچسپ طنز بھی بن جاتی ہے۔
سنیما کے ہورڈنگ بنانے سے ’انڈیا کا پکاسو‘ بننے تک کا سفر۔۔ معروف مصور ایم ایف حسین کی کہانی
فلم دی گوٹ لائف، اصل حقیقت اور فلم میں کام کرنے والے عرب اداکار کی معافی۔۔ معاملہ کیا ہے؟




