
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی روابط کا آغاز ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ملاقات کے بعد باضابطہ طور پر امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کا اعلان کیا گیا۔ خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال، توانائی بحران اور عالمی دباؤ کے تناظر میں یہ پیش رفت نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔
شہباز شریف اور جے ڈی وینس کی ملاقات
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے اسلام آباد میں تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں خطے میں پائیدار امن، جنگ بندی اور مذاکراتی فریم ورک پر گفتگو کی گئی۔ پاکستانی قیادت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازع کے فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور سہولت کاری کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
امریکی وفد میں اعلیٰ سطحی نمائندے بھی شامل تھے جبکہ پاکستانی جانب سے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے شرکت کی۔ دونوں ممالک نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ایرانی وفد کی سرگرم سفارت کاری
مذاکرات سے قبل ایک ایرانی وفد نے بھی اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں آئندہ ممکنہ مذاکرات کے خدوخال اور طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی نمائندوں نے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہا اور امن عمل میں پیش رفت کی امید ظاہر کی۔
ایرانی وفد نے پاکستانی عسکری قیادت سے بھی ملاقات کی، جس کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔ تاہم اس بات کی باضابطہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی کہ مذاکرات براہ راست ہوں گے یا بالواسطہ۔
مذاکرات کے بنیادی نکات
اسلام آباد میں جاری سفارتی سرگرمیوں کا مرکز چند اہم معاملات ہیں، جن پر دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔
لبنان میں جنگ بندی
ایران کا مطالبہ ہے کہ لبنان میں فوری جنگ بندی کو مذاکرات کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ تہران کے مطابق خطے میں استحکام کے بغیر کسی بھی جامع معاہدے کا تصور ممکن نہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی اس مسئلے کو الگ تناظر میں دیکھتے ہیں۔
پابندیاں اور منجمد اثاثے
ایران برسوں سے عائد معاشی پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی کا خواہاں ہے۔ امریکی حکام عندیہ دے چکے ہیں کہ بعض پابندیوں میں نرمی ممکن ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے ایران کو اپنے جوہری اور میزائل پروگرام سے متعلق یقین دہانیاں دینا ہوں گی۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال
عالمی توانائی سپلائی کے اہم راستے آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی مذاکرات کا مرکزی نکتہ ہے۔ ایران اس اہم گزرگاہ پر اپنی نگرانی کو تسلیم کرانے کا خواہاں ہے جبکہ امریکہ چاہتا ہے کہ بحری آمدورفت مکمل طور پر آزاد رہے تاکہ عالمی منڈی متاثر نہ ہو۔
یورینیم افزودگی اور جوہری پروگرام
واشنگٹن ایران کی یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں پر سخت مؤقف رکھتا ہے۔ امریکی قیادت اسے ناقابلِ سمجھوتہ معاملہ قرار دیتی ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے عالمی قوانین کے مطابق حق حاصل ہے۔
میزائل پروگرام اور علاقائی سلامتی
ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی شدید اختلاف موجود ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس میں کمی چاہتے ہیں، جبکہ تہران اسے اپنی دفاعی حکمت عملی کا لازمی حصہ قرار دیتا ہے۔
امریکی افواج کی موجودگی
ایران خطے سے امریکی افواج کے انخلا اور عدم جارحیت کے واضح وعدوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ امن معاہدے تک خطے میں فوجی موجودگی برقرار رہے گی۔
پاکستان کا ثالثی کردار
پاکستان خطے میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر امن کی کوششوں میں کردار ادا کر رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر پیغامات کا تبادلہ پاکستانی حکام کے ذریعے ہو سکتا ہے، اور اگر پیش رفت مثبت رہی تو براہ راست مذاکرات بھی ممکن ہیں۔
اسلام آباد میں جاری سرگرمیوں سے عالمی برادری کی نظریں جڑی ہوئی ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف مشرق وسطیٰ میں استحکام آئے گا بلکہ عالمی توانائی منڈی اور معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اسلام آباد میں ایران۔امریکہ مذاکرات: جے ڈی وینس کے لیے سفارتی امتحان، خطے کا مستقبل داؤ پر
ایران کا 10 نکاتی منصوبہ: کن شرائط پر امریکہ مذاکرات کے لیے آمادہ ہوا؟
ایران میں امریکی ایف-15 طیارہ گرنے کا دعویٰ، لاپتہ عملے کی تلاش میں دوڑ تیز




