ایک ارب ڈالر روکڑا اور ایک خوبصورت دلہن دو ورنہ۔۔ یوگنڈا کے آرمی چیف کا ترکیہ سے حیران کن مطالبہ اور دھمکی

سنگت ڈیسک

بین الاقوامی سیاست میں عموماً الفاظ تول کر بولے جاتے ہیں۔ سفارت کار ایک جملہ لکھنے سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں، بیانات کے مسودے وزارتِ خارجہ کی میزوں پر گھومتے ہیں اور پھر کہیں جا کر دنیا کے سامنے آتے ہیں، لیکن کبھی کبھی عالمی سیاست میں کوئی ایسا کردار بھی نمودار ہو جاتا ہے جو سفارت کاری کے اس پورے سنجیدہ نظام کو ایک ہی جملے میں الٹ پلٹ کر رکھ دیتا ہے۔

دنیا نے بڑے بڑے سفارت کار دیکھے ہیں؛ میکیاولی سے لے کر ہنری کسنجر تک، لیکن یوگنڈا کے آرمی چیف اور صدر کے صاحبزادے، جنرل مہوزی کائنروگابا نے سفارت کاری کو جس ”حسین“ موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، وہاں عقل دنگ اور تاریخ ششدر رہ جاتی ہے۔ جہاں دنیا ایٹمی معاہدوں اور تجارتی پابندیوں پر مغز ماری کرتی ہے، وہاں جنرل صاحب کا فلسفہ سادہ ہے، ”ایک ارب ڈالر روکڑا اور ایک خوبصورت دلہن دو، ورنہ سفارت خانہ بند کر دو!“

تازہ ترین قسط میں جنرل صاحب کی نظرِ کرم ترکیہ پر پڑی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ترکیہ انہیں ایک ارب ڈالر اور ملک کی خوبصورت ترین خاتون بطورِ زوجہ عطا کرے۔ وجہ؟ وجہ یہ بتائی گئی کہ یوگنڈا کے فوجی صومالیہ میں ”الشباب“ سے لڑ رہے ہیں اور ترکیہ وہاں بیٹھا سکون سے انفراسٹرکچر کے ٹھیکے لے رہا ہے۔

جنرل صاحب کا منطقی استدلال یہ ہے کہ چونکہ ہم وہاں خون بہا رہے ہیں، اس لیے ترکیہ کو چاہیے کہ وہ یوگنڈا کو ”سیکیورٹی ڈیوڈنڈ“ ادا کرے۔ اور چونکہ صرف پیسوں سے دل نہیں بھرتا، اس لیے ایک ترک نژاد بیگم بھی اس ”پیکیج“ کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ اگر 30 دن میں یہ ”جہیز“ نہ پہنچا تو ترکیہ اپنا بوریا بستر گول کرے اور کمپالا سے روانہ ہو جائے۔

انہوں نے لکھا کہ یوگنڈا برسوں سے صومالیہ میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوجی خدمات انجام دے رہا ہے، جہاں اس کے سپاہی افریقن یونین کے امن مشن کے تحت تعینات ہیں اور عسکریت پسند تنظیم الشباب کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف ترکیہ صومالیہ کے دارالحکومت موگادیشو میں بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ جنرل کے مطابق اگر کوئی ملک فائدہ اٹھا رہا ہے تو اسے ”سیکیورٹی فیس“ بھی ادا کرنی چاہیے، اور یہی وہ لمحہ تھا جب عالمی سیاست کی میز پر ایک ارب ڈالر کے ساتھ دلہن کا ذکر بھی آ گیا۔

اس اعلان نے سفارتی حلقوں کو حیران کر دیا ہے کیونکہ عام طور پر سفارتی تنازعات میں تجارت، سرحدیں یا سیاسی مفادات زیر بحث آتے ہیں، لیکن یہاں پہلی بار دلہن بھی سفارت کاری کے ایجنڈے میں شامل ہو گئی تھی۔ اگر عالمی سفارت کاری کو کبھی مزاحیہ ڈرامہ بنایا جائے تو شاید یہ منظر اس کی بہترین مثال بن سکتا ہے۔

اس قصے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جنرل کائنروگابا کوئی عام فوجی افسر نہیں بلکہ افریقی ملک یوگنڈا کے صدر یوویری موسیونی کے بیٹے بھی ہیں۔ صدر موسیونی تقریباً چار دہائیوں سے اقتدار میں ہیں اور افریقی سیاست کے تجربہ کار رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس لیے جب ان کے بیٹے کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آتے ہیں تو دنیا یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ آیا یہ محض ایک شخص کی سوشل میڈیا شرارت ہے یا پھر اقتدار کے ایوانوں میں بھی اسی طرح کی گفتگو ہوتی ہوگی۔ بعض مبصرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر مستقبل میں کائنروگابا واقعی اقتدار میں آ گئے تو شاید عالمی سفارت کاری کا انداز بھی بدل جائے اور سفارتی معاہدوں کے ساتھ شادی کی پیشکشیں بھی شامل ہونے لگیں۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جنرل صاحب کا دل کسی غیر ملکی خاتون پر آیا ہو۔ 2022 میں ان کی نظرِ انتخاب اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی پر ٹھہری تھی۔ انہوں نے میلونی کو شادی کی پیشکش کرتے ہوئے بدلے میں 100 نایاب ’انکولے‘ گائیں دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ”میں اپنی دلہن کے لیے دنیا کی بہترین گائیں دوں گا،“ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا۔

اس پیشکش میں ایک عجیب سی دیہی رومانویت بھی تھی، گویا بین الاقوامی سفارت کاری نہیں بلکہ کسی قدیم افریقی داستان کا منظر ہو جہاں دلہن کے بدلے مویشیوں کا تبادلہ کیا جاتا تھا۔ انہوں نے مزاحیہ انداز میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر ان کی پیشکش رد کر دی گئی تو وہ روم پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ اس بیان کے بعد عالمی میڈیا نے انہیں ایک ایسا جنرل قرار دیا جو ٹویٹر پر جنگ بھی لڑ سکتا ہے اور شادی بھی طے کر سکتا ہے۔

بہرحال جب اطالویوں نے اس شاہانہ پیشکش کو (شاید صدمے کی وجہ سے) نظر انداز کیا، تو جنرل صاحب نے دھمکی دے ڈالی کہ وہ روم پر حملہ کر دیں گے۔ یہ تو بھلا ہو لاڈلے فوجی سربراہ کے والد، صدر یوویری موسیونی کا، جنہوں نے فوری طور پر معافی مانگی اور بیٹے کو سمجھایا کہ ”بیٹا، ٹویٹر تھوڑا کم چلایا کرو“۔

اسی طرح ایک موقع پر انہوں نے پڑوسی ملک کینیا پر حملے کی دھمکی بھی دے دی تھی۔ اس بیان نے سفارتی ہلچل مچا دی اور بالآخر یوگنڈا کی حکومت کو وضاحت اور معذرت کرنا پڑی۔ لیکن اس کے باوجود جنرل صاحب کی سوشل میڈیا سرگرمیاں کم نہ ہوئیں۔ ان کے اکاؤنٹ پر کبھی جنگ کے اعلانات ہوتے ہیں، کبھی دوستی کے پیغامات اور کبھی ایسی رومانوی سفارت کاری جس میں دلہنیں اور گائیں بھی شامل ہو جاتی ہیں۔

جنرل مہوزی کی ٹویٹس کسی بین الاقوامی تھرلر فلم کے اسکرپٹ جیسی ہوتی ہیں۔ کبھی وہ کینیا پر قبضے کی دھمکی دیتے ہیں، کبھی ایران کو امن معاہدے کے لیے پیغامات بھیجتے ہیں (جس پر ایرانی سفارت خانے نے بھی سر پکڑ لیا)، اور کبھی اسرائیل کی حفاظت کے لیے ایک لاکھ فوجی بھیجنے کا اعلان کر دیتے ہیں۔

یہی نہیں، ان سے اور بھی کئی دلچسپ حقائق منسلک ہیں، جو آپ کو ہنسنے (یا رونے) پر مجبور کر دیں گے۔ مہوزی صرف جنرل نہیں، بلکہ یوگنڈا کے 38 سالہ دورِ اقتدار والے صدر کے بیٹے ہیں۔ انہیں ”ٹوئنٹی فرسٹ سنچری“ کا وہ شہزادہ سمجھا جاتا ہے جس کے پاس اسمارٹ فون اور فوج دونوں ہیں۔ ان کی ٹویٹس اتنی خطرناک ثابت ہوئی ہیں کہ ان کے والد کو انہیں فوج کے اہم عہدوں سے ہٹانا پڑا، لیکن وہ پھر بھی کسی نہ کسی طرح واپس آ ہی جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر انہیں ”ٹویٹنگ جنرل“ کہا جاتا ہے۔ لوگ ڈرتے کم اور ان کے اگلے مطالبے کا انتظار زیادہ کرتے ہیں۔

ان کے حالیہ مطالبے پر ترکیہ فی الحال خاموش ہے، شاید وہ ابھی تک ”خوبصورت دلہن“ کی تلاش کے لیے کوئی ٹیلنٹ شو منعقد کرنے کا سوچ رہے ہیں یا پھر ایک ارب ڈالر کے نوٹ گن رہے ہیں، لیکن ایک بات طے ہے: جب تک جنرل مہوزی کے پاس انٹرنیٹ کنکشن موجود ہے، عالمی سیاست بورنگ نہیں ہو سکتی۔

دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں شاید ایٹمی میزائلوں سے ڈرتی ہوں گی، لیکن یوگنڈا کے پڑوسی اور حریف اب صرف جنرل صاحب کے ”لاگ ان“ ہونے سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ اگلا مطالبہ کیا ہوگا؟ شاید سویڈن سے نوبل پرائز اور آدھی کافی کی پیداوار؟ کچھ بھی ممکن ہے!


Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button