
یورپ کے وسط میں واقع ملک ہنگری کے حالیہ پارلیمانی انتخابات نے نہ صرف ملکی سیاست کا دھارا بدل دیا بلکہ اس کے اثرات بحرِ اوقیانوس کے پار امریکہ تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ 16 برس سے اقتدار پر قابض وزیر اعظم وکٹر اوربان کو اپوزیشن رہنما پیٹر میگیار (موجور) نے واضح اکثریت سے شکست دے کر ایک نئے سیاسی دور کا آغاز کر دیا ہے۔
اوربان کی شکست کیوں غیر معمولی ہے؟
وکٹر اوربان طویل عرصے سے یورپ میں قدامت پسند اور قوم پرست سیاست کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی حکمرانی کے دوران ریاستی اداروں، میڈیا اور عدالتی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں کیں جنہیں ناقدین طاقت کے ارتکاز سے تعبیر کرتے رہے۔ ان کی جماعت فیڈز نے مسلسل انتخابات جیت کر دو تہائی اکثریت کے ذریعے آئینی ترامیم بھی منظور کروائیں۔
تاہم حالیہ انتخابی نتائج نے ثابت کیا کہ عوامی رائے ہمیشہ یکساں نہیں رہتی۔ معاشی جمود، یورپی یونین سے کشیدہ تعلقات اور داخلی سیاسی تنازعات نے ووٹرز کو متبادل قیادت کی طرف راغب کیا۔
پیٹر میگیار کون ہیں؟
45 سالہ وکیل اور سابق سفارت کار پیٹر میگیار ماضی میں خود اوربان کی جماعت سے وابستہ رہے۔ انہوں نے سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دیں اور یورپی یونین میں ہنگری کی نمائندگی بھی کی۔ مگر 2024 میں ایک سیاسی اسکینڈل کے بعد انہوں نے حکمران جماعت سے علیحدگی اختیار کی اور بدعنوانی کے خلاف آواز بلند کی۔
میگیار نے خود کو ایک اصلاح پسند رہنما کے طور پر پیش کیا، جو ادارہ جاتی توازن، عدالتی خودمختاری اور یورپی یونین کے ساتھ بہتر تعلقات کا حامی ہے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران یہ مؤقف اپنایا کہ ہنگری کو دوبارہ “آزاد اداروں” کی طرف لوٹنا ہوگا۔
پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت
تقریباً تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد میگیار کی مرکزی دائیں بازو کی ٹیسزا پارٹی نے 199 رکنی پارلیمنٹ میں 138 نشستیں حاصل کر لیں، جو دو تہائی اکثریت کے لیے درکار تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔ اس کامیابی سے انہیں آئینی اور قانونی اصلاحات متعارف کرانے میں نمایاں برتری حاصل ہوگی۔
اپنی فتح کے بعد بوڈاپیسٹ میں خطاب کرتے ہوئے میگیار نے اعلان کیا کہ وہ اختیارات کے توازن کو بحال کریں گے اور ایسے عہدیداروں کو ہٹائیں گے جنہیں وہ حکومتی اثر و رسوخ کی علامت قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہنگری کو ایک نئی شروعات کی ضرورت ہے۔
یورپی یونین کا ردعمل
ہنگری کے انتخابی نتائج پر یورپی یونین کے متعدد رہنماؤں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اوربان کے دور میں برسلز اور بوڈاپیسٹ کے تعلقات کشیدہ رہے، خاص طور پر روس سے قریبی روابط اور یوکرین کی حمایت سے متعلق اختلافات کے باعث۔
میگیار نے عندیہ دیا ہے کہ وہ یورپی یونین سے منجمد فنڈز کی بحالی کے لیے فوری سفارتی رابطے کریں گے۔ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ وارسا، ویانا اور برسلز متوقع ہے، جس کا مقصد یورپ کے ساتھ اعتماد کی بحالی بتایا جا رہا ہے۔
امریکہ میں سیاسی اثرات
ہنگری کے انتخابی نتائج کو امریکہ میں بھی توجہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کئی امریکی قدامت پسند رہنما اوربان کو نظریاتی اتحادی سمجھتے رہے ہیں۔ تارکین وطن کے خلاف سخت پالیسی اور “مضبوط قیادت” کا بیانیہ دونوں رہنماؤں میں مشترک تصور کیا جاتا تھا۔
اوربان کی شکست نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا دائیں بازو کی عالمی لہر کمزور پڑ رہی ہے یا نہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتیجہ اس بات کی علامت ہے کہ حتیٰ کہ مضبوط اقتدار رکھنے والے رہنما بھی عوامی ناراضی کے سامنے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔
تنازعات اور چیلنجز
میگیار کی سیاسی پیش رفت تنازعات سے خالی نہیں رہی۔ ان کی ذاتی زندگی اور بعض الزامات کو انتخابی مہم کے دوران موضوع بنایا گیا۔ تاہم انہوں نے ان الزامات کو سیاسی حربہ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔
اب اصل امتحان اقتدار سنبھالنے کے بعد شروع ہوگا۔ ہنگری کی معیشت 2022 سے سست روی کا شکار ہے، جبکہ توانائی کے لیے روس پر انحصار ایک اہم مسئلہ ہے۔ میگیار نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2035 تک روسی توانائی پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی اپنائیں گے، تاہم ماسکو کے ساتھ “عملی تعلقات” برقرار رکھنے کی بات بھی کی ہے۔
آگے کا راستہ
ہنگری کی نئی قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج جمہوری اداروں کی بحالی اور معاشی استحکام ہے۔ نوجوان ووٹرز میں تبدیلی کی امید پائی جاتی ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کسی بھی سیاسی نظام کی ازسرِ نو تعمیر وقت اور مستقل مزاجی کی متقاضی ہوتی ہے۔
یہ انتخابی نتیجہ نہ صرف ہنگری بلکہ یورپ اور امریکہ کی سیاست میں بھی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ آیا یہ ایک وسیع تر عالمی تبدیلی کا اشارہ ہے یا محض مقامی سیاسی ردعمل اس کا تعین آنے والے مہینوں میں ہوگا۔




