
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران ایران نے سفارتی محاذ پر سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ سے اہم ٹیلیفونک رابطے کیے جن میں جاری جنگ، ممکنہ جنگ بندی، امریکی کردار اور خطے کی بدلتی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
ایرانی ذرائع کے مطابق سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ہونے والی گفتگو میں عراقچی اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے امریکہ۔اسرائیل۔ایران کشیدگی، سفارتی راستوں اور جنگ بندی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ بحران کا حل سیاسی اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
اسی دوران عباس عراقچی نے ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے بھی براہ راست رابطہ کیا اور انہیں جنگ بندی سے متعلق تازہ پیش رفت اور جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔
پاکستان کی ثالثی، جنگ بندی اور ناکام مذاکرات
آٹھ اپریل کو پاکستان کی ثالثی سے دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی جس کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات شروع ہوئے۔ ایران نے مذاکرات کے دوران دس نکاتی تجویز پیش کی جس میں امریکی افواج کے انخلا اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے جیسے اہم مطالبات شامل تھے۔
تاہم 11 اور 12 اپریل کو تقریباً اکیس گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کسی معاہدے پر منتج نہ ہو سکے۔ ایرانی نمائندوں نے واضح طور پر کہا کہ انہیں واشنگٹن کے وعدوں پر اعتماد نہیں۔
تہران نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کی بحالی امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق ناکہ بندی جاری رہنا خود جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔
ترکی بھی متحرک: امریکہ، ایران اور پاکستان سے رابطے
ادھر ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق فیدان نے امریکی مذاکرات کاروں، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستانی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سے الگ الگ رابطے کیے۔
ان رابطوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات کی تازہ پیش رفت اور ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آبنائے ہرمز: ترکی کی ممکنہ شمولیت
استنبول سے سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان باقاعدہ امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ترکی آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کا حصہ بننے پر سنجیدگی سے غور کر سکتا ہے۔
فیدان کے مطابق انقرہ اس عمل کو “انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمی” سمجھتا ہے، تاہم کسی بھی اقدام سے پہلے یہ ضروری ہوگا کہ ترکی کو اس تنازع میں فریق نہ سمجھا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ترکی کسی ایسے کردار سے گریز کرے گا جس سے یہ تاثر ملے کہ وہ کسی ایک جانب کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حتمی امن معاہدے کے بعد ہی آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمد و رفت مکمل طور پر بحال ہو سکتی ہے۔
____________________




