
فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت انسانی تاریخ کی ایک بڑی تباہی ہے، جس میں صرف پہلے مہینے میں دس ہزار سے زائد جانیں ضائع ہو گئیں۔ لیکن جب دنیا سوگ منا رہی ہے، اسلحہ سازی کی صنعت کے مالی کھاتے منافع سے بھرتے جا رہے ہیں۔ جنگ کے آغاز کے چند ہی دنوں میں بڑے امریکی دفاعی اداروں کی مارکیٹ ویلیو میں مجموعی طور پر 30 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔
رےتھیون Raytheon اور جنرل ڈائنامکس General Dynamics جیسے بڑے اداروں کے لیے یہ انسانی بحران نہیں بلکہ ایک سہ ماہی کاروباری موقع ہے۔ ان کمپنیوں نے سرمایہ کاروں کو واضح طور پر بتایا کہ اسرائیل میں جاری جنگ ”مالی طور پر فائدہ مند“ ہے۔ جب بچے جان سے جا رہے ہیں، لاک ہیڈ مارٹن Lockheed Martin اور نارتھروپ گرمین Northrop Grumman کے شیئرز بڑھ رہے ہیں، کیونکہ اسرائیل کے ساتھ F-35 لڑاکا طیاروں کے 3 ارب ڈالر کے معاہدے اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز و فوجی گاڑیوں کی مسلسل طلب جاری ہے۔ یہ موت کی صنعت ہے – اور کاروبار پہلے سے بہتر چل رہا ہے۔
1۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا تضاد
عالمی سفارت کاری کے مرکز میں ایک بنیادی تضاد موجود ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بظاہر دنیا میں امن قائم رکھنے کی ذمہ دار ہے، لیکن اس کے مستقل اراکین ہی عالمی جنگوں کے سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والے ہیں۔
دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ برآمد کرنے والے ممالک امریکہ، روس، فرانس، چین اور برطانیہ (ساتویں نمبر پر) ہیں۔ یہی پانچ ممالک سلامتی کونسل کے مستقل اراکین بھی ہیں۔ یہ ممالک عالمی اسلحہ تجارت کے 75 فیصد سے زائد پر قابض ہیں۔ یعنی امن قائم کرنے کی ذمہ داری انہی ممالک کے پاس ہے جو جنگ سے سب سے زیادہ منافع کماتے ہیں۔
جیسا کہ آکسفیم انٹرنیشنل کے نیویارک دفتر کے سربراہ نے کہا، ”اقوام متحدہ کے پانچ مستقل اراکین دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ فروش ہیں۔ یہ ہتھیار دنیا بھر میں جنگوں کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ یہ سراسر منافقت اور غیر اخلاقی صورتحال ہے۔“
2 ۔ ”پرائیویٹ مافیا“ کا عروج
جدید جنگوں نے ایک نئی ”نجی مافیا“ کو جنم دیا ہے، جس میں کرائے کے سپاہی اور سائبر جنگجو شامل ہیں جو قانون سے باہر کام کرتے ہیں۔ حکومتیں اب جنگ کے ”بوجھ“ کو پرائیویٹ کمپنیوں کے سپرد کر رہی ہیں تاکہ احتساب سے بچ سکیں۔
کرائے کی افواج جیسے روس کا ویگنر گروپ یا امریکی بلیک واٹر (ایرک پرنس سے منسوب) صرف لاگت اور فائدے کی بنیاد پر استعمال کی جاتی ہیں۔ ان کمپنیوں کو پنشن، طبی سہولیات یا سرکاری شہادت کا درجہ نہیں دینا پڑتا۔ جب یہ مرتے ہیں تو سرکاری اعداد و شمار میں شامل نہیں ہوتے، جس سے سیاستدان عوامی ردعمل سے بچ جاتے ہیں۔
سائبر جنگ کا پہلو بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسرائیلی کمپنیاں جیسے ”ٹیم جارج“ نے 33 انتخابات میں مداخلت اور 27 پر اثرانداز ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ فیسبک نے بھی ایسی 7 کمپنیوں پر پابندی لگائی، جن میں اسرائیلی کمپنیاں بلیک کیوب اور کوب ویبس شامل تھیں۔
3 ۔ ٹیکس دہندگان کا جال
اسلحہ سازی کی صنعت ایک بند مالی نظام ہے جس میں عوامی ٹیکس کا پیسہ دفاعی کمپنیوں کو دیا جاتا ہے۔ امریکہ کا 877 ارب ڈالر اور بھارت کا 81.4 ارب ڈالر کا فوجی بجٹ بالآخر 100 بڑی کمپنیوں تک پہنچتا ہے۔
یہ صنعت کسی ملک یا نظریے کی وفادار نہیں، صرف منافع کی تابع ہے، جیسا کہ ذیل کے نکات سے واضح ہوتا ہے:
● روس پاکستان اور بھارت دونوں کو ہتھیار فراہم کرتا ہے
● اسرائیل اپنے 24 فیصد ہتھیار عرب ممالک کو فروخت کرتا ہے۔
● امریکہ ایک سال میں 58 ممالک کو 205 ارب ڈالر کے اسلحہ معاہدے کرتا ہے۔
4 ۔ سیاستدان اور اسلحہ ساز کمپنیوں کا گٹھ جوڑ
پالیسی ساز اور اسلحہ ساز کمپنیوں کے درمیان فاصلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ امریکہ میں کم از کم 15 اہم سیاستدان ایسے ہیں جو انہی کمپنیوں میں سرمایہ رکھتے ہیں، جن کے فیصلے وہ خود کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر:
● جارج ڈبلیو بش کے دور میں کارلائل گروپ کو بڑے دفاعی معاہدے ملے۔
● ڈک چینی کی کمپنی ہیلی برٹن کو عراق جنگ میں 7 ارب ڈالر کا کنٹریکٹ ملا۔
یہ سیاستدان جنگ کو داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ عوام سے قربانی مانگی جاتی ہے جبکہ اشرافیہ محفوظ رہتی ہے۔
5 ۔ اندرونی قیمت
یہی منافع پر مبنی نظام اندرونی سطح پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، خصوصاً امریکہ میں اسلحہ قوانین کے حوالے سے۔ 2021 سے 2022 کے دوران 327 اسکول فائرنگ کے واقعات ہوئے، لیکن اسلحہ صنعت پر کوئی مؤثر پابندی نہیں لگائی گئی۔
دوسرے ممالک نے ثابت کیا کہ تبدیلی ممکن ہے:
● آسٹریلیا نے 1996 کے بعد لاکھوں ہتھیار ضبط کیے اور بڑے پیمانے پر فائرنگ ختم ہو گئی۔
● سربیا نے 2023 میں 2 ماہ میں 100,000 غیر قانونی ہتھیار جمع کر لیے۔
جنگ کے بغیر دنیا؟
عالمی اسلحہ سازی کی صنعت کو مسلسل جنگوں کی ضرورت ہے۔ اگر امن قائم ہو جائے تو یہ اربوں ڈالر کا نظام ختم ہو جائے گا۔ اسی لیے اس صنعت کا اصل مقصد جنگ جیتنا نہیں بلکہ جنگ کو ختم نہ ہونے دینا ہے۔
جیسا کہ جارج آرویل کے ناول ”1984“ میں کہا گیا تھا: جنگ کا مقصد نظامِ طاقت اور منافع کو برقرار رکھنا ہے۔
اگر وہی لوگ ”امن قائم رکھنے“ کے نام پر اسلحہ بیچ کر منافع کما رہے ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا عالمی امن کبھی حقیقت بن بھی سکتا ہے یا یہ صرف ایک خوبصورت لیکن غیر منافع بخش خواب ہے؟
______________________




