Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

آسٹریلیا نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت ماننے کا فیصلہ واپس لے لیا

By Akhtar Rasool
اکتوبر 18, 2022 3 Min Read
0

فلسطین نے منگل کو بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لینے کے آسٹریلیا کے فیصلے کو سراہا ہے

تفصیلات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے شہری امور کے وزیر حسین الشیخ نے اپنی ٹویٹ کہا ”ہم بیت المقدس کے حوالے سے آسٹریلیا کے فیصلے اور بین الاقوامی قانونی جواز کے مطابق دو ریاستی حل کے آسٹریلوی مطالبے کا خیرمقدم کرتے ہیں“

جبکہ دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم یائیر لاپید نے آسٹریلیا کی سابقہ حکومت کا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم نہ کرنے کے نئی آسٹریلوی حکومت کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لاپید نے آسٹریلوی حکومت کے اقدام کو ’جلدبازی میں اٹھایا گیا قدم‘ قرار دیا ہے

ان کا مزید کہنا تھا ”ہم صرف یہ امید کر سکتے ہیں کہ آسٹریلوی حکومت دوسرے معاملات کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ اور پیشہ ورانہ انداز میں نمٹاتی ہے“

اپنے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا ”بیت المقدس اسرائیل کا دائمی اور متحدہ دارالحکومت ہے اور کوئی بات اسے تبدیل نہیں کر سکتی“

اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ انہوں نے باضابطہ احتجاج کے لیے آسٹریلوی سفیر کو طلب کیا ہے

قبل ازیں بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی آسٹریلوی حکومت کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ بیت المقدس کی حیثیت کے درجے کے حوالے سے فیصلہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے، یک طرفہ طور پر نہیں

آسٹریلوی وزیر خارجہ کے بقول ”ہم کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کریں گے، جس سے ’دو ریاستی حل‘ کو نقصان پہنچے۔ آسٹریلوی سفارت خانہ ہمیشہ سے تل ابیب میں ہے اور وہیں رہے گا“

یاد رہے کہ اسکاٹ موریسن کی قیادت میں 2018 میں قدامت پسند آسٹریلوی حکومت نے مغربی بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر نامزد کرنے میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیروی کی تھی

یہ اقدام آسٹریلیا میں ردعمل کا باعث بنا اور پڑوسی ملک انڈونیشیا کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے، جو دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا مسلم اکثریتی ملک ہے۔ دونوں کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ عارضی طور پر معطل ہو گیا

فلسطین نے منگل کو بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لینے کے آسٹریلیا کے فیصلے کو سراہا ہے

فلسطینی اتھارٹی کے شہری امور کے وزیر حسین الشیخ نے اپنی ٹویٹ کہا کہ ’ہم بیت المقدس کے حوالے سے آسٹریلیا کے فیصلے اور بین الاقوامی قانونی جواز کے مطابق دو ریاستی حل کے آسٹریلوی مطالبے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

اسرائیل کے وزیر اعظم یائیر لاپید نے آسٹریلیا کی سابقہ حکومت کا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم نہ کرنے کے نئی آسٹریلوی حکومت کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لاپید نے آسٹریلوی حکومت کے اقدام کو ’جلدبازی میں اٹھایا گیا قدم‘ قرار دیا ہے

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم صرف یہ امید کر سکتے ہیں کہ آسٹریلوی حکومت دوسرے معاملات کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ اور پیشہ ورانہ انداز میں نمٹاتی ہے۔‘

اپنے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’بیت المقدس اسرائیل کا دائمی اور متحدہ دارالحکومت ہے اور کوئی بات اسے تبدیل نہیں کر سکتی۔‘

اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ انہوں نے باضابطہ احتجاج کے لیے آسٹریلوی سفیر کو طلب کیا ہے۔

قبل ازیں بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی آسٹریلوی حکومت کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ بیت المقدس کی حیثیت کے درجے کے حوالے سے فیصلہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے، یک طرفہ طور پر نہیں

آسٹریلوی وزیر خارجہ کے بقول ’ہم کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کریں گے جس سے دو ریاستی حل کو نقصان پہنچے۔ آسٹریلوی سفارت خانہ ہمیشہ سے تل ابیب میں ہے اور وہیں رہے گا۔‘

اسکاٹ موریسن کی قیادت میں 2018 میں قدامت پسند آسٹریلوی حکومت نے مغربی بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر نامزد کرنے میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیروی کی تھی

یہ اقدام آسٹریلیا میں ردعمل کا باعث بنا اور پڑوسی ملک انڈونیشیا کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے جو دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا مسلم اکثریتی ملک ہے۔ دونوں کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ عارضی طور پر معطل ہو گیا۔

Tags:

AustraliaBehut-ul-muqadasCapitalIndonesiaIsraelPalestine
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ایک محبت کے بارے میں (افسانہ)

Next

ضمنی انتخابات کی واحد نشست پر عمران خان کو شکست دینے والے عبدالحکیم بلوچ کون ہیں؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme