Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Alex younger British
تازہ ترین

ایران امریکہ جنگ: برطانوی سابق انٹیلی جنس سربراہ کا اہم انکشاف

By Akhtar Rasool
اپریل 2, 2026 4 Min Read
0

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں عسکری طاقت، سفارتی دباؤ اور معاشی حربے بیک وقت استعمال ہو رہے ہیں۔ اس تناظر میں برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس Secret Intelligence Service (MI6) کے سابق سربراہ ایلیکس ینگر کا تجزیہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ اگر ایران کے پاس اپنے ڈرونز کا صرف 10 فیصد ذخیرہ بھی باقی ہے تو بھی وہ خطے میں طاقت کا توازن بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور امریکہ و اسرائیل اپنے تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ جنگ ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے، لیکن عمومی تاثر کے برعکس طاقت کا پلڑا ایران کی جانب جھکتا دکھائی دیتا ہے۔

جنگ کا موڑ: عسکری طاقت یا سفارتی دباؤ؟

حالیہ کشیدگی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پاور پلانٹس اور حساس تنصیبات پر حملوں کی دھمکیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ساتھ ہی واشنگٹن کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا رکھا جائے تاکہ عالمی تیل کی ترسیل متاثر نہ ہو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اس جنگ کو محدود دائرے میں رکھنا چاہتا ہے، لیکن ایران نے اسے علاقائی اور عالمی مسئلہ بنانے کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ سابق برطانوی انٹیلی جنس سربراہ کے مطابق، امریکہ نے اس تنازعے کی پیچیدگی اور ایران کی مزاحمتی صلاحیت کا درست اندازہ نہیں لگایا۔

ایرانی حکمت عملی: افقی توسیع اور طاقت کی تقسیم

ایران نے اپنی فوجی طاقت کو ایک مرکز پر مرتکز رکھنے کے بجائے مختلف مقامات پر تقسیم کر دیا۔ اس کے علاوہ کمان اور کنٹرول کے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے گئے، جس سے فضائی حملوں کے باوجود عسکری ڈھانچہ مکمل طور پر مفلوج نہ ہو سکا۔

ایران کی جانب سے اپنائی گئی حکمت عملی کو عسکری اصطلاح میں ”افقی توسیع“ کہا جاتا ہے، یعنی کسی ایک محاذ تک محدود رہنے کے بجائے مختلف اہداف کو نشانہ بنانا۔ اس میں خطے میں موجود امریکی مفادات اور اتحادی تنصیبات شامل ہیں۔ اس طریقہ کار نے امریکہ پر بالواسطہ دباؤ بڑھایا اور جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا۔

بقا کی جنگ بمقابلہ انتخاب کی جنگ

ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ امریکہ کے لیے یہ ایک ”اختیاری جنگ“ ہو سکتی ہے، لیکن ایران کے لیے یہ بقا کا مسئلہ ہے۔ سابق برطانوی افسر کے مطابق، جب کسی قوم کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کی بقا خطرے میں ہے تو اس کی مزاحمتی قوت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

امریکی قیادت کی سخت بیاناتی حکمت عملی نے ایرانی قیادت اور عوام کے اس تاثر کو تقویت دی کہ یہ ان کے وجود کے خلاف مہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے پسپائی اختیار کرنے کے بجائے سخت ردعمل کا راستہ اپنایا۔


یہ بھی پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بیانات اور دعوؤں کا تبادلہ تیزی اختیار کر گیا ہے

ٹرمپ پالیسیوں کے بعد خلیجی ریاستوں کی سکیورٹی پر سوالات، دبئی اور قطر کا ’محفوظ جنت‘ کا تصور متاثر


ڈرون جنگ اور سمندری راستوں کا خطرہ

جدید جنگ میں ڈرون ٹیکنالوجی فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔ اگرچہ امریکی فضائی حملے مؤثر سمجھے جاتے ہیں، مگر مکمل خطرے کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اگر ایران کے پاس اپنے ابتدائی ڈرون ذخیرے کا صرف 10 فیصد بھی باقی ہے تو وہ آبنائے ہرمز اور خلیجی سمندری راستوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

یہ خطرہ براہِ راست فوجی تنصیبات تک محدود نہیں بلکہ تیل بردار جہازوں، ان کے مالکان اور عملے کے لیے بھی ہے۔ سمندری انشورنس کمپنیوں اور عالمی تجارتی اداروں کے لیے معمولی خطرہ بھی کافی ہوتا ہے کہ وہ نقل و حمل روک دیں یا راستہ تبدیل کر دیں، جس سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے محدود آپشنز

تجزیے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے پاس اس وقت محدود راستے باقی رہ گئے ہیں۔ وسیع زمینی کارروائی سیاسی اور عسکری طور پر مہنگی ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ مکمل فضائی برتری کے باوجود ایران کی غیر روایتی جنگی صلاحیتیں ختم نہیں کی جا سکتیں۔

ایران نے توانائی کی جنگ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے عالمی منڈی کو دباؤ میں لانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اگر تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یورپ اور ایشیا تک پھیلے گا۔

طاقت کا توازن کس کے حق میں؟

موجودہ صورتحال میں بظاہر امریکہ عسکری لحاظ سے برتر دکھائی دیتا ہے، لیکن طویل المدتی استحکام اور مزاحمتی صلاحیت کے اعتبار سے ایران نے خود کو مضبوط ثابت کیا ہے۔ منتشر عسکری ڈھانچہ، افقی توسیع کی حکمت عملی، توانائی کے راستوں پر دباؤ اور محدود مگر مؤثر ڈرون صلاحیت، یہ تمام عوامل ایران کو ایک غیر متوقع برتری فراہم کر رہے ہیں۔

حالیہ تجزیوں کے مطابق جنگ کا حتمی نتیجہ ابھی واضح نہیں، تاہم یہ کہنا قبل از وقت نہیں ہوگا کہ موجودہ مرحلے پر طاقت کا توازن یک طرفہ نہیں رہا۔ امریکہ اور اسرائیل کو اپنے اہداف کے حصول کے لیے یا تو سفارتی راستہ اپنانا ہوگا یا ایک طویل اور غیر یقینی تنازعے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔


یمن کے حوثیوں کا اسرائیل پر میزائل حملہ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

امریکا، ایران اور اسرائیل کی بڑھتی کشیدگی: کیا سفارت کاری جنگ پر غالب آ سکے گی؟

Tags:

Defense Analysisdefense industry newsdefense stocks marketDrone Warfaredrone warfare technologyEnergy SecurityGeopolitical risk analysisGeopoliticsglobal energy crisisglobal oil marketglobal oil prices todayglobal trade disruptionGlobal Trade RiskGulf tensionsinternational relationsinternational sanctions on iranIran Israel warIran US Conflictiran us warMI6 Alex YoungerMiddle East conflictMiddle East Crisismilitary conflict analysisMilitary Strategymilitary strategy analysisoil market volatilityOil Supply Chainoil supply disruptionRegional StabilitySecret Intelligence Service (MI6)Security Analysisshipping insurance crisisStrait of HormuzStrait of Hormuz crisisUS Foreign Policyus foreign policy middle eastWar Impact on Economywar impact on oil pricesworld economy riskworld politics
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
culture sangat mag
Previous

برانڈ کلچر: انسانی وقار کی نیلامی اور استحصالی نظام

al jazeera abbas araghchi
Next

’الجزیرہ‘ کو ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر عباس عراقچی کا خصوصی انٹرویو

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme