کیا آپ نے کبھی اپنے ”نارمل“ ہونے پر غور کیا ہے؟

امر گل

جرمن – امریکی شاعر چارلس بکووسکی سے منسوب ایک خیال کا مفہوم ہے، ”کچھ لوگ کبھی جنون کی حدوں کو نہیں چھوتے، کتنی اذیت ناک زندگی ہوگی ان کی۔۔“

جنون کی حدوں کو چھونا۔۔ دیوانہ ہو جانا، پاگل ہو جانا۔۔ چارلس بکووسکی اسے غالباً اذیتوں کے بے کراں صحرا میں ایک نخلستان قرار دے رہا ہے۔

تو جناب، کیا کبھی آپ نے خود کو بھیڑ میں کھڑے ہو کر دیکھا ہے؟ سب لوگ چل رہے ہوں۔۔۔ اور آپ کو اچانک خیال آئے کہ یہ سب آخر جا کہاں رہے ہیں؟

کبھی سڑک کنارے کھڑے ہو کر گزرتے ہوئے ہجوم کو دیکھا ہے؟ وہی ہجوم جس میں ہر شخص بظاہر اپنی منزل کی طرف بھاگ رہا ہے، جو ٹریفک سگنل پر ہارن بجاتا ہے، جو مہینے کی پہلی تاریخ کو بل جمع کرانے کی فکر میں ہوتا ہے اور جو رات کو تھک ہار کر سو جاتا ہے۔ ہم ان سب کو ”نارمل“ کہتے ہیں۔ لیکن کبھی تنہائی میں بیٹھ کر سوچا ہے کہ اس نارمل دکھنے کے پیچھے کتنا بڑا جبر چھپا ہے؟

عجیب بات ہے، ہمیں پاگل لوگوں سے ڈر لگتا ہے، حالانکہ زیادہ خوفناک وہ لوگ ہیں جو بالکل نارمل نظر آتے ہیں۔ جب وہ یہ جبر سہہ سکتے ہیں، تو سوچیں، وہ کیا کچھ نہیں کر سکتے!

جیسا کہ ساحر کی پریتما امرتا پریتم نے اپنے ایک ناول میں لکھا تھا، پاگلوں سے کیسا خوف۔۔ ڈرنا ہے تو سیانوں سے ڈرو۔

وہ جو صبح اٹھتے ہیں، چہرہ دھوتے ہیں، مسکراتے ہیں، دفتر جاتے ہیں، واپس آتے ہیں، سوتے ہیں۔۔۔ اور اگلے دن پھر وہی سب کچھ دہرا دیتے ہیں۔

اور یہ سلسلہ سالوں تک چلتا رہتا ہے۔۔۔ بغیر کسی سوال کے۔

آپ نے کبھی سوچا ہے، کیا سوال نہ کرنا بھی ایک طرح کا پاگل پن نہیں؟

ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ سیدھا چلنا ہے، لائن میں رہنا ہے، زیادہ نہیں سوچنا، زیادہ نہیں بولنا۔ اور ہم اتنی اچھی طرح یہ سب سیکھ لیتے ہیں کہ آخر میں خود کو بھول جاتے ہیں۔

پھر ہم انہی لوگوں کو پاگل کہتے ہیں جو اچانک لائن سے باہر نکل آتے ہیں۔

کوئی ہنستا ہے بے وجہ، کوئی روتا ہے بلا سبب، کوئی سڑک پر چلتے ہوئے آسمان کو گھورنے لگتا ہے۔۔۔ اور ہم فوراً فیصلہ سنا دیتے ہیں: ”پاگل ہے یہ۔“

عام طور پر لوگ نفسیاتی ہسپتالوں کی دیواروں کے پیچھے بیٹھے لوگوں کو دیکھ کر افسوس کرتے ہیں کہ ”بیچارے پاگل ہو گئے“۔ مجھے اس بات پر ذرا حیرت نہیں ہوتی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس دنیا میں، جہاں ہر لمحہ آپ کے اعصاب پر ہتھوڑے برسائے جا رہے ہوں، وہاں کسی کا ذہنی توازن کھو دینا ایک انتہائی منطقی ردِعمل ہے۔

حیرت تو ان پر ہونی چاہیے جو اب تک ”نارمل“ بنے گھوم رہے ہیں۔

آپ خود کو ہی دیکھ لیں۔ صبح آنکھ کھلتی ہے تو خبروں کا ایک ریلا آپ کا استقبال کرتا ہے، جس میں لگ بھگ ساری خبریں آپ کو خوفزدہ کرنے کے لیے کافی ہوتی ہیں۔ پھر آپ دفتر جاتے ہیں جہاں ایک ایسا باس آپ کا منتظر ہوتا ہے جسے شاید خود نہیں معلوم کہ اسے زندگی سے کیا چاہیے۔ یا آپ اپنے کام پر جاتے ہیں، سارا دن بغیر رکے جتے رہتے ہیں کام میں۔۔ لیکن مسائل کا ایک انبار ہے، جو بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔۔ مہنگائی کا گراف اوپر جا رہا ہے، تعلقات کی ڈوریاں الجھ رہی ہیں، خوابوں اور حقیقت کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے، اور ٹی وی پر چلنے والے ٹاک شوز آپ کے شعور کو کسی واشنگ مشین کی طرح نچوڑ رہے ہیں۔

ان تمام تر متصادم لہروں کے بیچوں بیچ، اگر ایک شخص صبح ٹائی لگا کر دفتر جاتا ہے، فائلیں نمٹاتا ہے اور شام کو مسکرا کر بچوں کے لیے آئس کریم لے آتا ہے، تو یہ معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟

جس معاشرے میں سانس لینا بھی ایک مشقت بن چکا ہو، وہاں دماغ کا چل جانا ایک ”سیفٹی والو“ (Safety Valve) کی طرح ہے۔ جب پریشر بہت بڑھ جائے تو کُکر کی سیٹی بج جانی چاہیے۔ لیکن ہم انسان وہ عجیب و غریب مشینیں ہیں جو اندر ہی اندر پگھل جاتی ہیں لیکن سیٹی نہیں بجنے دیتیں۔ ہم نے نارمل دِکھنے کے فن کو اتنی کمال مہارت سے سیکھ لیا ہے کہ اب ہم خود بھی دھوکے میں ہیں۔

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ”پاگل پن“ بیماری ہے، ہوگی۔۔۔ لیکن کیا معلوم یہ اس وحشت سے بچنے کا واحد رستہ ہو جو ہم روز جھیلتے ہیں؟ ایک شخص جو سڑک کے بیچ کھڑا ہو کر قہقہے لگا رہا ہے، شاید وہ اس سچائی کو پا چکا ہے جسے ہم ”نارمل“ لوگ تسلیم کرنے سے ڈرتے ہیں۔ وہ آزاد ہو چکا ہے، جبکہ ہم اپنی عقل، اپنی منطق اور اپنی سماجی ساکھ کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے وہ قیدی ہیں جو روزانہ اپنی قید کا جشن مناتے ہیں۔

تو ذرا ٹھہر کے دیکھیے…

وہ، جسے ہم پاگل گردانتے ہیں، شاید پہلی بار سچ میں کچھ محسوس کر رہا ہوتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کچھ لوگ پاگل ہو جاتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ باقی لوگ کیوں نہیں ہوتے۔

ٹھیک ہے، اس بات پر آپ مجھے پاگل کہہ سکتے ہیں، لیکن جیسی ہماری دنیا ہے، وہاں ایسی بات کہنا، کیا سچ میں پاگل پن ہے!؟ دوبارہ سوچیے۔۔ سوچیے ذرا، ممکن ہے میرے ساتھیوں میں آپ بھی شامل ہو جائیں۔

کیونکہ اگر آپ واقعی اس دنیا کو غور سے دیکھیں، یہاں کی ناانصافیاں، دکھ، تنہائیاں، بے معنویت۔۔۔ تو دماغ کا سلامت رہنا خود ایک معجزہ لگتا ہے۔

ہم روز چھوٹے چھوٹے جھوٹ جیتے ہیں۔ ہم وہ بنتے ہیں جو ہم نہیں ہیں۔ ہم وہ کہتے ہیں جو ہمیں کہنا نہیں چاہیے، اور وہ نہیں کہتے جو کہنا ضروری ہوتا ہے۔

اور یہ سب کرتے ہوئے ہم خود کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ”ٹھیک“ ہیں۔ ہم سیانے ہیں۔

کبھی کبھی لگتا ہے، پاگل وہ نہیں جو حقیقت سے کٹ گیا ہو، پاگل وہ ہے جو حقیقت کو برداشت کر گیا ہو۔

اور جو لوگ اب بھی ”نارمل“ ہیں، شاید انہوں نے حقیقت سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ اور یہ سمجھوتہ سیانا پن ہے یا پاگل پن۔۔ 6 اور 9 کا کھیل ہے بھائی، بس سوال یہ ہے کہ آپ اس کے کس طرف کھڑے ہیں۔

دیکھیں، انسان کا ذہن ایک حد تک ہی بوجھ اٹھا سکتا ہے۔ کچھ لوگ اس بوجھ کے نیچے ٹوٹ جاتے ہیں، اور کچھ لوگ اس بوجھ کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں۔

فرق صرف یہ ہے کہ جو ٹوٹ جاتے ہیں، وہ دکھائی دے جاتے ہیں۔۔۔ اور جو جینا سیکھ لیتے ہیں، وہ معاشرے کے قابلِ قبول چہرے بن جاتے ہیں۔

اسے ذرا جسمانی مثال سے سمجھتے ہیں۔ آپ جسمانی طور پر نارمل ہیں۔ پچیس تیس کلو کا وزن اٹھائے چل رہے ہیں۔۔ چلتے چلے جا رہے۔۔ لیکن تا بہ کجا؟ آخرِ کار تھک ہی جاتے ہیں نا؟ اس تھکنے کو تو آپ ہمیشہ نارمل ہی کہتے ہیں، کہ یہ ایک فطری سی بات ہے۔۔

لیکن ایک اور شخص ہے۔۔ تیس چالیس کلو کا وزن اٹھائے چل رہا ہے۔۔ چلتا ہی چلا جا رہا ہے، لیکن مجال ہے جو وہ تھک کر رکے۔۔ اگر ایک شخص کبھی نہ تھکے تو کم از کم میں تو اسے نارمل کہنے سے رہا۔۔ نہ تھکنا، نارمل نہیں ہے، یہ وہ چیز ہی نہیں ہے بھائی، جو انسانوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ نارمل حالت نہیں ہے۔

تو اب ایسا ہے کہ دماغ بیچارے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ وہ تھک جاتا ہے خیالات کا بوجھ اٹھائے اٹھائے۔ جو نہ تھکے، وہ کیا ہی نارمل ہوا۔

لوگوں کا پاگل ہونا سمجھ میں آتا ہے، یہ انسانی فطرت کا ٹوٹ جانا ہے۔ لیکن لوگوں کا پاگل نہ ہونا؟ یہ وہ انسانی ہمت، ضد یا شاید وہ خوفناک ’منافقت‘ یا کم از کم ایک بہروپ ہے جو مجھے ورطہِ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔

کبھی کبھی جی چاہتا ہے کہ اس شخص سے جا کر پوچھوں جو تمام تر مصائب کے باوجود بالکل ساکت اور نارمل بیٹھا ہے: ”بھائی صاحب! آپ کے اندر اتنی ’برداشت‘ کہاں سے آئی؟ یا کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ اندر سے مکمل طور پر خاموش ہو چکے ہیں اور ہم باہر کی خاموشی کو آپ کی عقل مندی سمجھ رہے ہیں؟“

تو اگلی بار جب آپ کسی ”پاگل“ کو دیکھیں، تو تھوڑا سا رکیں، اور خود سے ایک سوال کریں: کیا یہ واقعی پاگل ہے۔۔۔ یا یہ وہ سچ جی رہا ہے، جسے میں نے نظر انداز کر رکھا ہے؟

اور شاید اسی لمحے آپ کو اس قول کی گہرائی سمجھ آ جائے گی:

حیرت اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ لوگ پاگل کیوں ہوتے ہیں۔۔ حیرت تو اس بات پر ہونی چاہیے کہ آخر لوگ پاگل کیوں نہیں ہوتے!

تو یاد رکھیں، ڈاکٹر کی فائل کی طرح آپ کے دماغ کی بھی ایک فائل ہے۔ اگر اس میں روز نئی الجھنیں درج ہو رہی ہیں اور آپ پھر بھی مسکرا رہے ہیں، تو مبارک ہو، آپ اس دنیا کے آٹھویں عجوبے ہیں۔ لیکن کبھی کبھار، تھوڑی دیر کے لیے، عقل کا بوجھ اتار کر رکھ دینا ہی اصل دانائی ہے۔ کیونکہ اس پاگل کر دینے والی دنیا میں بالکل نارمل رہنا، بذاتِ خود ایک بہت بڑی ذہنی پیچیدگی ہو سکتی ہے!

_____________________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button