Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

مستقبل سنوارنے کے دو ’شریفانہ‘ طریقے

By Akhtar Rasool
جون 9, 2023 5 Min Read
0

ویسے تو ہمارے ملک کے حالات کبھی بھی مثالی نہیں رہے لیکن آج کل تو ہمارے اپنے حساب سے یعنی even by our own standards بھی حالات بہت خراب ہیں

لوگ صبح اٹھتے ہیں تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ ڈالر دس روپے مہنگا ہو گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان کی تنخواہ بیٹھے بٹھائے گھٹ گئی ہے۔ کسی زمانے میں ہم جیسے لکھاری اخبار میں شائع ہونے والی تجارتی خبروں کا تمسخر اڑاتے ہوئے اس قسم کے جملوں سے مزاح پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ افریقہ کے قبائل میں لڑائی کے نتیجے میں 50 افراد مارے گئے جس سے جنوبی امریکہ میں روئی کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہو گیا، یا جزائر غرب الہند میں خطرناک وائرس پھیلنے سے شنگھائی کی سٹاک مارکیٹ میں سٹہ بازوں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے وغیرہ وغیرہ

اب تو یوں لگتا ہے، جیسے ان خبروں میں واقعی صداقت ہوتی تھی، آج اگر راہ چلتے کسی اَن پڑھ کو روک کر بھی پوچھیں کہ پاکستان کی معیشت ترقی کیوں نہیں کر رہی تو وہ آپ کو بتائے گا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں ہو پا رہا کیونکہ ماضی میں ہم نے آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدوں کا پاس نہیں کیا تھا اس لیے اعتماد کی کمی ہے، اب آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان اس بات کی ضمانت دے کہ وہ پہلے چھ سے آٹھ ارب ڈالر کی فنانسنگ حاصل کرے، اس کے بعد اسٹاف لیول پر۔۔۔

گویا جو باتیں پہلے صرف معیشت دانوں کو معلوم ہوتی تھیں، آج وہ بچے بچے کو ازبر ہیں

لیکن ہمارا موضوع پاکستان کے معاشی مسائل یا ان کا حل نہیں ہے، ہمارا موضوع ہے کہ ان مسائل کی موجودگی میں آج کا نوجوان کیا کرے؟ کیا اس کے پاس کوئی شریفانہ راستہ ہے؟ اگر ہے تو کیا ہے اور اگر نہیں ہے تو ملک سے باہر جانے، شادی کرنے اور خودکشی کرنے کے علاوہ اس کے پاس کیا آپشن ہے؟

میرے خیال میں آج کا نوجوان کچھ زیادہ ہی مایوس ہے، حالات چاہے جتنے بھی خراب ہوں، اندھیری رات بالآخر کٹ جاتی ہے اور سپیدہ سحر نمودار ضرور ہوتا ہے

سیانے کہہ گئے ہیں کہ کہیں دور جب دن ڈھل جائے، سانجھ کی دلہن بدن چرائے، چپکے سے آئے۔۔۔ لہٰذا میرے عزیز نوجوانو گھبرانا نہیں ہے، تمہاری دلہن بھی چپکے سے آئے گی لیکن اس سے پہلے تم نے اپنا کیریئر بنانا ہے ورنہ دلہن چپکے سے واپس بھی جا سکتی ہے اور فی زمانہ کیرئیر بنانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ تم سرکاری نوکری حاصل کر لو

ہاں ہاں، میں جانتا ہوں، یہ کوئی آسان کام نہیں، لیکن نوجوانو، ایک مرتبہ اگر تم یہ کام کر لو گے تو یاد رکھنا کہ ساری عمر تمہیں کوئی کام نہیں کرنا پڑے گا۔ اور یہ جو لفظ نوکری ہے اس سے کوئی غلط مطلب مت نکالنا، اس سے مراد اصل میں افسری ہے

اب تم پوچھو گے کہ سرکاری ملازمت میں تو بہت سختی ہو گئی ہے، کام کرنا پڑتا ہے، افسران بالا کی ڈانٹ ڈپٹ سہنی پڑتی ہے؟

نہیں عزیزانِ من، یہ سب دشمنوں کی پھیلائی ہوئی باتیں ہیں۔ سرکاری لوگ نہیں چاہتے کہ ہر کوئی سرکار کی نوکری کی طرف راغب ہو، کام کا تو صرف شور ہے، مجھ سے پوچھو تو یہ وظیفے کا دوسرا نام ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سرکاری افسر بننے کے لیے ایک مشکل سا امتحان دینا پڑتا ہے جو خاصا جوکھم کا کام، اس میں وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور جوئے کی طرح اس کے نتیجے کا بھی کچھ پتہ نہیں چلتا

پاس ہونے پر آئے تو کوئی بھی پاس ہو جاتا ہے اور فیل ہونے پر آئے تو اچھا خاصا بیدار مغز شخص بھی فیل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے میں نے تم لوگوں کے لیے ایک اور کیریئر بھی سوچ رکھا ہے اور وہ ہے صحافت

دیکھو اب یہ مت کہنا کہ یہ کام بھی مشکل ہے، سچ پوچھو تو اس سے آسان کام اپنے ملک میں کوئی نہیں۔ یہ واحد شعبہ ہے جس میں داخل ہونے کے لیے کوئی سند یا تجربہ درکار نہیں۔ ہاں ہاں، کچھ اخبار اور ٹی وی چینل والے ایم ایس سی ماس کمیونیکیشن یا ایم اے صحافت مانگتے ہیں، مگر ڈگری کوئی نہیں دیکھتا

اگر تم اپنا یو ٹیوب چینل بنا کر اس میں سو پچاس وڈیوز بھر دو تو بھی کام چل جائے گا اور اگر یہ طریقہ بھی مشکل لگے تو کسی بھی چینل کو کہنا کہ تمہیں بغیر تنخواہ کے رپورٹر بھرتی کر لے

چھ ماہ تک یہ کڑوا گھونٹ بھرنا پڑے گا، اس کے بعد تم کسی سکوٹر کی طرح سیلف سٹارٹ ہو جاؤ گے۔ اگر تو چینل والوں نے تنخواہ لگا دی تو بہت اچھے اور اگر نہ لگائی تو بھی کوئی مسئلہ نہیں، جیسے کہ میں نے کہا یہ ایک منفرد فیلڈ ہے، یہاں بغیر تنخواہ کے بھی گزارا ہو جاتا ہے

سب سے بڑی کشش یہ ہے کہ اس میں منہ پھٹ اور بدلحاظ لوگوں کا مستقبل بہت روشن ہے۔ جب تمہیں اس فیلڈ میں چار پانچ سال ہو جائیں تو تم نے کسی ٹی وی چینل میں ٹاک شو کی میزبانی حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہے، چاہے وہ چینل کسی دودھ دہی والے نے کھولا ہو اور وہ پروگرام اس کی گھر والی کے علاوہ کوئی نہ دیکھتا ہو

تم نے صرف وہاں منہ بگاڑ کر گفتگو کرنی ہے، لوگوں کی پگڑیاں اچھالنی ہیں اور بد زبانی کے نئے ریکارڈ قائم کرنے ہیں۔ اس کے بعد دیکھنا کیسے تم دنوں میں مقبول ہو جاؤ گے، لوگ تمہیں دانشور کہیں گے، تمہارے سامنے آنے سے کترائیں گے، چینل کے مالکان تمہیں سر آنکھوں پر بٹھائیں گے اور تمہیں منہ مانگی قیمت دے کر تمہارا ضمیر خریدیں گے

گھبرانا نہیں، بے فکر ہوکر ضمیر بیچنا، ضمیر کی پروا بالکل نہ کرنا، اس ضمیر نے تمہارا کچن نہیں چلانا

نوجوانو! میں نے پوری نیک نیتی کے ساتھ آج تک لوگوں کو اپنا مستقبل سنوارنے کے دو طریقے بتائے ہیں، اگر تم کسی ایک پر بھی عمل کر لو گے تو یقین کرو امر ہو جاؤ گے اور ساری عمر مجھے دعائیں دو گے

لیکن مجھے تمہاری دعاؤں کی ضرورت نہیں، البتہ اگر تمہیں ان شعبوں میں کامیاب ہونے کے لیے کسی تعویذ کی ضرورت ہے تو میرے نام پانچ ہزار روپے کا پے آرڈر ارسال کرو، میں تمہیں customized تعویذ بھیجوں گا

مجھے روپے پیسے کی طمع نہیں، میں یہ کام فی سبیل اللہ کرتا ہوں اورتمہارے بھیجے گئے پیسے میں بیواؤں اور جواں سال مسکین عورتوں کی بہبود پر خرچ کرتا ہوں۔ خدا میرا حامی و ناصر ہو

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

3 ways to bend pvc pipebest way to bend conduitbest way to bend pvc pipehonourable elizabeth dowdeswellhonourable reformershow old is the universehow to bend conduit without benderhow to bend pipe without a benderhow to bend pvc pipe with steamrichest people in the worldrotten to the corethe class reloadedthe explosionthe liberian legislaturethe works of the right honourable edmund burkeways to be wickedways to bend pvc pipe
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

شوگر ملوں سے بہتا زہریلا فضلہ، جو جنوبی سندھ کو ویران کر رہا ہے

Next

آئیے! جبر کی کہانی سنتے ہیں۔

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme