Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

میں اور میری ماں

By Akhtar Rasool
فروری 25, 2021 3 Min Read
1

کہتے ہیں دنیا میں انسان کی دو مائیں ہوتی ہیں.. ایک وہ، جس کی کوکھ سے انسان جنم لیتا ہے اور دوسری ماں وہ جو اپنے وجود سے انسان کے لیے آب و دانہ اُگا کر اسے تندرست اور توانا رکھتی ہے.. ایک ماں انسان کو جنم دے کر اسے زندگی عطا کرتی ہے اور دوسری ماں زندگی سے جسم و جاں کا رشتہ قائم رکھتی ہے.. صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ اس کی پہچان کا ذریعہ بھی بنتی ہے.. انسان کی دوسری ماں، وہ دھرتی ہے، وہ زمین ہے جہاں وہ پیدا ہوتا ہے، اس پر پہلا پاؤں دھرتا ہے، لڑکپن سے جوانی اور بڑھاپے کا سفر طے کرتا ہے اور پھر ایک دن ہمیشہ کے لیے اس کی گود میں سو جاتا ہے…

اس دھرتی سے جڑی زبان، ثقافت اور انسان کی فطرت میں اس کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے، جس کو سرزمین کہتے ہیں. اب میں اپنے آپ کو خوش نصیب بیٹی کہوں یا بد نصیب… اس کا فیصلہ کرنا تھوڑا مشکل ہے..

خوش نصیب اس لیے، کہ جب سے میں نے آنکھ کھولی میں نے اپنے ارد گرد وہ سب کچھ پایا، جو ایک انسان کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہوتا ہے، لیکن اس لا حاصل ہونے کی دوڑ میں جو مجھے حاصل ہوا اس کو خوش نصیبی ہر گز نہیں کہا جا سکتا…

خوش نصیب وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وطن کے دشت و بیاباں میں بیٹھ کر اپنی ماں (سرزمین) سے لوریاں سنتے ہیں اور اپنی سرزمین کی آغوش میں بیٹھ کر اس کے لمس کو محسوس کرتے ہیں. اس کو وقت کی ستم ظریفی کہیں یا کچھ اور، دنیوی خواہشات اور جدید علم کی تلاش میں، میں اپنی ماں یعنی اپنی سرزمین سے دور رہی.. ابھی تک میں یہ جاننے سے قاصر ہوں کہ یہ میری دنیاوی خواہشات کتنی پوری ہوئی اور میں نے جدید علم سے کتنا استفادہ کیا.. اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا، لیکن اس بات کا مجھے شدید احساس ہے کہ میں اپنی ماں (سرزمین) سے دور رہ کر اپنی وہ پہچان نہیں بنا پائی جو میرے آباؤاجداد کی تھی یا میری سرزمین کی بیٹیوں کو میسر ہے.
سرزمین سے دوری کے اس تمام عرصے میں، ثقافت نے بھی ایک وقتی دوست کی طرح ساتھ نبھایا!

اب مجھے اس بات کا شدید احساس ہے کہ یہ میرے ساتھ کیوں ہوا، کیا یہ سب حالات کے تقاضے تھے کہ میں اپنی سرزمین کو چھوڑ کر دوسروں کی سرزمین پر آباد ہوئی.
اس نفع و نقصان کا بخوبی اندازہ لگانا شاید میرے لئے مشکل ہو.

دوسروں کی سرزمین پر رہ کر ایک انجان سی زندگی گزارنے سے انسان میں اعتماد کا فقدان نمایاں ہوتا ہے. یہ میرا ذاتی مشاہدہ ہے. خیر جو ہوا سو ہوا.. اگر اس پر میں زیادہ بات کروں تو یہ میری آپ بیتی بن جائے گی، لیکن اس بات کو میں شدت سے محسوس کرتی ہوں اور اس کے ساتھ خواہش بھی رکھتی ہوں کہ میں بھی اپنی ماں کی آغوش میں سر رکھ کر وہ لوریاں سنوں جس طرح میری دوسری بہنیں سنتی آ رہی ہیں.. اس لیے میں اپنے نام کے آگے فخر سے بلوچ لکھتی ہوں یہ پہچان بھی مجھے اسی ماں نے دی ہے جس کو یہ جہان، بلوچستان کہتا ہے…

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

انڈونیشیا: انسانی شکل والی حیرت انگیز شارک مچھلی

Next

ﺳﻨﺪﮪ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﯿﭧ ﺍﻣﯿﺪﻭﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺣﺘﻤﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺟﺎﺭﯼ

One Comment
  1. Ali نے کہا:
    فروری 26, 2021 وقت 2:47 صبح

    Main nahe janti apki zaati aap kiya hai magar main itna janti hu k chahye kc bhi majboori ho chahye zindgi main koi bhi nuqsaan darpaish ho kbhi koi apni maa ko chorh kar kc dosry ki maa k pass nhi jata jo ba muqabla haali main tumhare apni maa (sarzameen) se behtar halat m ho…

    Reply

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme