Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

کیا گوادر یونیورسٹی کے قیام کا خواب پورا ہوگا؟؟؟

By Akhtar Rasool
جون 13, 2021 3 Min Read
0

اس وقت گوادر کے نوجوانوں کی جانب سے گوادر یونیورسٹی کے قیام کے لئے سوشل میڈیا کے تمام ذرائع پر #GwadarNeedsUniversity کی ہیشٹیگ کی کمپین جاری ہے۔

بالخصوص سماجی رابطہ کی سب سے موثر ترین ویب سائیٹ ٹویٹر پر یہ کمپین زوروں پر ہے۔ اس کے علاوہ گوادر یونیورسٹی کی کمپین کا پلے کارڈ گوادر کا ہر شہری تھامے ہوئے سوشل میڈیا پر گوادر یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے.

گوادر میں میگا پروجیکٹس کے آغاز کے ساتھ ہی گوادر کی مقامی آبادی کو یہ مژدہ سنایا گیا تھا کہ بہت جلد یہاں پر اعلٰی ثانوی اور فنی ادارے قائم کئے جائینگے تاکہ مقامی نوجوان میگا پروجیکٹس کی تکمیل کے بعد اعلٰی تعلیم یافتہ اور ہنر مند بن کر ترقی کے عمل کا حصہ بن جائے۔

گوادر پورٹ بن گیا اس کے بعد سی پیک کے منصوبے بھی شروع ہوگئے، لیکن آج کے دن تک گوادر میں اعلٰی تعلیمی درسگاہوں کے قیام کا منصوبہ ادھورا ہے۔

خصوصاً سی پیک کے متعارف ہونے کے بعد گوادر میں اعلٰی تعلیمی درسگاہوں کی تعمیر کی نوید کو شد و مد کے ساتھ پذیرائی بھی دی گئی۔ اس ضمن میں اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے یکم ستمبر 2016 کو گوادر یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد بھی رکھا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے وزارت اعلی کے دور میں آنکاڈہ جنوبی میں زمین بھی مختص کی گئی لیکن ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی تبدیلی کے بعد گوادر یونیورسٹی کی اراضی کا مقام تبدیل کرکے اسے شہر سے کوسوں دور شابی پشکان میں دھکیل دیا گیا۔ لیکن پانچ سال کا عرصہ ہوا ہے کہ گوادر یونیورسٹی کی تعمیر کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ہے۔

واضح رہے کہ گوادر یونیورسٹی کے قیام کا بل موجودہ صوبائی حکومت نے پاس بھی کیا ہے اور اسے گورنر کی منظوری درکار ہے جو تعطل کا شکار ہے۔

گوادر لسبیلہ کے ایم این اے محمد اسلم بھوتانی نے الزام عائد کیا ہے کہ گوادر یونیورسٹی کے قیام میں گورنر بلوچستان رکاوٹ ہیں اس بات کا اظہار انہوں نے گوادر میں ایک تقریب کے دوران کیا۔ حالیہ دنوں میں گوادر سے تعلق رکھنے والے سنیٹر کہدہ بابر نے بھی اس کا ذمہ دار گورنر بلوچستان کو ٹھہرایا ہے اس بات کا انکشاف کہدہ بابر نے سوشل میڈیا پر کیا۔

سی پیک منصوبے کا حجم اس وقت 57 ملین ڈالر ہے اور مقامی آبادی گوادر یونیورسٹی کے قیام کے اپنے دیرینہ خواب کی منتظر ہے، لیکن اطلاعات ہیں کہ موجودہ بجٹ میں گوادر یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ شامل نہیں کیا گیا ہے، جس کے بعد گوادر کی مقامی آبادی کو مایوسی کا سامنا ہے۔

اسی کے پیش نظر نوجوانوں نے گوادر یونیورسٹی کے قیام کی کمپین شروع کی ہے۔ 11 جون کو گوادر یونیورسٹی کے قیام کی کمپین کی مناسبت سے واک کا بھی کی گئی، جس میں لوگوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی

کسی بھی ابھرتے ہوئے شہر کے لئے تعلیمی منصوبوں کا فروغ اور آغاز بنیادی تقاضا ہوتا ہے لیکن گوادر شہر اب تک اس سے محروم ہے۔ بالخصوص سی پیک کا دل کہلانے والے شہر میں ایک عدد اعلٰی تعلیمی درسگاہ کی تعمیر میں رکاوٹیں مقامی آبادی کے لئے اضطراب کا سبب بنتا جارہا ہے جس سے کئی اندیشے اور خدشات نے بھی سر اٹھا لئے ہیں۔

تعلیم کسی قوم اور علاقے کی ترقی کا بنیادی محرک ہوتا ہے اس سے ترقی کے عمل میں علاقے کے لوگوں کی شمولیت کو مستحکم بنایا جاسکتا ہے لیکن گوادر کی مقامی آبادی اپنے اس بنیادی حق سے بوجوہ محروم ہے۔

گوادر جسے تبدیلیوں کا نقیب قرار دیا جارہا ہے اور ہر طرف اس کے خوبصورت ساحلوں کی زیبائی کے چرچے ہیں لیکن ساحل کنارے آباد مقامی آبادی اپنے بچوں کے تعلیمی سفر کے حوالے سے فکر مند اور متنفر ہیں۔ کیا گوادر یونیورسٹی کے قیام کا خواب پورا ہوگا؟

Tags:

GwadarGwadar Need UniversityUniversity
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

وزارت خارجہ کے افسر کا غیرملکی ایجنسیوں کو معلومات دینے کا انکشاف

Next

کراچی میں زیرِ تعمیر بحریہ ٹاؤن اور سندھ کا مستقبل (قسط 4)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme