دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 3
نوٹ: یہ مضمون ان اعتراضات پر مبنی ہے، جو یکم نومبر کو ’ایجوکیشن سٹی (ای سی) پروجیکٹ، ملیر کراچی‘ کے بارے میں ای آئی اے کے حوالے سے منعقدہ نشست میں، ماحولیاتی کارکنوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ایس ای پی اے) کو پیش کیے۔) 5. ایجوکیشن…
دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 2
نوٹ: یہ مضمون ان اعتراضات پر مبنی ہے، جو یکم نومبر کو ’ایجوکیشن سٹی (ای سی) پروجیکٹ، ملیر کراچی‘ کے بارے میں ای آئی اے کے حوالے سے منعقدہ نشست میں، ماحولیاتی کارکنوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ایس ای پی اے) کو پیش کیے۔) 3. مقامی…
دی کلائمیٹ بُک: ’ہم نے اب تک دنیا کو بچانے کے لیے کچھ کیوں نہیں کیا؟‘ (7)
سوال یہ ہے کہ ابتدا میں جب چند لوگ جانتے تھے کہ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے تو انہوں نے یہ بات سب کو بتائی کیوں نہیں؟ اس سوال کا جواب بہت دلچسپ اور حیران کُن ہے۔ درحقیقت کچھ بڑی کمپنیز نہیں چاہتی تھیں کہ یہ مسئلہ حل ہو کیونکہ یہ کمپنیز فوسل…
ایک جہانِ حیرت۔۔ پرندوں کے گھونسلوں کی کہانی، جنہیں وہ خوابوں کی طرح بُنتے ہیں۔
پرندوں کے گھونسلے… ایک خاموش داستان، جو ہوا کے جھونکوں اور پتوں کی سرسراہٹ میں گونجتی ہے۔ یہ وہ نازک سے ٹھکانے ہیں جو نرمی سے شاخوں کے دامن میں لپٹے، وقت اور فطرت کے حسن سے بُنے جاتے ہیں۔ ان گھونسلوں کی تخلیق میں، ہر تنکے، ہر نرم پھول کی پتّی اور ہر…
دیھ چوھڑ ملیر میں ایجوکیشن سٹی سے مقامی زراعت اور ماحولیاتی تباہی۔ 1
نوٹ: یہ مضمون ان اعتراضات پر مبنی ہے، جو یکم نومبر کو ’ایجوکیشن سٹی (ای سی) پروجیکٹ، ملیر کراچی‘ کے بارے میں ای آئی اے کے حوالے سے منعقدہ نشست میں، ماحولیاتی کارکنوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ایس ای پی اے) کو پیش کیے۔) ہم، دستخط…
سندھو دریا اور دیگر ماحولیاتی مقامات کے تحفظ کے لیے کلائمٹ ایکشن کمیٹی کا مارچ کا اعلان
کلائمٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ کراچی شہر سمیت سندھ بھر کے قدرتی ماحول کو بچانے، سندھو دریا اور کارونجھر سمیت دیگر ماحولیاتی مقامات کے تحفظ کے لیے ”زندگی“ کے عنوان کے تحت اتوار 27 اکتوبر 2024 کو دوپہر تین بجے کلائمٹ مارچ شروع کیا جائے گا ، جس کا…
دی کلائمیٹ بُک: موسمیاتی تبدیلی نظرانداز کرنے کی شرمناک داستان (6)
ابتدا میں یہ ایک مسئلہ نہیں بلکہ سائنسی تصور تھا۔ 1896ء کا ذکر ہے کہ سوئیڈن کے ایک کیمیا دان سوانتے ارہینس نے ایک پیش گوئی کی تھی، جو آج بہت مشہور ہے کہ کوئلہ جلانے سے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں خارج ہو رہی ہے، اس کے باعث ہم اپنے سیارے کو کئی…
صحرائے صحارا: پچاس سال بعد خشک ریت پر بارش کے قطروں کا نغمہ
پچاس سال کی خاموشی اور سنّاٹے کے بعد، صحرا کی خشک اور پیاسی ریت پر آسمان کے آنسو بہہ نکلے۔۔ یہ خوشی کے آنسو تھے، جو خوشی بن کر ہی صحرا میں جذب ہو گئے۔۔ تیز ترین بارشوں نے اس صحرا کو جل تھل کر دیا جسے ہم ہمیشہ بے رنگ، بے جان اور بنجر…