سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط30)
تھور وادی سے چلاس تک گزرتے سندھو نے اس قدر گہری کھائیاں کھود دی ہیں کہ یہاں صرف چند گھنٹے ہی دھوپ پہنچتی ہے۔ یہ عظیم بلندیوں اور غاروں جیسی پستی والی سرزمین بدصورت ہے اور یہاں سے گزرتے دل پر عجیب سا اثر ہوتا ہے۔ اس وادی کی وسعت میں سندھو خاموشی مگر تیزی…
کراچی میں بڑا کلائمیٹ مارچ، ماحولیاتی تباہی روکنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ
سندھ کے دارالحکومت کراچی میں سولہ جولائی کو آب و ہوا کی تبدیلی کے خطرناک اثرات کے بارے میں آگہی بڑھانے اور حکومتی سطح پر اس کی بیخ کنی کی کوششوں کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے خلاف سول سوسائٹی کی جانب سے ایک احتجاجی کلائمیٹ مارچ منعقد کیا گیا شرکا…
مہنگے بیج اور سستی فصل۔۔ کیا تھر کے کسان بارشوں سے فائدہ اٹھا پائیں گے؟
یہ 1839ع کی بات ہے، جب برطانوی رکنِ پارلیمنٹ، سفارتکار اور جنوب ایشیائی ممالک پر کئی کتابوں کا مصنف ای بی ایسٹوک گجرات، پالن پور، کاٹھیاواڑ اور کچھ سے ہوتا ہوا، سمندر کے ذریعے سندھ پہنچا۔ وہ لکھتا ہے ’’میں جیسے جیسے کاٹھیاواڑ کے نزدیک ہوتا گیا تو ملک…
نوجوانوں میں مقبول ’انرجی‘ ڈرنکس اندر سے کیسے کھوکھلا کر دیتے ہیں؟
ہمارے آس پاس خاص طور پر میڈیا میں ہمیں انرجی ڈرنکس کے بارے میں ایک گونج سنائی دیتی ہے۔ مشتہرین اسے، اپنی توانائی کی سطح میں اضافے کے خواہشمند افراد کو ذہنی طور پر متحرک، جوش اور حوصلہ افزائی کے دعوے کے ساتھ فروخت کرتے ہیں۔ لیکن توانائی کے بھوکے افراد…
’آدی پرش‘ کو فلاپ ہونے سے نہ ہندوتوا بچا سکا اور نہ ہی ہنومان!
کچھ عرصہ قبل ایک پاکستانی ٹاک ٹاکر نے خود کو اڑتا دکھانے والی وڈیوز کے ذریعے کافی مقبولیت حاصل کی تھی۔ وہ اپنے وڈیوز میں ویژول ایفیکٹس کے استعمال سے کسی بھی چیز پر بیٹھ کر خود کو اڑاتا ہوا دکھاتا تھا۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی بھارتی فلم ’آدی پُرش‘ دیکھ…
ہزاروں افراد غیر قانونی آن لائن لون کمپنیوں کے چنگل میں پھنس گئے!
گزشتہ دنوں راولپنڈی میں ایک شخص کی مبینہ طور پر آن لائن لون کمپنی سے قرض کی وجہ سے خود کشی کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں دو کمپنیوں کے دفاتر پر چھاپہ مار کر کمپیوٹرز اور دیگر مواد قبضے میں لیا ہے پاکستان میں کئی آن لائن لون…
سرکس (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
لکڑی کے ستونوں پر رکھے ہوئے لمبے تختے پہاڑ کی طرح اوپر اٹھتے چلے گئے تھے، اور بیضوی شکل میں چاروں طرف اس طرح پھیلے ہوئے تھے کہ دیکھ کر بندہ چکرا جائے۔ لوگ ٹھسا ٹھس بھرے ہوئے تھے۔ ڈائسی نے کہا ”یوں قریب قریب بیٹھے ہیں، جیسے کتے کے کان پر جوئیں۔“ اس نے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط29)
شاہراہِ ریشم بائیں گھومتی قراقرم کے پہاڑوں پر بل کھاتی ”رائے کو ٹ برج“ پہنچتی ہے جبکہ میں سیدھا آگے کو رواں ہوں۔۔ سندھو کے پار ہمالیہ کی عمودی چٹانیں اس پر سایہ کئے ہیں۔ کہیں کہیں سبزہ بھی ہے۔ لینڈسلائیڈنگ آج بھی اس شاہراہ کا بڑا خطرہ ہے۔ رائے کوٹ تک کا…