کیا پاکستان میں لینِن کی سوچ کو بطور ماڈل اپنایا جا سکتا ہے؟
کچھ مورخوں اور مفکرین کی دلیل یہ ہے کہ تاریخ کو تبدیل کرنے کا کام شخصیتوں کا ہے۔ جب عظیم افراد اپنے خیالات و افکار سے سوسائٹی کو متاثر کرتے ہیں تو عوام میں تبدیلی کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس دوسرے مورخوں کا خیال ہے کہ تبدیلی پہلے سوسائٹی سے شروع…
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اور اس پر زندگی گزارنے کے شب و روز کی حیرت انگیز کہانی
اس زمین پر بستے انسان نے ہمیشہ آسمان کو ایک افسانوی دُنیا جیسا پایا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر دور کا انسان اپنے سر پہ منڈلاتی جادوئی دُنیا کے راز جاننے کے لئے ہمیشہ متجسس اور پرجوش رہا ہے۔ یہ اس کائنات کا سحر ہی ہے، جس نے انسان کو ایک کھوج میں مصروف…
دروازے پہ دستک جب گھنٹی میں بدلی تو مہمان زحمت ہونا شروع ہو گئے؟
سردیاں ہوتی تھیں، دھوپ کے آنے میں تھوڑی دیر ہوا کرتی اور اس وقت پہلی دستک اخبار والے کی سنائی دیتی تھی۔ ان دنوں اخبار والے سائیکل پہ آیا کرتے اور اخبار دروازے کے نیچے سِرکانے کے بعد باقاعدہ ایک تھاپ دروازے پہ دیا کرتے کہ بھئی جاگتے ہیں تو اٹھا لیجے۔…
آج کی دنیا اور آلوِن ٹوفلر کی 54 سال قبل کی گئی پیشین گوئیاں: کتاب ’فیوچر شاک‘ کا خلاصہ
’فیوچر شاک‘ (مستقبل کا جھٹکا/صدمہ) نامی کتاب، جو 1970 میں آلوِن ٹوفلر Alvin Toffler نے لکھی تھی، ایک دوراندیش اور بصیرت افروز کتاب ہے، جس میں مستقبل میں آنے والے سماجی اور تکنیکی تبدیلیوں کے اثرات پر بحث کی گئی ہے۔ ٹوفلر نے اس کتاب میں ایک ایسی دنیا کا…
یحییٰ خان اور میرا استعفیٰ (تیسرا حصہ)
اگلے روز صبح سویرے راجہ صاحب محمود آباد ہمارے ہاں تشریف لائے۔ ان کے ساتھ میرے دیرینہ برادرانہ تعلقات تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ کل رات یحییٰ خاں نے انہیں اور اسٹینڈرڈ بینک کے مسٹر علوی کو ڈنر پر مدعو کیا ہوا تھا۔ جوں جوں وہسکی کا نشہ تیز سے تیز ہوتا…
’جینومکس گیپ‘ کیا ہے اور اسے ’طبی نا انصافی‘ کیوں قرار دیا جاتا ہے؟
محققین لاطینی امریکہ، افریقہ اور ایشیا میں رہنے والوں کے جینز میں تغیرات کے بارے میں بتدریج سیکھ رہے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ ان مقامی آبادیوں کے علاج میں بہتری آئے گی۔ دنیا میں بہت سے لوگ کینسر جیسی بیماریوں میں کیوں مبتلا ہوتے ہیں اور ایسی بیماریوں کے…
سمندر کنارے ایک گھر (تین مختصر کہانیاں)
سمندر کنارے ایک گھر ہمارے گھر کے باہر ایک سمندر ہے، ہم نے دروازہ کھولا تو پانی میں ڈوب جائیں گے۔ اسی لیے ہم دروازے بند رکھتے ہیں، کیونکہ ایسا ہی کرنے کے لیے ہمیں کہا گیا ہے۔ بہت پہلے کسی نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی تھی تو پانی کی لہریں اسے اپنے ساتھ…
یحییٰ خان اور میرا استعفیٰ (دوسرا حصہ)
مارشل لاء لگے ہوئے دس روز گزر چکے تھے۔ اس تمام عرصہ میں یہ برگزیدہ لوگ یا تو اقتدار کی باہمی چھینا جھپٹی میں الجھے ہوئے تھے یا دفتروں کی حاضریاں گن کر، سڑکوں پر جھاڑو پھروا کر یا نالیاں صاف کروا کر قوم کے ہنگامی مسائل حل کرنے میں مصروف تھے۔ اب تک کسی…