ابدی سعادتوں کے امین سیّدنا ابُوبکر صدیقِ اکبرؓ

مولانا حافظ عبدالرحمن سلفی

یہ ہمارا عقیدہ اور نظریہ ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ ہی ہمارے سروں کے تاج ہیں، لیکن جو اعزاز اور سر بلندی سیّدنا ابوبکر صدیقؓ کے نصیب میں آئی، وہ کسی اور کے حصّے میں نہیں آسکی۔

پیدائش کے وقت والدین نے آپؓ کا نام عبدالکعبہ یعنی کعبہ کا بندہ رکھا، مگر اسلام قبول کرلینے کے بعد نبی کریم ﷺ نے آپؓ کا نام بدل کر عبداﷲ یعنی اﷲ کا بندہ کردیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی کنیت صدیق اور عتیق لقب تھے۔ آپؓ زیادہ تر اپنی کنیت اور لقب صدیق سے مشہور ہوئے۔ ایمان کی دولت سے سر فراز ہونے کے بعد اپنا مال و دولت اسلام کی اشاعت اور مظلوم مسلمان غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کرتے رہے۔

اسلام کے پہلے موذّن سیدنا بلالؓ کو بھی حضرت صدیق اکبرؓ ہی نے اُن کے ظالم آقا سے خرید کر آزاد کیا تھا۔ ہجرتِ مدینہ کے سفر میں صدیق اکبر ؓ ہی حضور کریم ﷺ کے رفیق سفر تھے، دورانِ سفر کئی بار ایسے جذبۂ محبت و الفت کے مظاہر سامنے آئے کہ جن کی مثال مشکل ہے۔

پھر غار ثور میں نبی کریم ﷺ کی خاطر داری کا اعزاز بھی نصیب ہوا۔ غار کے اندر تمام سوراخ بند کرنے کے بعد جب ایک سوراخ بند نہ ہوسکا اور نبی کریم ﷺ آپؓ کے زانو پر سر ِاقدس رکھ کر سو گئے تو کیڑے مکوڑے اور سانپ بچھو سے حفاظت کے لیے اُس ایک سوراخ پر صدیق اکبرؓ نے اپنی ایڑی رکھ دی، اُس میں ایک سانپ تھا جس نے انہیں ڈس لیا، شدتِ تکلیف کے باوجود پہلو نہ بدلا کہ آپ ﷺ بے آرام نہ ہو جائیں، مگر آنسوؤں کے چند قطرے بے اختیار نکل کر نبی کریم ﷺ کے چہرۂ مبارک پر جا گرے، جس سے آپ ﷺ جاگ گئے، وجہ پوچھی اور پھر آپ ﷺ نے اپنا لعابِ دہن آپ کے پیر کے زخم پر لگایا جس سے اسی وقت تکلیف کافور ہوگئی۔

حضرت ابوبکرؓ کی صحابیت اور شرف کی گواہی قرآن کریم نے دی ہے کہ جب وہ دونوں غار میں تھے۔ آیت صاف بتاتی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ صدیق اپنے لیے خوف زدہ نہ تھے، بل کہ نبی ﷺ کے حوالے سے بے چین تھے کہ کہیں دشمن آپ ﷺ کو نقصان نہ پہنچا دیں۔

مدینہ منورہ میں مسجد نبویؐ کی تعمیر کے لیے دو یتیم بچوں سے خریدی گئی زمین کی قیمت بھی حضرت ابوبکرؓ صدیق نے ادا کی۔ اس طرح قیامت تک مسجد نبویؐ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے لیے صدقۂ جاریہ کا باعث بنی رہے گی۔

سماجی اور رفاہی خدمات کے ساتھ دیگر دینی و مذہبی سرگرمیوں میں بھی حضرت ابوبکرؓ پیش پیش تھے، غزوہ بدر ہو یا اُحد، خیبر ہو یا دیگر معرکے، آپؓ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت ابوبکرؓ اپنا سارا مال و متاع لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، جب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے۔ تو عرض کیا: اُن کے لیے اﷲ اور اُس کے رسول ﷺ کا نام چھوڑ آیا ہوں۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیقؓ کا یہ ایثار دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ آپؓ سے آگے کوئی نہیں بڑھ سکتا۔ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد جب صدیق اکبرؓ کی خلافت پر مسلمان جمع ہوئے اور بیعت عام ہوئی تو اس کے بعد صدیق اکبرؓ نے تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا، مفہوم:

’’لوگو! اﷲ کی قسم، نہ میں کبھی امارت کا خواہاں تھا، نہ اس کی طرف مجھے رغبت تھی اور نہ کبھی میں نے خفیہ یا ظاہراً اﷲ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کی، لیکن مجھے خوف ہوا کہ کوئی فتنہ نہ برپا ہوجائے، اس لیے اس بوجھ کو اٹھا نے کے لیے تیار ہوگیا، امارت میں مجھے کوئی راحت نہیں، بل کہ یہ ایسا بوجھ مجھ پر ڈالا گیا ہے کہ جس کی برداشت کی طاقت میں اپنے اندر نہیں پاتا اور اﷲ کی مدد کے بغیر یہ فرض پورا نہیں ہوسکتا۔

کاش! میرے بہ جائے کوئی ایسا شخص خلیفہ مقرر ہوتا جو اس بوجھ کو اٹھانے کی مجھ سے زیادہ طاقت رکھتا، مجھے تم نے امیر بنایا، حالاں کہ میں تم میں سے بہتر نہیں ہوں، اگر اچھا کام کروں تو میری مدد کرنا اور غلطی کروں تو اصلاح کرنا۔ جب تک میں اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کروں، تم میری اطاعت کرنا اور اگر میں ان کے خلاف کرو ں تو میرا ساتھ چھوڑ دینا۔‘‘

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں لشکر اُسامہؓ کی روانگی، فتنۂ ارتداد، منکرین زکوٰۃ اور جھوٹے نبیوں کی سرکوبی کے بعد عرب میں امن و استحکام کے ساتھ ایران پر فوج کشی کا حکم دیا، اسی طرح شام اور روم کی طرف بھی پیش قدمی کی اور فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ اپنی وفات سے قبل وصیت فرمائی کہ بیت المال سے ان ڈھائی برس میں جتنا روپیا بہ طور وظیفہ مجھے ملتا رہا، وہ سب میری زمین بیچ کر واپس بیت المال میں جمع کرایا جائے، مجھے پرانے کپڑوں میں ہی سپرد خاک کردیا جائے کہ نئے کپڑے کے زندہ زیادہ ضرورت مند ہوتے ہیں۔ تریسٹھ برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ حضرت عمر ؓنے نماز ِجنازہ پڑھائی اور حضور اکرم ﷺ کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔

حوالہ : ایکسپریس نیوز

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close