دلیپ کمار دنیا کے اسٹیج پر اپنا کردار نبھا چلے..

نیوز ڈیسک

ممبئی : اٹھانوے برس تک دنیا کے اسٹیج پر اپنا کردار نبھا کر شہنشاہِ جذبات کے نام سے جانے جانے والے معروف بھارتی اداکار دلیپ کمار راہ اجل پر روانہ ہو کر اپنے مداحوں کو داغ مفارقت دے گئے

بھارتی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ کے’’شہنشاہ جذبات‘‘ کے لقب سے مشہور اداکار یوسف خان عرف دلیپ کمار کو گزشتہ ہفتے سانس لینے میں دشواری کے باعث ممبئی کے ہندوجا اسپتال منتقل کیا گیا تھا اور اسی اسپتال میں انہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی۔ دلیپ کمار کو گزشتہ ماہ دو بار سانس لینے میں تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا

گزشتہ ماہ 6 جون کو دلیپ صاحب کو ممبئی کے ہندوجا اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی حالت بہتر ہونے کے بعد ان کے اہلخانہ انہیں 11 جون کو گھر واپس لے آئے تھے۔ تاہم ان کی حالت ایک بار پھر بگڑنے پر انہیں گزشتہ بدھ 30 جون کو دوبارہ ہندوجا اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ ڈاکٹرز کی زیرنگرانی انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) کے وارڈ میں  تھے

دلیپ کمار کے اہلِ خانہ ان کے مداحوں کو مسلسل دلیپ صاحب کی صحت سے باخبر رکھ رہے تھے اور گزشتہ دو دنوں سے ان کی حالت میں بہتری آرہی تھی۔ دلیپ کمار  کے قریبی دوست نے تمام لوگوں سے ان کی صحت یابی کی دعا کرنے کے لیے بھی کہا تھا۔ تاہم صاحبِ فراش دلیپ کمار جانبر نہ ہوسکے اور بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بالی ووڈ کے ’’ٹریجڈی کنگ‘‘ دلیپ کمار نے بدھ کی صبح ساڑھے سات بجے ممبئی کے کھار ہندوجا اسپتال میں اپنی زندگی کی آخری سانس لی

دلیپ کمار کے انتقال کی خبر ان کے ویریفائیڈ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان کے فیملی فرینڈ فیصل فاروقی نے دی۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا ’’انتہائی دکھی دل اور گہرے رنج  غم کے ساتھ  میں ہمارے محبوب دلیپ صاب کے انتقال کا اعلان کرتا ہوں جو چند منٹ قبل اس دنیا کو چھوڑ گئے۔ ’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے‘‘

طویل العمری کی وجہ سے دلیپ کمار کو چند سال سے سانس لینے میں مشکلات، سینے میں تکلیف، پھیپھڑوں اور گردوں کے مسائل کی وجہ سے اسپتال داخل کرایا جاتا رہا تھا۔ لیجنڈ اداکار دلیپ کمار کی تدفین آج شام پانچ بجے سانتا کروز ممبئی میں جوہو قبرستان میں ہوئی.

پاکستان کے شہر پشاور کے محلہ خداداد میں یوسف خان کے نام سے پیدا ہونے والے دلیپ کمار نے 1944ع میں فلم ’’جوار بھاٹا‘‘ سے اداکاری کا آغاز کیا۔ تقریباً پانچ دہائیوں سے بالی ووڈ پر راج کرنے والے دلیپ کمار نے تریسٹھ سے زائد فلموں میں کام کیا۔ وہ اپنے دور میں رومینٹک ہیرو کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ فلم ’سنگ دل‘، ’امر‘، ’اڑن کھٹولہ‘، ’آن‘، ’انداز‘، ’نیا دور‘، ’مدھومتی‘، ’یہودی ‘، ’مغل اعظم‘ اور’دیوداس‘ ایسی چند فلمیں ہیں جن میں کام کرنے کے باعث انہیں ’’شہنشاہ جذبات‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ لیکن انہوں نے فلم ’کوہ نور‘، ’آزاد‘، ’گنگا جمنا ‘اور ’رام اور شیام‘ میں کام کرکے یہ ثابت کیا کہ وہ لوگوں کو ہنسانے کا فن بھی جانتے ہیں

دلیپ کمار اپنے دور کے ایسے اداکار تھے، نوجوان طبقہ جن کے اسٹائل کی نقل کرتا تھا اور ان کی ساتھی ہیروئینوں کے ساتھ ساتھ عام لڑکیاں بھی ان پر مرتی تھیں۔ ہیروئین مدھوبالا سے ان کے عشق کے چرچے رہے لیکن یہ دونوں زندگی میں کبھی ایک نہ ہو سکے

دلیپ کمار کو 1994ع میں بھارتی فلم انڈسٹری کے سب سے بڑے اعزاز ”دادا صاحب پھالکے ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ 2015ع میں انہیں بھارت کا دوسرا سب سے بڑا شہری اعزاز ”پدم وی بھوشن“ دیا گیا۔ حکومت پاکستان کی طرف سے 1998ع میں دلیپ کمار کو پاکستان کے سب سے بڑے سیویلین اعزاز نشان پاکستان سے بھی نوازا گیا

پشاورکے قصہ خوانی بازارکے فرزند محمد یوسف خان نے اداکاری کے میدان میں جب قدم رکھا تو پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور کامیاب اداکاری کی سیڑھیاں چڑھتے رہے اورنہ صرف بھارت و پاکستان کے ناظرین بلکہ دنیا کو محظوظ کرتے رہے

اپنی فلموں میں مختلف اداکاری کے جوہر دکھانے والے دلیپ کمارکوشہنشاہ جذبات، ٹریجڈی کنگ، برصغیرکا عظم اداکار جیسے ناموں سے پکارا جاتا رہا۔ ان کی اداکاری کی دنیا دیوانی تھی، ایک نہیں، دو نہیں بلکہ متعدد کامیاب فلموں میں اداکارنے اپنے جذبات کی عکاسی اوربہترین اداکاری سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی، یہی وجہ ہے ان کے انتقال کے بعد ان کےاہل خانہ سمیت دنیا بھر میں موجود ان کے مداح غم میں مبتلا ہوگئے ہیں اورانہیں یاد کرکے آبدیدہ ہیں۔

بھارتی فلن انڈسٹری کے لیجنڈ اداکار امیتابھ بچن نے دلیپ کمار کے انتقال پر کہا ہے کہ جب بھی بھارتی سینیما کی تاریخ لکھی جائے گی تو ’دلیپ کمار سے پہلے اور دلیپ کے بعد‘ لکھی جائے گی۔ میں ان کے خاندان سے اس بڑے نقصان پر تعزیت کرتا ہوں. اداکارکی روح کے سکون کی دعا کرتا ہوں۔ دلیپ کمار نہیں بلکہ ایک اداکاری کا ایک ادارہ ختم ہو گیا

برصغیر کے عظیم فنکار دلیپ کمار کے انتقال پر جہاں پوری بالی ووڈ انڈسٹری غمزدہ ہے، وہیں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی غم کا اظہار کیا ہے

وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر دلیپ کمار کے انتقال پر گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دلیپ کمار کے انتقال کے بارے میں سن کر دکھ ہوا۔ شوکت خانم اسپتال کی تعمیر کے لیے فنڈ ریزنگ مہم میں دلیپ کمار کے وقت اور ان کی سخاوت کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ پاکستان اور لندن میں فنڈ ریزنگ کے لیے دلیپ کمار کی مدد سے بھاری رقم اکٹھا کرنے میں بڑی مدد ملی۔ وزیراعظم نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا اس کے علاوہ، میری نسل کے لیے دلیپ کمار عظیم (سب سے بڑے) اور ورسٹائل اداکار تھے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close