لمحوں میں اترا بڑھاپا (افسانہ)
چوراسی سال کی عمر میں ایک صبح وہ اٹھا اور بندوق تھامے گھر سے نکل آیا لیکن کیا یہ کہانی یہاں سے شروع ہونی بھی چاہیے یا نہیں کہ جب اس کہانی کا مرکزی کردار بالکل بوڑھا پھوس ہو چکا ہے اور بندوق تھامنے والے اس کے ہاتھ کانپ رہے ہیں پورے چھ ماہ بعد…
مٹی کا زنگ (افسانہ)
یہ سب جیسے اچانک ہی ہوا۔ ریلوے اسٹیشن پر معمول کی زندگی نے یکلخت کروٹ لی اور پھر ستے ہوئے چہروں اور نیند سے بوجھل آنکھوں والے مسافروں کا ایک ہجوم اکٹھا ہوتا چلا گیا رات کا پہلا پہر ہوگا، جب یہ واقعہ پیش آیا دُور کے سفر پر نکلنے والے مسافروں اور اسٹیشن کے…
دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم (افسانہ)
سمندر پھلانگ کر ہم نے جب میدان عبور کئے تو دیکھا کہ پگڈنڈیاں ہاتھ کی انگلیوں کی طرح پہاڑوں پر پھیل گئیں۔ میں اک ذرا رکا اور ان پر نظر ڈالی جو بوجھل سر جھکائے ایک دوسرے کے پیچھے چلے جارہے تھے۔ میں بے پناہ اپنائیت کے احساس سے لبریز ہو گیا۔۔۔ تب علیحدگی کے…
اپنے دکھ مجھے دے دو(افسانہ)
شادی کی رات بالکل وہ نہ ہوا، جو مدن نے سوچا تھا۔ جب چکلی بھابی نے پُھسلا کر مدن کو بیچ والے کمرے میں دھکیل دیا تو اندو سامنے شالوں میں لپٹی اندھیرے کا بھاگ بنی جا رہی تھی۔ باہر چکلی بھابی اور دریا آباد والی پھوپھی اور دوسری عورتوں کی ہنسی، رات کے خاموش…
چوتھی کا جوڑا (افسانہ)
سہ دری کے چوکے پر آج پھر صاف ستھری جازم بچھی تھی۔ ٹوٹی پھوٹی کھپریل کی جھریوں میں سے دھوپ کے آڑے ترچھے قتلے پورے دالان میں بکھرے ہوئے تھے۔ محلے ٹولے کی عورتیں خاموش اور سہمی ہوئی سی بیٹھی تھیں۔ جیسے کوئی بڑی واردات ہونے والی ہو۔ ماؤں نے بچے چھاتیوں سے…
رحمان کے جوتے
دن بھر کام کرنے کے بعد، جب بوڑھا رحمان گھر پہنچا تو بھوک اسے بہت ستا رہی تھی۔ ”جینا کی ماں، جینا کی ماں۔۔۔!“ اس نے چلاتے ہوئے کہا۔۔۔ ”کھانا نکال دے بس جھٹ سے۔۔۔“ بڑھیا اس وقت اپنے ہاتھ کپڑوں لتوں میں گیلے کیے بیٹھی تھی اور پیشتر اس کے کہ وہ اپنے ہاتھ…
موذیل (افسانہ)
ترلوچن نے پہلی مرتبہ۔۔۔ چار برسوں میں پہلی مرتبہ رات کو آسمان دیکھا تھا اور وہ بھی اس لیے کہ اس کی طبیعت سخت گھبرائی ہوئی تھی اور وہ محض کھلی ہوا میں کچھ دیر سوچنے کے لیے اڈوانی چیمبرزکے ٹیرس پر چلا آیا تھا آسمان بالکل صاف تھا۔ بادلوں سے بے نیاز، بہت بڑے…
آخری گجرا
اور پھر ہماری شادی ہو گئی۔ رضیہ میرے خوابوں کی شہزادی تھی۔ میں کیا اور میرے خواب کیا۔۔ لیکن خواب تو سبھی کے ہوتے ہیں اور خوابوں کی شہزادیاں بھی۔ میرے پاس تھا کیا اسے دینے کو؟ پھر بھی وہ خوش تھی کہ جو کچھ چھوڑ کر آ رہی تھی، وہ بھی کسی کو شہزادی…