
ماں بولی کے اس مرحلے پر ہم برصغیر سے نکل کر اس کے گرد و نواح کی ریاستوں کی طرف دیکھتے ہیں، تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ زبان کو اختیار بنانے یا دبانے کے فیصلے قوموں کی تقدیر کس طرح بدل دیتے ہیں۔ اس حصے میں چین اور افغانستان دو ایسے تجربات ہیں جو ایک دوسرے کے بالکل متضاد ہیں، مگر دونوں ہمیں زبان، ریاست اور طاقت کے تعلق کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
اگر ہم سب سے پہلے چین کو دیکھیں تو ایک بنیادی سوال خود بخود سامنے آتا ہے، کیا چین میں صرف ایک زبان بولی جاتی ہے؟ نہیں بلکل بھی نہیں۔ چین میں درجنوں زبانیں اور سینکڑوں بولیاں بولی جاتی ہیں۔ مندارین (Putonghua) کے ساتھ ساتھ کانٹونیز، وو، ہاکا، من، ژیانگ، گان، تبتی، ایغوری، منگولی، ژوانگ اور دیگر کئی زبانیں اور لسانی گروہ موجود ہیں، مگر چین کی کمیونسٹ ریاست نے زبان کے سوال کو انتشار نہیں بلکہ تنظیم کے ذریعے حل کیا۔
مندارین کو رابطے اور ریاستی سطح پر قومی زبان بنایا گیا، مگر مقامی زبانوں کو مکمل طور پر غیر قانونی یا غیر اہم قرار نہیں دیا گیا۔ کئی علاقوں میں مادری زبانیں تعلیم، ثقافت اور مقامی ابلاغ میں زندہ رکھی گئیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین نے علم، سائنس، صنعت اور معیشت کو اپنی زبان میں منتقل کیا۔ ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، تحقیق اور ریاستی نظم و نسق مندارین میں چلتا ہے، نہ کہ کسی نوآبادیاتی زبان میں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو چین کو زبان کے بل بوتے پر خود مختار بناتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ آج چین سرمایہ دارنہ سامراجی قوت میں تبدیل ہو چکا ہے مگر چین میں زبان شناخت سے زیادہ قابلیت اور ترقی کا ذریعہ بن گئی۔
اب اگر ہم افغانستان کی طرف دیکھیں تو تصویر بالکل مختلف ہے۔ افغانستان تاریخی طور پر زبانوں کا خطہ رہا ہے۔ پشتو، دری، فارسی، ہزارگی، ازبکی، ترکمانی، بلوچی، براہوی، نورستانی اور دیگر زبانیں یہاں صدیوں سے بولی جاتی رہی ہیں، مگر یہ تنوع کبھی ریاستی طاقت میں تبدیل نہیں ہو سکا۔
افغانستان میں بلوچ زبانوں اور بلوچ شناخت کی کمزوری کو محض موجودہ ریاستی پالیسیوں کا نتیجہ سمجھنا بھی تاریخ سے ناانصافی ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ آج جس افغانستان کو ہم ایک مکمل جغرافیائی ریاست کے طور پر دیکھتے ہیں، وہ اپنی موجودہ سرحدوں میں ہمیشہ سے موجود نہیں تھا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں برطانوی سامراج نے بلوچ عوام کی مسلسل مزاحمت اور ایک آزاد بلوچ سیاسی وحدت کے امکان کو ختم کرنے کے لیے بلوچستان کو طاقت کے زور پر لکیر کھینچ کر تقسیم کیا۔
یہ تقسیم محض جغرافیائی نہیں تھی، بلکہ ایک زندہ قوم کو ٹکڑوں میں بانٹنے کا منصوبہ تھی۔ بلوچ آبادی کو افغانستان، ایران اور برطانوی ہند کے درمیان بانٹ دیا گیا، تاکہ کوئی ایک جگہ وہ اجتماعی سیاسی طاقت نہ بن سکے۔
اس تقسیم کا سب سے گہرا اثر زبان پر پڑا۔ بلوچی اور براہوی زبانیں ایک ہی ثقافتی تسلسل کی حامل ہونے کے باوجود مختلف ریاستی نظاموں میں بکھر گئیں۔ افغانستان میں شامل کیے گئے بلوچ علاقے کبھی افغان قومی منصوبے کا حصہ نہیں بن سکے، اور نہ ہی ان کی زبانوں کو ریاستی شناخت دی گئی۔ یوں افغانستان میں بلوچ زبانیں نہ صرف تعلیمی اور انتظامی سطح پر نظرانداز ہوئیں بلکہ تاریخ سے بھی آہستہ آہستہ خارج کی جاتی رہیں۔
یہ پس منظر واضح کرتا ہے کہ افغانستان میں بلوچ زبانوں کی موجودہ حالت محض داخلی مسئلہ نہیں، بلکہ نوآبادیاتی سرحدوں کی پیداوار ہے۔ وہ سرحدیں جو بلوچ عوام سے ان کی زمین کے ساتھ ساتھ ان کی زبان، تاریخ اور اجتماعی یادداشت بھی چھین گئیں۔ طالبان کا عہد ہو یا اس سے پہلے کے ادوار، بلوچ زبانوں کی غیر موجودگی دراصل اسی زبردستی کی تقسیم کا تسلسل ہے، نہ کہ کوئی فطری عمل۔
افغانستان کے ماضی سے ہٹ کر آج کے طالبان دور کی بات کرتے ہیں، ماضی میں عالمی سامراجی قوتوں نے کبھی بھی افغانستان کو مستحکم ہونے نہ دیا۔ طالبان کے موجودہ دور میں افغانستان کا لسانی مسئلہ مزید گہرا ہو چکا ہے۔ طالبان بظاہر زبان کے مسئلے پر بات ہی نہیں کرتے، مگر یہی خاموشی ان کا اصل لسانی بیانیہ ہے۔ طالبان کے نزدیک اصل شناخت مذہب ہے، اور زبان ایک غیر اہم ثقافتی شے ہے۔ یہ سوچ بظاہر وحدت کی بات کرتی ہے، مگر حقیقت میں یہ لسانی تنوع کا انکار ہے۔
طالبان کے اقتدار میں پشتو اور ایک حد تک دری غیر اعلانیہ طاقت کی زبانیں ہیں۔ ریاستی نظم، عسکری ڈھانچہ اور انتظامی فیصلے انہی زبانوں کے گرد گھومتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بلوچی، براہوی، ہزارگی، ازبکی اور دیگر زبانیں ریاستی منظرنامے سے تقریباً غائب ہیں، نہ تعلیم میں، نہ عدلیہ میں، نہ انتظامیہ میں ان زبانوں کو کوئی حقیقی جگہ حاصل ہے۔
یہاں زبان کو دبانے کے لیے کوئی واضح قانون نہیں بنایا جاتا، بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ ”زبان اہم مسئلہ نہیں“۔ یہی سب سے خطرناک بات ہے۔ کیونکہ جب زبان کو غیر اہم قرار دیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ جڑی پوری تاریخ، یادداشت اور اجتماعی شعور بھی غیر اہم بنا دیے جاتے ہیں۔
بلوچ علاقوں، خصوصاً زابل میں، بلوچی اور براہوی زبانیں گھروں تک محدود ہوتی جا رہی ہیں۔ بچے اپنی مادری زبان میں خواب دیکھتے ہیں، مگر مدرسے اور تعلیمی نظام میں انہیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ علم کی زبان کوئی اور ہے۔
یہ ایک خاموش مگر گہرا ثقافتی تشدد ہے، جو نسلوں تک اثر رکھتا ہے۔ طالبان کا لسانی بیانیہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زبان کو دبانے کے لیے ہمیشہ بندوق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی صرف یہ کہنا کافی ہوتا ہے کہ ”ہم سب برابر ہیں، اس لیے زبان پر بات کی ضرورت نہیں“۔ یہ برابری نہیں، یہ مٹانا ہے۔
چین اور افغانستان کے ان دو متضاد تجربات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ زبان کو یا تو ریاست تعمیر کرنے کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے، یا ریاستی خوف کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ چین نے زبان کو طاقت میں بدلا، افغانستان میں زبان طاقت سے خوف زدہ رہی۔ یہی سوال ہمیں اگلے حصوں میں ایران، گلگت بلتستان، سندھ اور بلوچستان کے لسانی تجربات کی طرف لے جائے گا، کیونکہ ماں بولی کا سوال آخرکار یہ نہیں کہ کون سی زبان بولی جاتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ریاست انسان کو اس کی زبان کے ساتھ قبول کرتی ہے یا اس کے بغیر۔
جاری ہے۔




