دادو: بلیک میل کیے جانے پر ایم بی بی ایس کی طالبہ کی ’خودکشی‘، مبینہ خط برآمد

نیوز ڈیسک

دادو – ضلع دادو کے سیتا روڈ ٹاؤن کے وارڈ-5 کے ایک گھر میں ایک خاتون گولی لگنے سے مردہ حالت میں پائی گئی

خاتون کی شناخت نوابشاہ کی پیپلز یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز فار ویمن میں ایم بی بی ایس کے چوتھے سال کی طالبہ عصمت جمیل راجپوت کے نام سے ہوئی

معلوم ہوا ہے کہ اسے کچھ لوگوں کی جانب سے بلیک میل کیا جارہا تھا، جنہوں نے ایک جعلی نکاح نامہ تیار کیا ہوا تھا اور اس سے رقم بٹور رہے تھے

علاقے کے ایس ایچ او گل بیگ کھٹیان نے اپنے ماتحت اہلکاروں کے ہمراہ خالد جمیل راجپوت کے گھر سے ان کی بیٹی کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے سیتا روڈ ہسپتال منتقل کی

دادو کے ایس ایس پی اعجاز احمد شیخ کے مطابق عصمت کو مبینہ طور پر شمیم سولنگی نامی شخص اپنے بیٹے فیض سولنگی کے ساتھ بلیک میل کر رہا تھا، جس کا دعویٰ تھا کہ عصمت نے اس سے خفیہ شادی کر رکھی ہے

پولیس کا کہنا تھا کہ شمیم سولنگی نے عصمت سے رقم حاصل کرنے کے لیے جعلی نکاح نامہ تیار کرایا تھا

ایس ایس پی کے مطابق عصمت نے اپنے آپ کو گولی مار کر خودکشی کی اور تلاشی کے دوران مبینہ طور پر ان کا اپنے والد کے لیے لکھا آخری خط بھی برآمد ہوا

عصمت جمیل سے منسوب آخری خط میں انہوں نے کمزوری کا اظہار کرتے ہوئے والد اور والدہ سے معافی طلب کی ہے

میڈیکل فورتھ ایئر کی طالبہ عصمت جمیل نے اپنے والدین کے نام ہاتھ سے لکھے گئے مختصر پیغام میں لکھا کہ:
Ami papa I am very really sorry
آپ کو بہت دکھ ہوا ہو گا مگر میں کمزور ہو گئی مجھے معاف کرنا۔ آپ دونوں نے میرے لیے بڑھاپے میں بہت محنت کی۔
آپ کا شکریہ
آپ کی بیٹی عصمت جمیل

اکیس سالہ عصمت جمیل کے والد خالد جمیل کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی کو بلیک میل کرنے والا شخص ریٹائرڈ فوجی ہے، اس کی بیٹی عصمت کی کلاس فیلو رہی ہے

خالد جمیل کے مطابق ملزم نے اپنی بیٹی کے فون سے عصمت کا نمبر حاصل کیا، پہلے میسیجز وغیرہ کرتا رہا بعد میں جعلی نکاح نامہ بنا کر میری بیٹی کو کالج بھیج دیا، جس کے بعد بیٹی نے معاملہ مجھے بتایا تو ہم نے پولیس کو شکایت کی ہمیں انصاف فراہم کیا جائے

خالد جمیل کے مطابق ان کی بیٹی نے چند روز قبل فورتھ ایئر میڈیکل کے فائنل تحریری اور زبانی امتحان مکمل کیا تھا جس کے بعد ہم انہیں گھر لے کر آئے تھے

سات بہن، بھائیوں میں سب سے چھوٹی عصمت جمیل اپنے والدین کے ساتھ دادو کے علاقے سیتاروڈ میں مقیم تھیں

خالد جمیل کے مطابق مقامی پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کیا جس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم نے اسے دھوکے میں رکھ کر اس کا شناختی کارڈ استعمال کیا وہ معاملات سے لاعلم ہے

مقامی پولیس اسٹیشن کے عملے کے رویے کی شکایت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تھانے سے ہماری مدد نہیں کی گئی البتہ ویمن پروٹیکشن سیل اور دادو پولیس کے ایس ایس پی اعجاز شیخ نے ہمارے ساتھ پورا تعاون کیا ہے

گزشتہ روز رپورٹ ہونے والی مبینہ خودکشی کے متعلق مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ پیپلز میڈیکل کالج نوابشاہ کی طالبہ عصمت جمیل کی لاش گھر سے ملی تھی

عصمت جمیل کے والدین سے منسوب اطلاع میں کہا گیا ہے کہ ان کی بیٹی نے سینے پر گولی مار کر خودکشی کی ہے

خودکشی کا واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب عصمت جمیل کے والد کی جانب سے بیٹی کر ہراساں کرنے کے الزام میں پولیس کو پانچ افراد کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی درخواست دی گئی تھی

ایف آئی آر کے مطابق شمیم سولنگی نامی شخص عصمت کو بلیک میل کرتا رہا ہے۔ ملزم نے جعلی نکاح نامہ بنوا کر عصمت کو ہراساں کیا اور دھمکا کر 90 ہزار روپے بھی وصول کیے جو وہ ملزم کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتی رہی۔
عصمت جمیل کے والد کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی عصمت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔
مقامی پولیس کے ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ دیگر کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے

ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ خاتون نے یہ انتہائی قدم اٹھانے سے چند روز قبل اپنے والد کو ہر بات بتائی جس کا وہ سامنا کر رہی تھیں

پولیس افسر نے کہا کہ متاثرہ خاتون کے والد خالد راجپوت کی درخواست پر جعلی نکاح نامہ تیار کرانے والے اور دو گواہان، شمیم سولنگی، فیض سولنگی اور دیگر تین افراد کے خلاف سیتا روڈ تھانے مین مقدمہ درج کرلیا گیا ہے

درخواست گزار نے اپنی بیٹی کے حوالے سے بتایا کہ وہ بلیک میلرز کو کافی پیسہ دے چکی تھیں اور صرف ایک ماہ قبل شمیم سولنگی کے اکاؤنٹ میں 90 ہزار روپے جمع کروائے تھے

والد نے کہا کہ بیٹی کی خود کشی سے قبل ہی وہ مقامی تھانے میں ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرواچکے تھے

پولیس نے بتایا کہ انہوں نے خاتون کا لیپ ٹاپ، موبائل فون اور ڈائری کے علاوہ خودکش نوٹ قبضے میں لے کر فرانزیک معائنے کے لیے بھجوادیا گیا ہے

علاوہ ازیں معاملے کی تحقیقات کے لیے ڈی ایس پی محمد یونس رودھنانی کی سربراہی میں ایک تین رکنی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو سات روز میں تفتیش کر کے اپنی رپورٹ ایس ایس پئ دادو اعجاز احمد شیخ کے سامنے پیش کرے گی

ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ ہسپتال ذرائع اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اکٹھا کی گئی ابتدائی معلومات سے انہیں یقین ہے کہ یہ واضح طور پر خود کشی کا کیس ہے

سندھ میں میڈیکل کالج کی اسٹوڈنٹس کی جانب سے خودکشی کا یہ پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں چانڈکا میڈیکل کالج کی فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا کماری کے ہاسٹل کے کمرے سے ان کی لاش ملی تھی۔ اسی کالج سے ایک اور طالبہ نمرتا چندنی کی لاش بھی ہاسٹل سے برآمد ہوئی تھی۔ ان دونوں کیسز میں اہلخانہ یا قریبی دوستوں کی جانب سے خودکشی کو خارج ازامکان قرار دیتے ہوئے اسے مجرمانہ عمل قرار دینے پر اصرار کیا جاتا رہا ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close