
محبت کے سچا ہونے کا پتہ کیسے لگایا جائے؟ یہ سوال انسان کے جذباتی پہلوؤں میں سب سے اہم ہوتا ہے، مگر کیا حقیقت میں ‘”سچی محبت‘‘ نام کی کوئی چیز موجود بھی ہوتی ہے؟
انسان کی سماجی زندگی میں سچ وہ ہے، جس پر ہم یقین رکھتے ہیں۔ جہاں تک محبت کا تعلق ہے، تو اس کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ محبت ایک احساس ہے اور احساسات کی کہانیاں تو ہو سکتی ہیں لیکن ان کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا رومیو اور جولیٹ کا خودکشی کرنا ایک سانحہ تو ہو سکتا ہے، لیکن محبت کا ثبوت نہیں بن سکتا۔ کیا ان کے اس فیصلے میں محبت کو تلاش کرنا درست ہے؟
لیو ٹالسٹائی کا کہنا ہے، ”اگر یہ سچ ہے کہ جتنے دماغ ہیں، اتنے ہی مختلف سوچوں کے زاویے ہوتے ہیں، تو پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ جتنے دل ہیں، اتنی ہی محبت کی مختلف اقسام ہیں۔‘‘ یہ جملہ بظاہر سادہ سا لگتا ہے، مگر اس میں ایک گہری حقیقت بھی چھپی ہوئی ہے۔ یہ حقیقت نہ صرف انسان کے تجربات کی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتی ہے بلکہ انسان کی انفرادیت کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ تو لیو ٹالسٹائی کے مطابق ہر انسان کا محبت کرنے کا طریقہ مختلف ہے اور ان کے مطابق محبت کی کوئی ایک مخصوص شکل نہیں ہے، جس کے ذریعے یہ یقین دہانی کرائی جا سکے کہ فلاں تعلق محبت ہے اور فلاں محبت نہیں۔
محبت کی ایک اور قسم بھی ہے جو بہت دلچسپ ہے۔ وہ ہے ”پاک محبت‘‘ کا تصور۔ میں اس جگہ پر کھڑی تھی جہاں سے کبھی سسئی گزری ہوگی۔ دوستوں کے ساتھ وہ جگہ گھومتے ہوئے ہنسی مذاق میں مصروف تھی اور یوں میرے منہ سے نکلا، ”میں بھی اپنے محبوب کے لیے اتنا پیدل سفر کر سکتی ہوں۔‘‘ یہ بات ہمارے ٹور گائیڈ کے کانوں تک پہنچی تو اس نے پلٹ کر کہا، ”سسئی کی محبت کوئی عام محبت نہیں تھی۔ وہ پاک محبت تھی۔‘‘
پاک محبت کیا ہوتی ہے؟ اس کا پتہ نہ تب تھا اور نہ آج تک چلا۔ اگر ہم سوہنی مہینوال کی لوک داستان کا جائزہ لیں، تو سوہنی رات کے اندھیرے میں دریا میں اترتے وقت اپنی محبت کے پاک ہونے پر بھلا خود سے کوئی سوال کرتی رہی ہوگی؟ میرے خیال میں اس بات کا جواب ہے: ”نہیں،‘‘ کیونکہ جب ہم ‘”پاک محبت‘‘ کی بات کرتے ہیں، تو یہ ایک ایسا تصور ہے جو حقیقت سے زیادہ ایک افسانہ یا پھر سماجی دباؤ کا عکاس ہوتا ہے۔
سوہنی کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ رات کے اندھیرے میں دریا میں اترنا محض پاک محبت کی علامت تھی، شاید ایک جزوی حقیقت ہو سکتی ہے۔ اس لیے کہ محبت کا مفہوم صرف دکھ یا قربانی تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک ایسا فطری تعلق ہے جو دو افراد کے درمیان پیدا ہوتا ہے اور جہاں دونوں کی خواہشات، چاہے وہ روحانی ہوں یا جسمانی، ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو جاتی ہیں۔
محبت کا کوئی صحیح یا غلط طریقہ نہیں ہوتا۔ شاید یہی سب سے زیادہ حقیقت پسندانہ بات ہو۔ ہر انسان کا محبت کا تجربہ مختلف ہو سکتا ہے اور اس کی شدت، نوعیت اور اظہار کا انحصار اس کی ذاتی شخصیت اور حالات پر ہوتا ہے۔ محبت کو سمجھنا اور اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا ایک ذاتی عمل ہے جو ہر فرد کی سطح پر مختلف ہوتا ہے۔
شاید ہم اس سوال کا کوئی مکمل جواب کبھی حاصل نہ کر پائیں، لیکن یہ سوال ہماری زندگی کا حصہ تو ہے اور یہی تلاش ہمیں محبت کے مختلف تجربات کی طرف لے جاتی ہے۔
بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)