قرض کی پیتے تھے۔۔۔ (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
ایک جگہ محفل جمی تھی۔ مرزا غالب وہاں سے اکتا کر اُٹھے۔ باہر ہوا دار موجود تھا۔ اس میں بیٹھے اور اپنے گھر کا رخ کیا۔ ہوادار سے اتر کر جب دیوان خانے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ متھرا داس مہاجن بیٹھا ہے۔ غالب نے اندر داخل ہوتے ہی کہا، ’’اخاہ متھرا…
علمی آزادی نہ ہو تو ذہن بنجر ہو جاتا ہے
یورپ میں یونیورسٹی کا ادارہ چرچ کی سرپرستی میں قائم ہوا۔ ابتدائی یونیورسٹیوں میں اٹلی کی پاڈوآ اور پیسا کے علاوہ پیرس اور پولش شہر کراکاؤ کی جامعات تھیں، جن کا نصاب چرچ کی جانب سے مقرر کیا جاتا تھا۔ لیکچر کے کمرے کے ساتھ دوسرے کمرے میں کھڑکی ہوتی تھی۔…
اپنے ملک میں امریکی مداخلت کے خلاف لڑنے والے کسان گوریلا آگسٹو سینڈینو کی کہانی
کیا ناممکن مشکلات کے خلاف لڑنا بہادری ہے یا حماقت، یہاں تک کہ اگر آپ جانتے ہیں کہ آپ صحیح ہیں؟ تبدیلی کے لیے تشدد اور بغاوت کب ایک جائز حکمت عملی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں، جو اپنے ملک نکاراگوا میں امریکی مداخلت کے خلاف لڑنے والے کسان گوریلا آگسٹو سینڈینو کی…
منٹو کو غالب سے عشق کیوں تھا؟
ابوالحسن نغمی اردو کے سب سے بڑے افسانہ نگار سعادت حسن منٹو پر اپنی کتاب ’سعادت حسن منٹو: ذاتی یادداشتوں پر مبنی اوراق‘ میں لکھتے ہیں کہ ’منٹو صاحب کو غالب سے شدید جذباتی وابستگی تھی۔ انہیں غالب پر کبھی کبھی اس قدر پیار آتا تھا کہ وہ فرطِ محبت سے انہیں…
بچے مہنگی فرمائشیں کیوں کرتے ہیں؟
ایک زمانے میں سب سے بڑی خواہش میری یہ ہوتی تھی کہ میں لچھے بنانے والی ایک مشین خرید لوں۔ جسے آج کل ہمارے بچے کاٹن کینڈی کے نام سے کھاتے ہیں وہ پہلے لچھا ہوا کرتا تھا۔ کئی بار میں گھر سے چینی چرا کے باہر لچھے والے کے پاس لے جاتا۔ وہ سالا…
ہمارے جسم کی منفرد بُو ہماری صحت کا حال بتا سکتی ہے۔۔
ہمارے جسم سے ہر سیکنڈ میں سینکڑوں کیمیکلز ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ کیمیکل آسانی سے ہوا میں خارج ہوتے ہیں کیونکہ ان میں بخارات کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ ابلتے ہیں اور کمرے کے درجہ حرارت پر گیسوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ بخارات اشارے…
مریخ پر کون سے بیکٹیریا نشو نما پا سکتے ہیں؟
سائنسدان ایک عرصے سے مریخ پر انسانوں کی آبادکاری کے لیے تحقیق میں مصروف ہیں۔ دنیا بھر کے خلائی ادارے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے مکمل ڈیٹا حاصل کرنے کے مقصد کے تحت مریخ کی جانب مشن روانہ کر رہے ہیں۔ اس ڈیٹا سے لیبارٹریوں میں تجربات کر کے یہ معلوم کرنے…
پو پھٹنے تک (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
راملو کی چھوٹی سی کٹیا میں آٹھ زندگیاں سانس لیتی تھیں۔ اسی کٹیا میں انکیا کا بچپن جوانی سے جا ملا تھا۔ اسی کٹیا میں ملیا کی مسیں بھیگی تھیں۔ اسی کٹیا میں پوچی نے شرمانا سیکھا تھا۔۔ اور پھر اسی کٹیا میں انکیا کی بیوی نے دو بچے بھی جنے تھے۔۔۔ اور اب یہی…