Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

آنسوؤں کی کہانی، سائنس کی زبانی۔۔

By Akhtar Rasool
جون 19, 2023 4 Min Read
0

جب ہم نے اس دنیا میں آنکھ کھولی تو پہلا کام رونے کا ہی کیا تھا۔ اس دنیا میں آمد کے بعد ہمارا رونا زندگی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ رونے اور آنسوؤں کا چولی دامن کا ساتھ ہے، تو کہا جا سکتا ہے کہ آنسوؤں سے ہمارا پیدائشی رشتہ ہے۔ جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے گئے ہمارے رونے کے عمل نے آنسوؤں کا ساتھ پا کر ہمارے کچھ کام بنائے تو کچھ بگاڑے

آنسو موقع، حالات اور کیفیات کے مطابق جُدا جُدا انداز میں جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ آنسو بے پناہ مسرّتوں کے عالم میں آنکھوں میں آکر دل کی شادمانی کو بھی ظاہر کرتے ہیں، اور کیفیاتِ غم میں ماتم کدہ بنے دل کی نوحہ گری بھی کرتے ہیں

یوں ہم صرف غمگین ہونے پر ہی نہیں روتے، بلکہ کئی اور کیفیات بھی ہماری آنکھوں کے نم ہونے کا باعث بن جاتی ہیں، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ آنسو ہیں کیا اور ہم کیوں روتے ہیں؟

امریکی ادارے کلیولینڈ ہیلتھ کلینک کے ماہرین کے مطابق آنسو آپ کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ یہ آنکھ کا عدسہ دھو کر آپ کو شفاف منظر دکھاتے ہیں اور ساتھ ہی آنکھوں میں موجود کچرے کو بھی دور کرتے ہیں، لیکن آنسو جذبات کا بھی ایک غیرمعمولی اظہاریہ ہیں

ماہرین کے مطابق ہر انسانی آنسو ایک ہی جیسے مواد سے نہیں بنا ہوتا اور تمام افراد ایک جتنا بھی نہیں روتے۔ مگر رونا کوئی بہت بری شے بھی نہیں، آپ کو رونا آ رہا ہے، تو جی بھر کے روئیں۔

خواب کیا ہیں؟ خواب کیوں ہیں؟

ہم کیوں روتے ہیں؟

ہم کئی وجوہات کی بنا پر روتے ہیں۔ ہم غصے میں ہوں، خوش ہوں یا اداس، ہمارے جذبات ہمیں رلا سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق جذباتی صورتحال میں رونا نہ صرف ہمیں بہتر محسوس کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ تناؤ کو کم کرنے اور سائکیک ری بوٹ کا باعث بھی بنتا ہے

تاہم آنسو کی وجہ اگر طبعی ہو، یعنی آپ کی آنکھ میں کچھ گیا ہو تو آنسو آنکھ کی صفائی کا کام کرتے ہیں یا آپ انتہائی جسمانی درد میں ہوں، تو ایسی صورت میں درد سے جڑے تناؤ میں کمی کا باعث بنتے ہیں

آنسو میں ویسے تو پانی ایک غالب مادہ ہے، لیکن ان میں تیل بھی ہوتا ہے، جو ایک طرف تو آنکھ کی سطح کو چکنا بناتا ہے بلکہ ساتھ ہی آنکھ سے نمی کی تبخیر کو بھی سست کرتا ہے

آنسوؤں کی اقسام

بازل آنسو: یہ بنیادی طرز کے آنسو ہیں۔ یعنی سارا دن یہ آنسو ہماری آنکھوں میں رہتے ہیں۔ ان میں تیل، بلغم، پانی اور نمک ہوتا ہے اور ان کا بنیادی کام انفیکشن سے لڑنا ہوتا ہے۔ تیل آنکھ میں نمی کو برقرار رکھتا ہے، جبکہ پلکیں اسے بار بار پوری آنکھ پر پھیلاتی ہیں۔ ان آنسوؤں کا اصل کام منظر شفاف رکھنا اور کسی خاص نکتے پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دینا ہوتا ہے

اریٹینٹ آنسو: یہ آنکھ کی دھلائی کے آنسو ہوتے ہیں۔ ہماری بھنووں کے بالکل نیچے موجود غدود پیاز چھیلنے پر، الٹی کی صورت میں یا آنکھ میں کچھ پڑ جانے پر فوری طور پر آنکھ میں پانی چھوڑتے ہیں۔ الرجی کی صورت میں بھی یہ غدود یہ آنسو پیدا کرتے ہیں۔

ہنسی کے بارے میں چھ حقائق

سائیکک یا جذباتی آنسو: یہ آنسو شدید جذباتی صورت میں پیدا ہوتے ہیں یعنی دکھ، افسوس، صدمے، خوشی یا غصے کی صورت میں۔ ان میں کیمیائی مواد کو بازل آنسوؤں جیسا ہی ہوتا ہے، مگر ان میں تناؤ سے جڑے ہارمونمز اور فطری پین کلرز موجود ہوتے ہیں۔ انسانوں اور جانوروں میں مختلف طرز کے مائعات آنسوؤں کی شکل میں دیگر جانداروں کے لیے پیغام پہنچانے کا کام بھی کرتے ہیں۔ ان سے ہم دری اور دکھ بانٹنے کا سنگل بھی پیدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکی اکیڈمی آف تھالمولوجی کے مطابق جذباتی آنسو ہمدردی، رحم، سماجی دکھ، جسمانی درد، تعلق سے جڑی تکلیف یا اخلاقی اور اقدار سے متعلق جذبات کی صورت میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض مطالعات میں کہا گیا ہے کہ رونے پر سماجی مدد یا ہم دردی ملے تو لوگ بہتر محسوس کرنے لگتے ہیں

رونے کی عمومی حد

رونا ایک عمومی انسانی رویہ ہے، جس کی وجوہات کچھ بھی ہو سکتی ہیں، لیکن اگر آپ بہت زیادہ رو رہے ہیں یا آپ کو رونا ہی نہیں آ رہا، تو دونوں صورتوں میں آپ عمومی لکیر سے دور ہیں

آنکھ مسلسل آنسوؤں کی نذر ہو جائے یا بالکل خشک ہو جائے، دونوں صورت میں آپ کی بصارت کو نقصان ہو سکتا ہے۔ یعنی رونا بھی ضروری ہے اور ہر وقت رونا بھی ٹھیک نہیں، اس لیے آنسو استعمال بھی کیجیے مگر اتنا بھی نہیں کہ سب خرچ ہو جائیں۔

Tags:

and astronaut tearsgame theory the science of zeldahistorical facts about the trail of tearsSciencescience of cryingtearstears and how they worktears for fears professor of rocktears of steeltears of the kingdomtears of the kingdom sensorthe chemistry of tearsthe science of cryingthe science of zeldathe trail of tearsthree types of tearstypes of tearstypes of tears and how they workwho owns years of tearsyears of tears
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

جون ٹِینتھ کیا ہے اور اس کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟

Next

جو جاگ رہا ہے، بھاگ رہا ہے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme