Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

اردوان کے نئے معاشی اقدامات سے ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدر میں ڈرامائی اضافہ، معاشی ماہرین دنگ رہ گئے

By Akhtar Rasool
دسمبر 23, 2021 3 Min Read
0

استنبول – ڈالر کے مقابلے میں لیرا کی قدر میں بے انتہا کمی کے بعد ترک صدر طیب اردوان کی جانب سے ملکی ڈپازٹ کے تحفظ کے لیے نئے معاشی اقدامات کے اعلان کے نتیجے میں لیرا کی قدر میں ڈرامائی طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق منگل کو ترک صدر کی جانب سے اعلانات کے بعد لیرا کی قدر میں تیس فیصد تک اضافہ ہوا، جس پر معاشی ماہرین بھی دنگ رہ گئے ہیں

ترک رہنما نے پیر کو بینکوں میں لیرا کے کچھ ذخائر کی قدر کا ڈالر کے ساتھ موازنہ کر کے مارکیٹوں اور اپنے سیاسی مخالفین کو حیران کر دیا ہے

ماہرین اقتصادیات اور بہت سے ترک ابھی تک یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ زرمبادلہ کا یہ نیا طریقہ کار کیسے کام کرے گا یا حکومت کو اس کی ادائیگی کے لیے رقم کہاں سے ملے گی؟

لیکن بہرحال اس کے لیرا کی قدر پر گہرے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، جو یکم نومبر سے پیر کی سہ پہر تک ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر پینتالیس فیصد گنوا چکا تھا

جب کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے بعد اردوان سرکاری ٹی وی پر اپنی نئی اقتصادی تجاویز کا اعلان کرنے کے لیے آئے تو اس وقت لیرا دس فیصد نیچے ٹریڈ کر رہا تھا، تاہم ترک صدر کے خطاب کے چند گھنٹے بعد لیرا اسی دن بیس فیصد زائد پر ٹریڈ کررہا تھا

بلو بے ایسٹ مینجمنٹ کے ماہر معاشیات ٹموتھی ایش نے اپنے صارفین کے نام پیغام میں کہا کہ اردوان انتظامیہ نے ثابت کردیا کہ انہیں زرمبادلہ کی شرح کا خیال ہے اور انہوں نے سرمائے کو کنٹرول کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ انہوں نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہ شرح سود پر نہیں بلکہ مارکیٹوں پر یقین رکھتے ہیں

اردوان کا ماننا ہے کہ بلند شرح سود مہنگائی کا باعث بنتی ہے اور انہوں نے مرکزی بینک پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ اپنی پالیسی ریٹ کو قیمت میں اضافے کی سالانہ شرح سے بہت نیچے لے جائے، جہاں یہ شرح اب اکیس فیصد پر ہے اور تیزی سے بڑھ رہی ہے

اس پالیسی کے نتیجے میں وہ ترک شہری جنہوں نے بینکوں میں لیرا رکھے ہوئے ہیں وہ ہر ماہ اپنی رقم تھوڑی تھوڑی گنواتے رہیں گے

ماہرین اقتصادیات نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فوری طور پر کچھ نہ کیا گیا تو ترکی کا بینکاری نظام مفلوج ہو سکتا ہے

دوسری جانب اردگان کی اس نئی پالیسی کو سابق مشیر مالیات مہفی ایگلمیز نے بالواسطہ شرح سود میں اضافے کا نام دیا ہے اور اس کا مقصد زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ کے خلاف لیرا کی قدر کا دفاع کرنا ہے

یہ نیا طریقہ کار اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ حکومت وقتاً فوقتاً ادائیگیوں کے ذریعے ڈالر کے مقابلے بینکوں میں لیرا کے ذخائر کی قدر میں کمی کو پورا کرے گی

ایگلمز نے ٹوئٹر پر وضاحت کی کہ اگر زرمبادلہ کی شرح میں چالیس فیصد اور شرح سود میں چودہ فیصد اضافہ ہوتا ہے تو چھبیس فیصد پوائنٹس بطور معاوضہ ادا کیے جائیں گے

یہ پالیسی اس لیے بنائی گئی ہے تاکہ افراط زر کی توقعات کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ترک لیرا کے اثاثوں کو محفوظ تصور کر سکیں

منگل کے دن کے اوائل میں لیرا کی قدر میں مزید بائیس فیصد اضافہ ہوا البتہ یہ اضافہ عارضی ثابت ہوا اور دوبارہ گراوٹ آئی، تاہم دوپہر تک لیرا کی قدر میں دوبارہ چھ فیصد کا اضافہ ہو چکا تھا

اس نئی پالیسی کے باوجود متعدد اقتصادی ماہرین یہ سوال کررہے ہیں کہ کیا اردگان کا نیا نقطہ نظر پائیدار ہوگا؟

ترکی کے سابق وزیر خزانہ علی باباکان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈپازٹ کی گارنٹی کا طریقہ عوام کے بوجھ میں اضافہ کرے گا

ان کا کہنا تھا کہ ملکی خزانہ ٹیکس کے ساتھ اس کی ادائیگی کرے گا، یہ ملکی معیشت کو ڈالر کی نذر کرنا ہے۔ ماہرین اقتصادیات نے اس بارے میں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا کہ آیا یہ اقدام صحیح معنوں میں ترک عوام کو مہنگائی سے بچا بھی سکتا ہے یا نہیں

ایسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ماہر ٹموتھی ایش نے کہا کہ یہ اب بھی بری پالیسی ہے، اس اسکیم کا ممکنہ طور پر مقصد اس بحرانی صورتحال میں وقت لینا اور بینکنگ کے شعبے کو تباہی سے بچانا ہے، لیکن اس میں مہنگائی سے نمٹنے کے لیے کچھ نہیں ہے.

Tags:

DollarLeraTurkish Currency
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

نون لیگی رہنما مریم نواز کی ایک اور مبینہ آڈیو لیک

Next

لوئر دیر: ریپ کیس میں جج بری، خاتون کے خلاف مقدمہ درج

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme