Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

العارض، آپ کا نوکر

By Akhtar Rasool
اکتوبر 25, 2023 4 Min Read
0

بچپن سے اب تک ہم نے دیکھا کہ مڈل کلاس لوگوں میں سرکاری ملازمت کا رجحان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ بھلے وہ کلاس فور کی نوکری ہو یا کلرکی سے پٹواری تک، لوگ رشوتیں دے کر بھی پوری کوشش کرتے ہیں کہ سرکاری نوکر بن جائیں تاکہ باقی کی زندگی آرام سے گزر سکے۔

اس کے بعد اگر کسی ملازمت کا چلن سب سے زیادہ دیکھنے میں آتا ہے تو وہ ہے بطور ٹیچر بھرتی ہونا۔ اس میں پرائمری سطح سے لے کر کالج اور یونیورسٹی تک آپ کو ہزاروں اساتذہ ملتے ہیں، جو سفید پوشی کی زندگی گزارتے ہوئے اپنی ملازمت کی مدت پوری کرتے ہیں، ریٹائرڈ ہوتے ہیں اور بڑھاپا بڑی خود داری کے ساتھ اپنی پینشن کے سہارے گزار دیتے ہیں۔

خود راقم بھی ایک سرکاری نوکری میں ہے اور اسی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے اسے بھی چودہ پندرہ سال بیت گئے ہیں۔ اب جا کے سمجھ آئی ہے کہ اگر پاکستان جیسے ملک میں رہنا ہے تو اپنی اگلی نسلوں کو یہ وصیت ضرور کریں کہ سرکاری استاد بھرتی ہونے کے بجائے، سی ایس پی آفیسر بننے یا پھر کسی ایسے محکمے کا چناؤ کرنا، جس میں عزت ہو یا نہ ہو، پیسہ اور اسٹیٹس ضرور ہو۔۔

کیونکہ پیارے وطن میں ویسے تو کوئی بھی سرکاری محکمہ کام نہیں کرتا لیکن طعنہ جانے کیوں اساتذہ کے لیے بنا دیا گیا ہے کہ ’یہ کوئی کام نہیں کرتے اور ملک کی اکانومی پر بوجھ ہیں‘

جبکہ ہم سے کون سی ڈیوٹی ہے، جو نہیں کروائی جاتی۔۔ آپ اپنے ڈینگی مچھر ہم سے مرواتے ہیں، پولیو مہم ہم چلاتے ہیں، آپ کا الیکشن ہمارے سروں پر ہوتا ہے، آپ کے جلسوں اور سرکاری ایونٹس کا ہال اور پیٹ بھرنے کے لیے ہمیں لائن حاضر کر لیا جاتا ہے۔۔

گرمیوں کی چھٹیوں میں بہانے بہانے سے ہمیں سارا سال حاضر رکھا جاتا ہے اور اس حاضری کو غیر حاضری شمار کر کے ہمارا سفری الاؤس کاٹ لیا جاتا ہے۔

ریٹائرمنٹ پر جو رقم ہمیں آپ دیتے ہیں، وہ ساری ملازمت کے دوران ہماری ہی تنخواہ سے کاٹ کر جمع کی جاتی ہے اور ہم اس امید پر عمر گزار دیتے ہیں کہ پنشن کی رقم سے گھر بنائیں گے، بچوں کی شادی کریں گے یا حج عمرہ کی سعادت حاصل کریں گے۔

رشوت ہم نہیں لے سکتے، ساتھ کوئی اور کام ہم کر نہیں سکتے، پوری سروس کے دوران نہ تو کوئی گاڑی، گھر، نوکر چاکر ہمیں ملتے ہیں اور نہ ہی اداروں میں مکمل مراعات۔

پھر بھی ہم یزداں کی آنکھ میں کھٹکتے ہیں!

آئے روز مختلف حیلے بہانوں سے ہماری تنخواہوں پر کٹ لگتے ہیں، کبھی لیو انکیشمنٹ کا مسئلہ کھڑا کر دیا جاتا ہے تو کبھی اسکولوں اور کالجوں کی نج کاری کی اسکیم سجھائی دینے لگتی ہے۔

چلو کسی جمہوری حکومت کے اقدامات سمجھ آتے ہیں لیکن ایک نگران حکومت کس کھاتے میں یہ سب معاملات سرکاری ملازمین پر مسلط کر رہی ہے!؟ پھر اس پر ظلم یہ کہ جو لوگ ان نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، ان پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جارہی ہے اور انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔

زبان بندی کی کوشش کا لیول چیک کریں قارئین!

اور ان سب پر دکھ یہ ہوتا ہے کہ ہم سب سرکاری ملازمین کی آواز بن رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کی بھی، جو ہمیں گرفتار کرنے آتے ہیں۔۔

ان کے لیے بھی، جو بڑے بڑے افسران کے حکم پر ایسے حکم نامے جاری کرتے ہیں۔

ان اے سی، ڈی سی اور کمشنرز کے لیے بھی، جو احتجاجی ریلیوں پر پولیس کی ریڈ کرواتے ہیں۔

یقین جانیے کہ ہم پر ہوا ظلم تو پھر بھی قابل قبول ہو سکتا ہے، لیکن اگر یہاں کے سرکاری تعلیمی اداروں کو پرائیویٹ کر دیا گیا تو غریب کے بچوں کو تاحیات ناخواندہ رہ جانے سے بچایا نہ جا سکے گا۔

بہت سے نام اس وقت میرے ذہن میں آرہے ہیں کہ اگر وہ مفت تعلیم کی سہولت سے فیض یاب نہ ہو پاتے تو آج نہ تو کسی مقام پر ہوتے اور نہ ہی اپنی فیملیز کے مستقبل کو روشن بنا پاتے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان سرکاری اداروں کو بہتر بنایا جاتا لیکن یہاں تو گنگا الٹی بہتی ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ پرائمری اسکولوں میں اکثر جگہ اسٹاف کم ہے لیکن نہ تو وہاں کوئی کلرک ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی صفائی والا عملہ۔

بعض اوقات تو صرف ہیڈ ٹیچر موجود ہوتا ہے اور پانچویں تک کی جماعتیں وہ خود پڑھا رہا ہوتا ہے۔ ساتھ اسکول کی صفائی ستھرائی اور داخلے کی مہم بھی اس اکیلے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

پانی، بجلی اور عمارتی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، پھر بھی وہاں غریب کا بچہ کم از کم چار لفظ سیکھ ہی جاتا ہے۔ اب اگر یہ سب پرائیویٹ کر دیا جائے تو امیروں کے بچوں کے لیے پہلے سے موجود اسکولوں میں مزید اداروں کا اضافہ ہو جائے گا اور بس۔

غریب کہاں جائے گا؟ آپ اگر غریب کو ختم کرنے کے در پے ہیں تو یہ الگ کہانی ہے، ورنہ غربت کے خاتمے کی کوئی شکل دکھائی نہیں دے رہی۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

5 middle class money trapsclassclass dividedavid beckham and victoria beckham working classdrinking classfilmymoji middle class madhufilmymoji middle class madhu latestfilmymoji middle class madhu latest episodehating the working classi'm a member of the drinking classMiddle Classmiddle class comedymiddle class family comedymiddle class lifestylemiddle class madhumiddle class melodiesmiddle class money trapsmiddle class powermiddle class power nellore kurrallumiddle class power trailermiddle class power webseriesnellore kurrallu middle class powerowner classthe working classupper middle classwhy do progressives hate the working classworkinworkingWorking Classworking class (quotation subject)working class aestheticworking class assholeworking class documentaryworking class heroworking class manworking class punkworking class rock 'n' roll
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط63)

Next

ولیمائی (چلی کے ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme