Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

امتحان پاس کرنے کے لیے 33 کی بجائے 40 نمبر ضروری قرار

By Akhtar Rasool
نومبر 9, 2023 5 Min Read
0

حال ہی میں وفاقی حکومت کے انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی) کی جانب سے ملک بھر کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں 100 میں سے 33 کی بجائے 40 نمبروں پر پاس قرار دینے کس فیصلہ کیا گیا ہے، جس کو تعلیمی ماہرین، والدین اور طلبہ کی اکثریت نے سراہا ہے

آئی بی سی سی کے اس فیصلے کے مطابق اب امتحانات میں حاصل کردہ نمبروں پر مجموعی گریڈ پوائنٹ اوسط یعنی (سی جی پی اے) نکال کر گریڈنگ کی جائے گی

آئی بی سی سی کے چیئرمین ڈاکٹر غلام علی نے بتایا، ”ہم نے پاسنگ مارکس 40 اس لیے کیے تاکہ بچوں کو زیادہ محنت کرنی پڑے، جس سے تعلیمی کارکردگی میں بہتری نظر آئے گی۔ پہلے بچوں کا ہدف 33 نمبر ہوتا تھا اب 40 ہوگا“

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیز 45، 50 اور 60 فیصد والوں کو داخلہ دے رہی ہیں، جس کا 33 فیصد والے کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا

ڈاکٹر غلام علی نے بتایا کہ اس تبدیلی پر رواں سال عمل درآمد ہوگا اور 2023 میں ہونے والے نویں اور گیارہویں جماعت کے امتحانی نتائج، جو 2024 میں آئیں گے، ان پر یہ لاگو ہوگا، جبکہ اگلے برس سے یہ دسویں اور بارہویں جماعتوں پر بھی لاگو ہو جائے گا

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے بعد ہائبرڈ سسٹم چلے گا اور 2025 میں نویں سے بارہویں جماعت تک مکمل طور پر گریڈنگ سسٹم پر چلا جائے گا

چیئرمین آئی بی سی سی کے مطابق، ”ہم نے بچوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے، والدین میں بچوں کے نتائج کو لے کر غیر ضروری مقابلہ شروع ہو گیا ہے۔ اسکولوں اور اداروں کا مقابلہ شروع ہو گیا، نتائج ایک طرح سے مارکیٹنگ ٹول بن گئے۔ لوگ بورڈز میں پہنچ جاتے ہیں کہ ان کے بچوں کو پوزیشنیں مل جائیں، اس سب سے بچنے کے لیے ہم گریڈنگ سسٹم لا رہے ہیں“

ان کا کہنا تھا کہ ایک مسئلہ یہ تھا کہ جب یونیورسٹیوں میں یہ بچے داخلے لیں گے تو وہاں نمبرز کے بغیر کیسے داخلہ ہوگا، جس کا حل ہم نے یہ نکالا کہ ہم ان بچوں کو جی پی اے دیں گے

انہوں نے اس کی تفصیل بتائی کہ سب سے زیادہ جی پی اے 95 سے 100 فیصد نمبروں پر پانچ رکھا ہے اور گریڈ اے پلس پلس ہوگا

اسی طرح تین پوائنٹس کم کیے جاتے رہیں گے اور 90 سے 95 فیصد نمبروں پر 4.7 جی پی اے ملے گا اور گریڈ اے پلس ہوگا۔

جبکہ 90 سے 85 فیصد نمبروں پر 4.3 جی پی اے اور گریڈ اے، 85 سے 80 فیصد نمبروں پر 4 جی پی اے اور گریڈ ڈبل پلس بی ہو گا۔

80 سے 75 فیصد نمبروں پر 3.7 جی پی اے ملے گا اور گریڈ بی پلس ہو گا، 75 سے 70 فیصد نمبروں پر جی پی اے 3.3 اور بی گریڈ، 70 سے 60 پر جی پی اے 3 ہو گا اور سی گریڈ ملے گا

60 سے 50 پر سی جی پی اے 2 ہوگا اور گریڈ ڈی ہوگا، 50 سے 40 پر جی پی اے ایک ہوگا اور گریڈ ای ملے گا

ڈاکٹر غلام کا کہنا تھا کہ آئی بی سی سی کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ ’امتحانی نظام میں یہ تبدیلی لانے کے لیے تمام صوبوں کے متعلقہ لوگ بیٹھے تھے اور سب نے متفقہ فیصلہ کیا کہ ہم اس سسٹم کی طرف جائیں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ نئے نظام پر عمل درآمد حکومت تو کروائے گی، لیکن تعلیمی بورڈ کا اپنا بورڈ آف گورنرز بھی کروائے گا

ان کا کہنا تھا ”حکومت تبدیل ہونے سے اس امتحانی سسٹم پر کوئی اثر نہیں ہوگا کیونکہ تعلیمی بورڈز نے یہ فیصلہ کیا ہے اور صوبائی حکومت اور بورڈ آف گورنرز اس پر عمل درآمد کروائیں گے“

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس نظام کے تحت دو امتحان متعارف کروائے جا رہے ہیں، پہلا فائنل امتحان جو مارچ – اپریل میں ہوگا اور پھر دوسرا فائنل امتحان جو ستمبر – اکتوبر میں ہوگا

”اگر کوئی بچہ پہلے فائنل امتحان میں رہ جاتا ہے تو وہ دوسرے میں اس کا امتحان دے سکتا ہے، اس طرح اس کے رزلٹ میں سپلیمنٹری امتحان نہیں لکھا جائے گا“

راول پنڈی کے ایک سرکاری اسکول کی سابقہ پرنسپل ثمینہ شکور کے خیال میں ’امتحان میں پاس ہونے کے لیے 40 فیصد نمبر حاصل کرنے کا فیصلہ درست ہے کیونکہ دنیا بھر کے تعلیمی میدانوں میں اتنے سخت مقابلے ہیں، داخلوں کے مسائل ہیں تو 33 فیصد نمبر لے کر ہم اس دھارے میں کیسے شامل ہوں گے؟“

انہوں نے بظاہر پرسنٹیج کو بہتر سمجھا لیکن ساتھ ہی کہا کہ ایف ایس سی کے بعد جتنی بھی بڑی ڈگریز ہیں، ان میں جی پی اے ہی دیکھا جاتا ہے

دو بچوں کی والدہ زریں ہارون کا کہنا تھا ”مجھے ایک سابق طالب علم ہونے کے ناطے سن کر اچھا لگ رہا ہے کہ یہ سسٹم متعارف کروایا جا رہا ہے۔ آپ دیکھیں نا ایسا کون سا طالب علم ہے، جس نے سو میں سے 33 نمبر لیے اور ہم نے اس سے کہا شاباش بہت اچھے آپ کو پاس کیا جاتا ہے“

زریں اسے ایک مثبت فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں ”اگر آپ نجی تعلیمی اداروں یا او اور اے لیولز والوں کو دیکھیں تو وہاں 50 فیصد والا پاس ہوتا ہے تو پبلک سیکٹر میں امتحان پاس کرنے کے لیے کم از کم 40 فیصد نمبر لینا تو ضروری ہونا چاہیے“

گیارہویں جماعت کے طالب علم بلال سندھو نے بھی اسے ایک اچھا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب بچے زیادہ محنت سے پڑھیں گے اور ہو سکتا ہے کہ ان کی یہ محنت انہیں مزید اچھا نتیجہ دے دے۔

بلال کا یہ بھی کہنا تھا کہ پبلک کالجوں یا اسکولوں میں میرٹ پر ایک ایک نمبر پر لڑائی ہوا کرتی تھی، مثلاً ایک طالب علم نے 1100 میں سے 550 نمبر لیے ہیں یعنی 50 فیصد نمبر تو اس کا نام تو میرٹ لسٹ کے آخر میں آگیا لیکن 549 والا داخلہ لینے سے رہ گیا

انہوں نے کہا ”سی جی پی اے کے بعد میرٹ دیکھتے ہوئے یا تو سی اور ڈی گریڈ کو داخلہ دیں گے یا نہیں دیں گے۔ اس سے میرے خیال میں گھپلے کے امکانات بہت کم ہو جائیں گے لیکن اس کے لیے حکومت کو تعلیمی اداروں میں طالب علموں کی نشستیں بڑھانی ہوں گی۔“

Tags:

40 marks exam passing marks40% passing marks in exam 2023board exam 2023 passing marks class 10thboard exam 2023 passing marks class 12thboard exam passing marksclass 10 12 passing marks board exam 2023how marks are given in board examshow to get 40+ marks in math examshow to get full marks in math board examhow to pass board examhow to pass in board exam 2023how to score good marks in examspractical mark's add to pass in theory exam
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاؤن کراچی کی اراضی کے سروے کا حکم

Next

بیس گنا زیادہ دودھ دینے والی گائے کی نئی نسل متعارف

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme