Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

امریکا کے افغانستان اور ویتنام سے فرار میں کیا مماثلت ہے؟ دلچسپ رپورٹ

By Akhtar Rasool
اگست 17, 2021 3 Min Read
1

بیس سالوں کے طویل عرصے کے بعد افغانستان پر طالبان کے دوبارہ قبضے کے تناظر میں سوشل میڈیا پر افغانستان سے امریکا کے فرار کا موازنہ سیگون ویتنام سے واشنگٹن کی واپسی سے کیا جارہا ہے اور 1975ع میں ویتنام سے امریکا کے بھاگنے کی تصاویر بھی ان تبصروں کے ساتھ وائرل ہورہی ہیں کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے!

لگ بھگ نصف صدی قبل جب امریکی حمایت یافتہ جنوبی ویتنام کا دارالحکومت، شمالی ویتنام کی حکومت کے قبضے میں گیا، جہاں کمیونسٹ نظریات کی حامل پارٹی کی حکومت تھی، تو اس وقت بھی کچھ ایسے ہی مناظر دیکھے گئے تھے جو اب 15 اگست 2021ع میں افغانستان میں دیکھے گئے

اس اگست کی 15 تاریخ کو امریکی سفارت خانے کے کمپاؤنڈ کی چھت سے ہیلی کاپٹروں میں سوار اہلکاروں کی تصاویر نے اکثر افراد کو اس وقت کی یاد دلادی، جب ویتنام جنگ میں شکست فاش کے بعد 1975ع میں امریکیوں نے ویتنام کے سیگون شہر سے خوف و ہراس کے عالم میں راہ فرار اختیار کی تھی اور ویتنامی شہریوں کی لمبی قطاریں غیریقینی صورتحال میں کوئی نیا راستہ ڈھونڈ نکالنے کے لیے پُر امید تھیں

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی شہریوں، فوجیوں اور امریکی حمایت یافتہ حکومت کے تحت ان کی کوششوں کا ساتھ دینے والے شہریوں کی قسمت سے متعلق ابھرنے والے سوالات ویتنام کی جنگ میں ناکامی سے قبل بھی اسی طرح موجود تھے، جیسے اب افغانستان پر قابض امریکیوں اور اتحادیوں کے سہولت کار افغان خوفزدہ ہیں

حیران کن طور پر اُس وقت بطور سینیٹر جو بائیڈن اسی طرح کے رد عمل کا اظہار کر رہے تھے جیسا  اب بطور صدر کرتے دکھائی دیتے ہیں

یاد رہے کہ اپریل 1975ع میں بتیس سالہ جو بائیڈن ان سینیٹرز میں شامل تھے جنہیں ویتنام میں بحران سے متعلق خفیہ اجلاس میں وائٹ ہاؤس طلب کیا گیا تھا

رولینڈ ایونز اور رابرٹ نوواک کے مطابق اس وقت انہوں نے واضح پیغام دیا تھا کہ ویتنام کی صورتحال مایوس کن ہے اور امریکا کو جلد از جلد یہاں سے نکل جانا چاہیے اور اب بھی جو بائیڈن نے کابل میں فوجی اہلکاروں کو بھیج کر اپنے سفارتی عملے اور شہریوں کے انخلا کا فیصلہ کیا

ویتنام اور افغانستان جنگوں میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں، جیسا کہ ویتنام جنگ میں یوں تو امریکی فوج انیس برس تک اُلجھی رہی جبکہ افغان جنگ بھی تقریباً بیس سال تک جاری رہی اور اب افغانستان سے انخلا کو امریکا کا نیا یا دوسرا ویتنام بھی قرار دیا جارہا ہے

جب 1975ع میں امریکا ویتنام سے سر پر پیر رکھ کر بھاگا تھا، اس وقت جنگ کے دوران اس نے 58 ہزار فوجی اور 10 ہزار جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کا نقصان اٹھایا تھا اور ساتھ ہی اسے ناکامی ہوئی تھی. 30 اپریل، 1975 کو سیگون پر قبضے سے ویتنام جنگ کے خاتمے کا اشارہ دیا گیا تھا جس کے چند ماہ بعد کمیونسٹ پورے ملک کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے

اسی طرح رواں سال جولائی میں امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کو نکالنے کا اعلان کیا تھا اور 15 اگست کو افغانستان کے دارالحکومت کابل پر طالبان کے پہنچنے کے بعد صدارتی محل کا کنٹرول افغان حکومت نے چھوڑ دیا تھا اور اس موقع پر طالبان نے اعلان کیا کہ افغانستان میں جنگ ختم ہو چکی ہے

بیس برس قبل 2001ع میں جس طرح امریکا نے طالبان کے اقتدار کا خاتمہ کیا تھا اس طرح طالبان نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو دارالحکومت کابل سے بھاگنے پر مجبور کر دیا

لیکن امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ اینٹونی بلنکن وسیع پیمانے پر ہونے والے اس موازنے کو جھٹلاتے ہوئے کہتے ہیں، ‘آئیے ایک قدم پیچھے ہٹتے ہیں، یہ واضح طور پر سیگون نہیں ہے’

یہ  بھی پڑھئیے: 

  • افغانستان پر پہلے چور حاکم تھے، اب اصل مالک آ گئے:  عبدالحق حماد کا افغان خاتون اینکر کو انٹرویو

  • افغان فوج لڑنا نہیں چاہتی تو امریکا کیا کرے، امریکی صدر

  • امریکا افغانستان میں طالبان کی طوفانی پیش قدمی اور کنٹرول پر حیران

  • ”مقصد افغانستان کی آزادی تھا، جنگ ختم، اصل ذمہ داری اب شروع ہوگی“ طالبان کا اعلان

  • کابل ایئرپورٹ پر امریکی فوج کی فائرنگ، 5 افراد ہلاک

  • طالبان تحریک کا آغاز کب اور کیسے ہوا؟

  • تین لاکھ افغان فوج پچاس ہزار طالبان کے سامنے ڈھیر کیسے ہوئی؟

Tags:

History RepetitionUSA AfghanistanUSA ArmyUSA Vietnam
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

افغانستان پر پہلے چور حاکم تھے، اب اصل مالک آ گئے:  عبدالحق حماد کا افغان خاتون اینکر کو انٹرویو

Next

پائی جان میں تے مذاک کر رہیا سی

One Comment

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme