Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

’امریکن انگلش‘ کیسے وجود میں آئی؟

By Akhtar Rasool
دسمبر 16, 2022 4 Min Read
0

امریکہ نے 1776ع میں جب برطانیہ سے آزادی حاصل کی تو اس کے بانیوں نے نہ صرف امریکہ کو ایک الگ سیاسی و ثقافتی شناخت دی بلکہ اس کے ساتھ ہی ایسے کئی نئے لفظ بھی دیے، جن سے ’امریکن انگلش‘ کو ایک بھی الگ شناخت ملی

امریکی صدور کے نئے بنائے گئے الفاظ اور ان کے ضرب المثل بننے والے فقروں پر پال ڈکسن کی مرتب کردہ ’ورڈز فروم وائٹ ہاؤس‘ کے عنوان سے ایک کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ امریکہ کے بانی صدور تھامس جیفرسن، جان ایڈمز اور جارج واشنگٹن وغیرہ کو اس بات کا احساس تھا کہ وہ بہت اہم کام کر رہے ہیں

برطانوی نوآبادیاتی نظام سے آزادی کے بعد وہ امریکہ کی الگ شناخت قائم کرنا چاہتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے انگریزی میں کئی نئے لسانی تجربات کیے

امریکہ میں نئے الفاظ بنانے کے اس چلن سے برطانوی بہت خفا تھے۔ ان کی نظر میں امریکیوں کی اپنی کوئی زبان نہیں تھی بلکہ انہوں نے انگلینڈ کی مادری زبان چھین کر اسے اختیار کر لیا تھا

پال ڈکسن لکھتے ہیں کہ وہ چند ابتدائی الفاظ جن سے برطانوی بہت برہم ہوئے وہ ’Congressional‘ اور ’Presidential‘ کے الفاظ تھے۔ اس میں پہلا لفظ کانگریس سے اخذ کیا گیا تھا اور دوسرا لفظ ’President‘ سے بنایا گیا تھا۔ اس سے پہلے انگریزی میں یہ الفاظ استعمال نہیں ہوتے تھے

مصنف پال ڈکسن کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کو انگریزوں نے غیر مہذبانہ کوشش قرار دیا تھا۔ لیکن یہ وہ الفاظ تھے، جن کی امریکیوں کو ضرورت تھی

اسی طرح جارج واشنگٹن نے بھی لفظ ’Administration‘ کے معنی تبدیلی کر دیے۔ دیگر ممالک میں، جن معنوں میں حکومت کا لفظ کہا جاتا ہے، جارج واشنگٹن نے اس کے لیے ایڈمنسٹریشن کا لفظ استعمال کیا

بعض مرتبہ صدور کی تقریر لکھنے والوں نے بھی کوئی نیا لفظ یا فقرہ بنایا، جسے بعد میں صدور نے استعمال کر کے مشہور کیا

مثال کے طور پر جارج واشنگٹن کے سیکریٹری خارجہ جون جے نے کسی بھی تصور یا شے کو امریکی روایات میں ڈھالنے کے لیے ’Americanize‘ کا لفظ تخلیق کیا

’امریکن لینگوئج‘ کی اصطلاح کے خالق کون ہیں؟

صدور کے علاوہ نووا ویبسٹر وہ شخصیت ہیں، جنہوں نے انگریزی کی الگ امریکی شناخت مرتب کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے 1806ع پہلی انگریزی لغت مرتب کر کے شائع کی تھی

ویبسٹر اس سے پہلے برطانیہ کے خلاف امریکہ کی جنگِ آزادی میں شامل رہے تھے۔ اسی دوران نیویارک کے ملٹری کیمپ میں گھومتے پھرتے ہوئے انہیں منفرد امریکی زبان کی ضرورت محسوس ہوئی

پال ڈکسن کہتے ہیں ”ویبسٹر نے اس کیمپ میں امریکہ کے مقامی باشندوں کی آوازیں بھی سنیں۔ وہاں آئرش لہجے سمیت مختلف زبانوں کے انگریزی کے امتزاج سے بننے والے نئے لفظ بھی ان کی سماعت تک پہنچے۔ یہی وہ موقع تھا کہ جب ویبسٹر کو احساس ہوا ہے کہ امریکہ مختلف زبانوں اور ثقافتوں کا امتزاج ہوگا، جس کے لیے ایک الگ زبان کی ضرورت ہوگی“

نووا ویبسٹر نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ’امریکن لینگوئج‘ کی اصطلاح استعمال کی اور ان کے نزدیک نئی زبان کی تشکیل بنیادی طور پر نو آبادیاتی ماضی سے بغاوت ہی کی ایک شکل تھی

امریکہ کے بانی صدور کی زبان دانی

پال ڈکسن کا کہنا ہے ”اگرچہ امریکہ کے صدور نے نت نئے لسانی تجربات کیے، جن سے نئی اصطلاحات اور الفاظ نے جنم لیا۔ لیکن امریکہ کے ابتدائی دور کے صدور اس معاملے میں سب سے آگے تھے“

وہ بتاتے ہیں کہ صرف تھامس جیفرسن ہی نے انگریزی کے سو سے زیادہ الفاظ کو انگریزی بول چال کا حصہ بنایا۔ اس میں کسی شے کو چھوٹا یا کم اہم ظاہر کرنے کے لیے ’Belittle‘ اور پاؤں کی دیکھ بھال کے لیے ’Pedicure‘ کا لفظ ان کی اختراع تھی

دلچسپ بات یہ ہے کہ نئے الفاظ بنانے کی مہارت رکھنے والے تھامس جیفرسن نے نئے الفاظ بنانے کی مشق کے لیے بھی ایک اصطلاح ’Neologize‘ ایجاد کی تھی

امریکہ کے بانی صدور میں شامل جارج واشنگٹن نے کسی عمارت یا درودیوار کے اندر ہونے کی حالت کے لیے ’Indoor‘ کا لفظ ایجاد کیا تھا۔ آج اس لاحقے کے ساتھ انڈور گیمز وغیرہ جیسے کتنے ہی نئے لفظ وجود میں آ چکے ہیں

محققین کے مطابق حساب کتاب میں اوسط کے لیے انگریزی لفظ ’Average‘ اور نیویارک کے شہریوں کے لیے ’New Yorker‘ کی ترکیب بھی جارج واشنگٹن ہی زبان دانی کا کمال تھا

خیالی منصوبے بنانے والے ایک کردار پر ہسپانوی ناول ’ڈان کہوٹے‘ کلاسک کا درجہ رکھتا ہے۔ اسی سے صدر ایڈمز نے خیالی اور غیر حقیقت پسندانہ منصوبوں کے لیے ’Quixotic‘ کی اصطلاح بنائی۔ تیزی سے حرکت کے لیے آج استعمال ہونے والا معروف لفظ ’Hustle‘ اور طوالت کے لیے ’Lenghty‘ کا استعمال بھی سب سے پہلے جان ایڈمز نے کیا

پال ڈکسن کہتے ہیں کہ بعض صدور نے سوچ سمجھ کر نئے الفاظ تشکیل دیے۔ لیکن کئی مربتہ محض اتفاق یا بے خیالی میں بھی ایسی ’ایجادات‘ سامنے آئیں۔ امریکہ کے ابتدائی صدور سے شروع ہونے والی یہ روایت بعد میں بھی جاری رہی

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ الفاظ اور اصطلاحات بنانے والے ان غیر معمولی ابتدائی امریکی رہنماؤں نے اپنے لیے کوئی اصطلاح وضع نہیں کی تھی۔ 1920ع کی دہائی میں یہ کام بھی ایک امریکی صدر ہی نے کیا

صدر وارن ہارڈنگ وہ پہلے صدر تھے، جنہوں نے امریکہ کو آزادی دلانے اور اس کا آئین بنانے والے رہنماؤں کے لیے ’فاؤنڈنگ فادرز‘ کا لقب استعمال کیا۔ ایک نئی قوم کی تشکیل کرنے والے ان رہنماؤں کے تعارف کے لیے مناسب ترین الفاظ تھے۔

نوٹ: یہ فیچر وائس آف امریکہ کے لیے ڈورا میکوار کی رپورٹ سے ماخوذ ہے۔

Tags:

Americanamerican accentamerican englishamerican english (language dialect)american english pronunciationamerican english vs british englishamerican vs british englishbritish englishEnglishenglish conversationEnglish Languageenglish pronunciationhow did the english settle in north americahow to speak english like an americanlearn englishspeak englishspeak english with vanessawhat makes american english sound american
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ورلڈکپ فائنل: ارجنٹینا، فرانس کی کون سی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا سکتا ہے

Next

عاجزی و برابری کا قانون ناروے والوں کے لیے دردِ سر کیسے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme