Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

امریکہ کے ڈیفالٹ کر جانے کا خدشہ۔۔ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟

By Akhtar Rasool
مئی 23, 2023 4 Min Read
0

معاشی حلقوں میں دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ کے ڈیفالٹ کر جانے کے خطرے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، اگر ایسا ہو جاتا ہے تو اس کے معاشی اثرات یقیناً پوری دنیا پر مرتب ہونگے

یہی وہ صورتحال ہے، جس کے باعث صدر جو بائیڈن اور ایوان نمائندگان کے ریپبلیکن اسپیکر کیون میکارتھی براہ راست ملاقات کر رہے ہیں، تاکہ ملک کے قرض لینے کی حد میں ایسا وقت آنے سے قبل اضافہ کیا جا سکے، جب حکومت کے پاس کیش ختم ہو جائے اور وہ اپنی ادائیگیاں کرنے کے قابل نہ رہے

دونوں فریق یکم جون سے پہلے بجٹ کے بارے میں ایک سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یعنی اُس تاریخ سے پہلے جب امریکی وزیر خزانہ جینٹ یلین کے مطابق، سمجھوتہ نہ ہوا تو ملک ڈیفالٹ کر سکتا ہے

قرضے کی حد سے کیا مراد ہے؟

امریکہ میں حکومت کے لیے قرضے کی حد کا مطلب وہ سطح ہے، جہاں تک امریکی حکومت اپنے بلوں کی ادائیگی اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے فنڈز مختص کرنے کی خاطر مزیدقرض لے سکتی ہے

جب کانگریس حکومت کو کسی مد میں رقم خرچ کرنے کی ہدایت کرتی ہے تو حکومت وہ فنڈز ادا کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ اسے بل کہا جاتا ہے۔ اس بل کو قومی قرض بھی کہتے ہیں اور یہ وہ رقم ہوتی ہے، جو حکومت گزشتہ مالی سال کے دوران پہلے ہی اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے لے چکی ہوتی ہے

امریکی حکومت قرض کی حد میں اضافے کی خواہاں ہے۔ کیوں کہ یکم جون تک حکومت کے پاس بلوں کی ادائیگی کے لیے رقم نہیں بچے گی

ایک زمانے میں یہ معمول کی بات تھی کانگریس قرضے کی حد بڑھانے کے لیے ووٹ دیا کرتی تھی کہ وزارت خزانہ بلوں میں ادائیگی کے لیے قرض لینے کا سلسلہ جاری رکھے، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں یہ ووٹنگ ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کی جانے لگی ہے

ایوانِ نمائندگان کے ری پبلیکن ارکان، جو حال ہی میں اکثریت میں آئے ہیں، اس وقت تک قرض کی حد بڑھانے سے انکار کر رہے ہیں جب تک صدر بائیڈن اور ڈیموکریٹک اراکین وفاقی اخراجات میں کٹوتی نہ کریں اور مستقبل کے اخراجات پر پابندیاں نہ لگائیں۔ اسی سلسلے میں حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات چل رہے ہیں اور ماہرین کے مطابق یکم جون سے پہلے اگر سمجھوتہ نہ ہو سکا تو ملک ڈیفالٹ کر جائے گا

 امریکہ کے ڈیفالٹ ہونے کے اندرون ملک اثرات

ایسی کوئی حتمی دستاویز تو نہیں ہے، جس سے یہ پتہ چلے کہ ڈیفالٹ کی صورت میں اندرون امریکہ کیا ہوگا، لیکن معاشی ماہرین کے مطابق یہ طے ہے کہ اس کے بہت دور رس نتائج نکلیں گے

وزیر خزانہ جینٹ یلین کا کہنا ہے کہ اس سے ملازمتیں اور کاروبار تباہ ہو جائیں گے، لاکھوں خاندانوں کو جو حکومت سے ملنے والی رقوم پر انحصار کرتے ہیں، ادائیگیاں نہیں ہو سکیں گی۔ سوشل سیکیورٹی, ریٹائرڈ فوجی اور فوجیوں کے خاندان سب متاثر ہوں گے

حکومتی عہدیداروں کا اندازہ ہے کہ اَسی لاکھ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہو سکتے ہیں اور معیشت پوری شدت سے کساد بازاری کا شکار ہو جائے گی

امریکی ڈیفالٹ کے عالمی سطح پر اثرات

اگر امریکہ جیسی بڑی معیشت ڈیفالٹ کرتی ہے، تو اس کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ عالمی سطح پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ مثال کے طور پر چینی فیکٹریوں کو، جو امریکہ کو الیکٹرانکس کا سامان بیچتی ہیں، آرڈرز ملنا بند ہو جائیں گے۔ سوئیٹزرلینڈ کے سرمایہ کاروں کو نقصان ہوگا۔ سری لنکا کی کمپنیاں اپنی کمزور کرنسی کے متبادل کے طور پر امریکی ڈالر کو استعمال نہیں کر سکیں گی۔ اور یوں یہ سلسلہ بہت دراز ہوتا جائے گا۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ اگر امریکہ نے ڈیفالٹ کیا تو ساری دنیا کی معیشتوں پر، جو پہلے ہی کمزور ہیں، اس کے گہرے اثرات پڑیں گے

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مالیات کے تجزیے سے متعلق معتبر کمپنی Moody’s Analytics کے چیف اکنامسٹ مارک زاندی کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کی وفاقی حکومت ڈیفالٹ کرتی ہے تو عالمی معیشت کا کوئی حصہ بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا

سمجھوتہ نہ ہونے کی صورت میں متبادل کیا ہے

بعض ڈیمو کریٹک اراکین کہتے ہیں کہ وہ ری پبلیکنز کی مدد کے بغیر اپنے طور پر قرض کی حد بڑھا سکتے ہیں۔ جب کہ پراگریسوز نے صدر بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ آئین کی چودہویں ترمیم کے تحت اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں، جس کے مطابق امریکہ میں سرکاری قرضوں میں درستگی پر سوال نہیں اٹھائے جانے چاہئیں

بہر حال کون سی بات درست ہے؟ کیا ہو سکتا ہے اور کیا ہوگا؟ اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہو جائے گا۔

Tags:

congress debt negotiationscost of livingcricket world cup 2023dave ramsey responds to the debt ceiling crisisdebt defaultdefaultdefault on debtdefault on debt ceilingeconomy defaulthouse of highlightshouse speaker mccarthyprice of the dollarthe dave ramsey showthe leadus debt defaultus debt default 2023us debt default hindius default on debtwho's next in the banking crisiswhy is there a banking crisis?World Economyworld news
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ان چار آن لائن دھوکوں سے خود کو ضرور بچائیں!

Next

’جوتے پہننا منع ہے‘ بھارتی گاؤں، جہاں عجیب قوانین لاگو ہیں!

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme