Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںسائنس و ٹیکنالوجی

انسانی آواز سے جسم میں خطرناک امراض کا پتہ چلانے والی ایپ

By Akhtar Rasool
ستمبر 15, 2022 2 Min Read
0

محققین انسانی آوازوں کا ایک ایسا ڈیٹا بیس بنا رہے ہیں، جسے وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی ٹولز کے ذریعے خطرناک بیماریوں کی تشخیص میں مدد لے سکیں گے

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی مالی اعانت سے چلنے والے ایسے پروجیکٹ کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں انسانی آواز کو کسی ایسی چیز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جسے بیماری کی تشخیص میں بائیو مارکر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے

یہ پروجیکٹ چار سال تک چلے گا اور اس دوران نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ 14 ملین ڈالر تک کی فنڈنگ ​​جمع کرسکتی ہے۔ جس کی مدد سے تحقیقی ٹیم ایک ایسی ایپ بنانا شروع کرے گی جو انسانی آواز کے ذریعے نمونیا، آٹزم، ڈپریشن، پارکنسن، الزائمر اور فالج جیسے امراض کی تشخیص کرسکے گی

عموی طور پر پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص کے لیے استعمال ہونے والے بائیو مارکر خون یا درجہ حرارت ہیں، تاہم اب سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انسان کی آواز سے ہی ان کے جسم میں پنپنے والی بیماریوں کا سراغ لگایا جا سکتا ہے اور اسی نکتے پر تحقیق جاری ہے

سائنسدانوں کے بقول اگر مذکورہ بالا امراض میں مبتلا افراد کی آوازوں کو ریکارڈ کر کے ایک ڈیٹا بنالیا جائے اور پھر آواز کی فریکوئنسی سے کسی دوسرے مریض کی آواز کا موازنہ کیا جائے تو نتائج حیران کن ہوں گے

ویل کارنیل میڈیسن کے انسٹیٹیوٹ فار کمپیوٹیشنل بائیو میڈیسن کے پروفیسر اور اس پروجیکٹ کے سرکردہ تفتیش کاروں میں سے ایک اولیور ایلیمینٹو کا کہنا ہے کہ “وائس ڈیٹا کے بارے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ شاید سب سے سستے قسم کے ڈیٹا میں سے ایک ہے جسے آپ لوگوں سے جمع کر سکتے ہیں یعنی یہ ایک انتہائی قابل رسائی قسم کی معلومات ہے

اسی طرح یو ایس ایف ہیلتھ کے ایک اوٹولرینگولوجسٹ اور دوسرے سرکردہ تفتیش کار یائل بینسوسن کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں کے مطالعے سے تصدیق ہوتی ہے کہ بیماری کی تشخیص میں مدد کے لیے انسانی آواز بھی کارگر ہے تاہم ابھی صرف ابتدا ہے، کافی کام کرنا باقی ہے۔ سب سے بڑا چیلنج ڈیٹا اکٹھا کرنے کے معیارات بنانا ہیں

خیال رہے کہ طبی محققین ہی نہیں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں بھی بیماریوں کی تشخیص کے لیے آواز کا استعمال کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں جیسے ایمازون جن کے پاس پیٹنٹ ہیں جو الیکسا کا استعمال کرتے ہوئے یہ معلوم کریں گے کہ آیا لوگوں کو جذباتی مسائل ڈپریشن، یا جسمانی امراض جیسے گلے کی سوزش کس حد تک سنگین ہے۔

Tags:

AppDetect Deseases
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

نازو کا جہیز اور سیلاب (افسانہ)

Next

لبنان میں اپنے ہی پیسے نکلواتے کے لیے مسلح خاتون کا بینک پر دھاوا، بینک عملے کو یرغمال بنانے کے واقعات بڑھنے لگے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme