Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

انسانی تاریخ میں وقت کے مختصر ترین دورانیے کی پیمائش میں سائنسدانوں کی کامیابی

By Akhtar Rasool
اکتوبر 21, 2020 2 Min Read
0

جرمنی کے سائنسدانوں نے وقت کے مختصر ترین دورانیے کی پیمائش میں کامیابی حاصل کر لی ہے جو صرف 247 زیپٹو سیکنڈ ہے۔ وقت کی یہ پیمائش ایک فوٹون کو ہائیڈروجن ایٹم کے ایک سرے سے دوسرے کونے تک کا فاصلہ (53 پیکومیٹر) طے کرنے کے مشاہدے میں کی گئی ہے.

واضح رہے کہ یہ آج تک کی انسانی تاریخ میں وقت کی مختصر ترین پیمائش ہے. اس سے قبل وقت کی مختصر ترین پیمائش کا ریکارڈ بھی جرمن سائنسدانوں ہی نے قائم کیا تھا، جو 850 زیپٹو سیکنڈ تھا۔ نیا ریکارڈ اس سے بھی 3.4 گنا مختصر ہے

َزیپٹو سیکنڈ کیا ہے؟
ایک زیپٹو سیکنڈ zeptosecond  سے مراد ’’ایک سیکنڈ کے ایک ارب ویں حصے کے بھی ایک ارب ویں حصے کا ایک ہزارواں حصہ‘‘ ہوتا ہے۔

دوسرے الفاظ میں وقت کا یہ دورانیہ اتنا مختصر ہے کہ اگر ہم ایک زیپٹو سیکنڈ کو ایک سیکنڈ تصور کریں، تو ہمارے مروجہ ’’ایک سیکنڈ‘‘ کا دورانیہ 31,700 ارب سال (اکتیس ہزار سات سو ارب سال) کے برابر ہوجائے گا!

وقت کی مختصر ترین پیمائش کے اس تازہ کارنامے کا سہرا  مشترکہ طور پر گوٹے یونیورسٹی فرینکفرٹ، ڈوئچے الیکٹرون سنکروٹرون ایکسلیریٹر (DESY) ہیمبرگ اور فرٹز ہیبر انسٹی ٹیوٹ برلن کے سائنسدانوں کے سر ہے. اس تحقیق کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’سائنس‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع کی گئی ہیں

اگرچہ یہ تجربہ بھی بنیادی طور پر ویسا ہی تھا جیسا 2016ع میں کیا گیا تھا، لیکن گزشتہ پیمائش کے لیے ہیلیم ایٹم اور الٹراوائیلٹ شعاعیں استعمال کی گئی تھیں جبکہ نئے تجربے میں ہائیڈروجن ایٹموں پر ایکسریز کی نپی تلی بوچھاڑ کرکے وقت کی اس سے بھی مختصر پیمائش ممکن بنائی گئی

واضح رہے بیشتر اہم اور بنیادی نوعیت کے حامل مظاہرِ فطرت انتہائی مختصر وقت میں رونما ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے مختصر سے مختصر دورانیوں کی پیمائش ہمارے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

1999ع میں کیمیا کا نوبل انعام مصر کے پروفیسر ڈاکٹر احمد زویل کو ’’فیمٹو کیمسٹری‘‘ میں کلیدی کردار ادا کرنے پر دیا گیا تھا، جس کے ذریعے پہلی بار یہ ممکن ہوا تھا کہ کسی بھی کیمیائی عمل کا مشاہدہ ایک سیکنڈ کے دس ہزار کھرب ویں حصے جتنے مختصر پیمانے پر کیا جاسکے.

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

ٹیراہرٹز ٹیکنالوجی کی مدد سے چھاتی کے کینسر کی ابتدائی تشخیص میں بڑی کامیابی

Next

غذائی قلت کے اثرات، پاکستان میں 13 فیصد بچے معذوری کا شکار

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme