Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

ٹیراہرٹز ٹیکنالوجی کی مدد سے چھاتی کے کینسر کی ابتدائی تشخیص میں بڑی کامیابی

By Akhtar Rasool
اکتوبر 21, 2020 2 Min Read
0

چھاتی کا کینسر اس لحاظ سے بھی خطرناک سمجھا جاتا ہے کہ یہ اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ اپنی جڑیں پھیلا چکا ہوتا ہے۔ لیکن اب اوساکا یونیورسٹی کے ماہرین نے ٹیراہرٹز ٹیکنالوجی کی مدد سے چھاتی کے کینسر کی ابتدائی تشخیص میں کامیابی حاصل کر لی ہے، جس کی بدولت صرف نصف ملی میٹر کی رسولی کی شناخت بھی اب ممکن ہو گئی ہے۔

فرانس کے کچھ اداروں اور اوساکا یونیورسٹی نے مل کر ٹیراہرٹز ٹیکنالوجی کو استعمال کیا ہے۔ تصویر کشی کے اس عمل کے ذریعے وہ رسولیاں بھی دیکھی جاسکتی ہیں جن کی شناخت اس سے پہلے ممکن نہ تھی۔ اس کینسر کے نمونے کو رنگنے (اسٹیننگ) کا عمل بالکل نہیں ہوتا اور تصویر بالکل شفاف ظاہر ہوتی ہے۔ اس طرح ہزاروں لاکھوں خواتین کو موت کے منہ میں جانے سے بچانا ممکن ہو سکے گا، کیونکہ ابتدائی شناخت کے بعد کینسر کو قابو کرنا آسان ہوتا ہے۔

بریسٹ کینسر دو طرح کے ہوتے ہیں حملہ آور( انویسوو) اور غیرحملہ آور (نان انویسیوو) ۔ لیکن پہلی خطرناک قسم میں کینسر چھاتی کی نلیوں (ڈکٹ) میں چلاجاتا ہے اور تیزی سے چھاتی اور پورے جسم میں پھیل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں اقسام کا کینسر جلد شناخت ہونے کے بعد اس کا علاج اور پیچیدگیوں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے

ٹیراہرٹز کی سطح پر دیکھنے کے عمل سے چند ملی میٹر کی تبدیلی یا رسولی کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں لیزر سے ٹیراہرٹز شعاعیں خارج کرکے براہِ راست چھاتی کے سرطان کے نمونے پر ڈالی جاتی ہیں

اس تکنیک کے بانی کوسوکے اوکاڈے اور ان کے ساتھیوں نے اس عمل سے 0.5 ملی میٹر سے چھوٹی رسولی دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں زبردست کامیابی ملی ہے اور روایتی طریقوں کے مقابلے میں یہ عمل 1000 گنا زیادہ مؤثر اور قابلِ عمل ہے، اگلے مرحلے میں اسے مشین لرننگ  سے گزار کر مزید بہتر بنایا جائے گا۔

Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

روس کی طرح امریکا بھی شکست کھا کر افغانستان سے بھاگ رہا ہے، گلبدین حکمت یار

Next

انسانی تاریخ میں وقت کے مختصر ترین دورانیے کی پیمائش میں سائنسدانوں کی کامیابی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme